بابری مسجد گرانے میں نرسمہارائو کی مرضی بھی شامل تھی
صحافی کلدیپ نائرکی خودنوشت میں شامل چشم کشا انکشافات سے انتخاب
July 14, 2012
بھارت کے ممتاز دانشور و صحافی،89 سالہ کلدیپ نائر نے قائداعظم محمد علی جناح کو بڑے قریب سے دیکھا، برلا مندرمیں گاندھی جی کو دعا کرتے پایا اور پنڈت نہرو پر چبھتے سوالوں کے حملے کیے۔ آپ نے شاستری اور گووند بلبھ پنت کے ساتھ کام کیا۔ گویا نائر صاحب نے ایسے یادگار اور تاریخی دور میں قد آور سیاست دانوں کے ساتھ وقت گزارا جب ہندوستان اپنی تاریخ کے بڑے ڈرامائی دور سے گزر رہا تھا۔انھوں نے اپنی آنکھوں سے برصغیر پاک و ہند میں نئی تاریخ جنم لیتے ہوئے دیکھی اور ان بے مثال ہستیوں کے قرب میں رہے جنہیں ہم صرف تصاویر، تحریروں یا دستاویزی فلموں کے حوالے سے جانتے ہیں۔حال ہی میں ان کی آپ بیتی ''Beyond The Lines'' منظر عام پر آئی، تو حسب توقع اس میں کئی حیرت انگیز اور دلچسپ انکشافات سامنے آئے۔ اس شاندار آپ بیتی میں سے چشم کشاو نادر واقعات کا انتخاب پیش خدمت ہے۔
یہ 1993ء کے اوائل کی بات ہے، میں مدھو لیمائے (1992ء۔1995ء) کے پاس بیٹھا تھا۔ (مدھو لیمائے (Madhu Limaye) مشہور بھارتی سوشلسٹ لیڈر اور دانشور تھے۔ 1977ء تا 1979ء جنتا دل کے جنرل سیکریٹری رہے۔ اسی سیاسی جماعت نے 1977ء کے انتخابات میں اندرا گاندھی کی کانگریس کو شکست دی تھی۔) تب بابری مسجد ڈھے جانے کے بعد کئی جگہ ہندو مسلم فساد جاری تھا۔ وہ کہنے لگے :
''آج میں تمہارے سامنے ایک بڑا اہم انکشاف کرنے لگا ہوں۔ جب 6 دسمبر 1992ء کی صبح (انتہا پسند ہند جماعت) وشوا ہندو پریشد کے سیوک (کارکن) طے شدہ منصوبے کے مطابق بابری مسجد ڈھانے لگے، تو بھارتی وزیراعظم،نرسمہا رائو پوجا کرنے بیٹھ گئے۔ یہ پوجا اسی وقت ختم ہوئی جب وزیراعظم کے پرسنل سیکریٹری نے ان کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بتایا کہ مسجد ڈھادی گئی۔''
یہ سن کر مجھے تعجب نہیں ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہنرسمہا رائو حکومت ہی بابری مسجد ڈھانے کی ذمے دار ہے۔ نومبر 1992ء میں نرسمہا رائو نے ہم صحافیوں کو بلایا تاکہ بتاسکیں، حکومت بابری مسجد محفوظ کرنے کی خاطر کس قسم اقدامات کررہی ہے۔ اس ملاقات میں بھارتی وزیراعظم مجھے غیر سنجیدہ نظر آئے اور سوالات کے گول مول جواب دیتے رہے۔
اس میٹنگ کے کچھ عرصے بعد ہزارہا انتہا پسند ہندو اور ان کے رہنما کسی روک ٹوک کے بغیر اجودھیا پہنچ گئے۔ تب یوپی میں ہندو قوم پرست جماعت کی حکومت تھی اور اس کے وزیراعلیٰ، کلیان سنگھ نے بھی بابری مسجد کی حفاظت کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا۔ چنانچہ اپنے قائدین کی قیادت میں انتہا پسندوں نے بابری مسجد گراڈالی۔ یوں دن دیہاڑے سیکولرازم کا قتل ہو گیا۔
بعدازاں فرقہ ورانہ فسادات شروع ہوئے، تونرسمہا رائو نے مجھ سمیت چند سینئر صحافیوں کو اپنے گھر بلایا۔ بھارتی وزیراعظم کی جوشیلی باتوں کا زور اسی نکتے پر تھا کہ حکومت نے توڑ پھوڑ روکنے کی بھر پور کوششیں کیں مگر کلیان سنگھ دغا دے گیا۔
میں نے سوال کیا کہ جب آ پ نے کلیان سنگھ حکومت برطرف کردی، تو بابری مسجد کی جگہ راتوں رات رام مندر کیسے بن گیا؟ بولے ''حکومت نے بلوائی تتر بتر کرنے کے لیے فوج بھجوائی تھی مگر جہاز خراب موسم کے باعث لکھنو نہیں اتر سکا۔'' موصوف اس سوال کا بھی شافی جواب نہ سکے کہ اجودھیا میں موجود وفاقی حکومت کے سکیورٹی دستے کیوں حرکت میں نہیں آئے؟ بہرحال انھوں نے یقین دلایا کہ رام مندر جلد ڈھا دیا جائے گا۔
انہی دنوں کانگریس میں بھی بابری مسجد ڈھے جانے پر نہیں بلکہ اندرونی اکھاڑ پچھاڑ کے باعث زلزلہ آیا ہوا تھا۔ دراصل سونیا گاندھی کونرسمہا رائو پسند نہیں تھے۔ چنانچہ وہ پارٹی معاملات سے الگ تھلگ ہوگئیں۔ لیکن جب کانگریس کو زوال آیا تو کئی کانگریسی رہنما چاہنے لگے کہ سونیا گاندھی جماعت کی باگ دوڑ سنبھال لیں۔ سونیا بھارت میں سیکولر پسندی کو کمزور ہوتے دیکھ کر پریشان تھیں۔ چنانچہ انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کی خاطر انھوں نے میدان سیاست میں بذریعہ کانگریس آنے کا فیصلہ کرلیا۔
(یہ واضح رہے کہ نرسمہا رائو کو ''پوشیدہ انتہا پسند ہندو'' قراردینے پر بھارت میں خاصا ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ان کے بیٹے، رنگا رائو نے کلدیپ نائر کے بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کے والد تو مسلمانوں کے حمایتی و ساتھی تھے۔ تاہم نرسمہا رائو کا عمل کچھ اور ہی عیاں کرتا ہے۔ 1984ء میں جب اندرا گاندھی قتل ہوئیں، تو نئی دہلی سمیت بھارت کے بعض شہروں میں مشتعل ہندو سکھ گھرانوں پر حملے کرنے لگے۔اس وقت نرسمہا رائو وفاقی وزیر داخلہ تھے۔اور تب بھی تین دن بعد فوج آئی اور اس دوران سیکڑوں سکھ مار ڈالے گئے۔
اسی طرح 24 نومبر 2010ء کو وشوا ہندو پرشید کے بین الاقوامی صدر، اشوک سنگل نے انکشاف کیا کہ بھارتی وزیراعظم نرسمہا رائو بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنتا دیکھنا چاہتے تھے۔ چنانچہ انہی کی خواہش پر حکومت نے بابری مسجد سے متصل 70 ایکڑ پر مشتمل رقبہ خرید لیا۔ اسی پر پھر رام مندر بنایا گیا جو زیر تعمیر ہے۔ حالانکہ نرسمہا رائو نے اسے گرانے کا وعدہ کیا تھا۔)
(2) کیا شاستری کو زہر دیا گیا؟
11 جنوری 1966ء کی رات میں عالم نیند میں تھا۔ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ شاستری جان کنی کی حالت میں ہیں۔ تبھی دروازے پر زور دار دستک سے میری آنکھ کھل گئی۔ ایک روسی خاتون نے بتایا ''تمہارے وزیراعظم کی حالت بڑی خراب ہوچکی۔'' یہ سن کر میں ہکا بکا رہ گیا۔میں نے پھر بہ سرعت کپڑے پہنے اور ایک بھارتی اہلکار کے ساتھ شاستری جی کی قیام گاہ پہنچا جو کچھ دور واقع تھی۔ اُدھر برآمدے میں (روسی وزیراعظم) ایلکسی کوسیجن کھڑے تھے۔ انھوں نے ہاتھوں کے اشارے سے بتایا کہ شاستری چل بسے۔ ان کے پیچھے کمرہ طعام تھا۔ وہاں ایک بڑی میز پر روسی ڈاکٹروں کی ٹیم بیٹھی بھارتی معالج، ڈاکٹر آر این چوغ سے محو گفتگو تھی۔ وہ شاستری کے ذاتی معالج تھے۔
میں شاستری کے کمرے میں پہنچا۔ وہاں ایک دیوہیکل بستر پر ان کی لاش پڑی تھی۔ لگتا تھا، سفید بورڈ پر کوئی سیاہ نقطہ لگاہو۔ نیچے قالین پر ان کی جوتیاں ترتیب سے پڑی تھیں۔ تاہم کونے میں موجود ڈریسنگ ٹیبل پر ایک تھرماس اوندھا پڑا نظر آیا۔ لگتا تھا کہ شاستری نے اسے کھولنے کی جدوجہد کی تھی۔ کمرے میں اور کوئی شے بے ترتیب نہیں تھی۔
ڈریسنگ ٹیبل پر تہہ ہوا بھارتی جھنڈا پڑا تھا۔ وہ میں نے دیگر بھارتی اہل کاروں کے ساتھ مل کر لاش پر ڈال دیا۔ میں پھر شاستری کے ذاتی معتمد، جگن ناتھ سے ملنے گیا۔ اس نے مجھے واقعے کی ساری تفصیل بتائی۔ہوا یہ کہ الوداعی تقریب میں شرکت کرکے شاستری رات دس بجے اپنی قیام گاہ پہنچے۔ وہاں ان کے ذاتی ملازم ،رام ناتھ نے انھیں کھانا کھلایا۔ یہ کھانا روس میں بھارتی سفیر، ٹی این کول کے باورچی، جان محمد نے تیار کیا تھا۔
کھانے کے بعد رام ناتھ دودھ لے آیا۔ شاستری سونے سے قبل دودھ پینے کے عادی تھے۔ دودھ پی کر وہ سوجاتے۔ لیکن اس رات وہ اپنے کمرے میں ٹہلنے لگے۔ کچھ دیر بعد انھوں نے پانی مانگا۔ رام ناتھ نے ڈریسنگ ٹیبل والے فلاسک سے پانی پلایا (اور پھر سیدھا رکھ دیا)۔ وہ پھر شاستری کے کہنے پر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
بھارتی وفد کو صبح کابل، افغانستان پہنچنا تھا۔ چنانچہ بھارتی اہل کار اپنا سامان باندھنے لگے۔ وہ رات ایک بجے اپنی تیاریوں میں محو تھے کہ سامنے اپنے وزیراعظم کو کھڑے پاکر حیران رہ گئے۔ وہ کچھ پریشان نظر آرہے تھے۔ شاستری نے تبھی بہ دقت بولتے ہوئے پوچھا ''ڈاکٹر صاحب کہاں ہیں؟''
اسی وقت انھیں زور کی کھانسی آئی اور وہ گرتے گرتے بچے۔ بھارتی اہلکار پھر انھیں سہارا دے کر بستر پر لے گئے۔ لیٹتے ہی شاستری نے سینے پر ہاتھ رکھا اور بیہوش ہوگئے۔ اس کے بعد انھوں نے آنکھ نہ کھولی۔ ڈاکٹروں نے شاستری کو بچانے کی سرتوڑ کوششیں کیں مگر وہ رائیگاں گئیں۔ شاید بھارتی اہلکاروں کے پاس جانے سے قبل شاستری نے تھرماس سے پانی پینے کی سعی کی تھی مگر ناکام رہے۔
بھارتی وزیراعظم کی موت سے پاکستان کے صدر ایوب خان کو حقیقی صدمہ پہنچا۔ وہ صبح چار بجے شاستری کی قیام گاہ پہنچے۔ وہاں انھوں نے ہم سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ''یہ وہ امن پسند آدمی تھا جس نے بھارت اور پاکستان کے مابین اختلافات ختم کراتے ہوئے اپنی جان دے دی۔'' بعدازاں انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :
''شاستری سے میری ذہنی ہم آہنگی ہوگئی تھی۔ اگر وہ زندہ رہتے، تو مجھے یقین ہے کہ پاک بھارت اپنے تمام اختلافات دور کرنے میں کامیاب ہوجاتے۔''
صبح چار بجے ہی پاکستان کے سیکریٹری خارجہ، عزیز احمد نے اپنے وزیر خارجہ، ذوالفقار علی بھٹو کو فون کیا اور شاستری کی موت کا بتایا۔ بھٹو صاحب نیند میں تھے، انھیں صرف لفظ ''موت'' ہی سمجھ آیا۔ بولے ''دونوں میں سے کون سا حرام زادہ مرگیا؟''
جب بھارتی وفد تاشقند سے دہلی واپس پہنچا، تو اگلے ہی دن شاستری کی بیوہ، للیتا شاستری مجھے ملنے آئیں۔ وہ پوچھنا چاہتی تھیں کہ شاستری کا بدن نیلا کیوں پڑگیا تھا؟ میں نے بتایا ''جب لاش کو عارضی طور پر حنوط کیا جائے، تو وہ نیلا پڑجاتا ہے۔'' تب انھوں نے کہا کہ شاستری صاحب کے جسم پر کٹائو کے نشانات بھی تھے۔ میں اس بابت کچھ نہ کہہ سکا کیونکہ میں نے لاش نہیں دیکھی تھی۔
تاہم میں یہ جان کر حیرت زدہ رہ گیا کہ نہ تاشقند اور نہ ہی دہلی میں لاش کا پوسٹ مارٹم ہوا۔ یہ حقیقتاً غیر معمولی بات تھی۔ اسی لیے بیگم شاستری اور وزیراعظم کے دیگر اعزہ کو شک ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ شاستری کے اہل خانہ کو یقین ہوگیا کہ انھیں زہر دے کر مار ڈالا گیا۔
2 اکتوبر 1970ء کو شاستری کی سالگرہ پر بیگم للیتا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قتل کی تحقیقات کرائی جائیں۔ انھیں شک تھا کہ ٹی این کول کے باورچی، جان محمد نے وزیراعظم کے کھانے میں زہر ملا دیا۔ تاہم 1965ء میں جب شاستری روس گئے تھے، تو جان محمدہی ان کے لیے کھانے پکاتا رہا تھا۔ لہٰذا اب اسے زہر ملانے کی کیا ضرورت تھی؟
بہرحال کانگریس پارٹی کے بعض سینئر رہنمائوں نے بھی تحقیقات کرانے کی حمایت کر دی۔ اواخر اکتوبر میں، میں نے کانگریسی رہنما، مرار جی ڈیسائی سے معاملے کے متعلق استفسار کیا۔ بولے ''بھائی، اسے سیاسی رنگ دے دیا گیا۔ شاستری حملہ قلب (ہارٹ اٹیک) کے باعث ہی ہلاک ہوئے۔ مجھے ان کے ڈاکٹروں نے خود یہ بتایا۔''
اس کے باوجود شاستری کی موت سے متعلق ایک انتہائی خفیہ رپورٹ بھارتی حکومت کے قبضے میں ہے۔ یہ اتنی خفیہ ہے کہ حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیات کے علاوہ اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ لہٰذا بھارتی وزیراعظم کی موت کا اصل سبب اب بھی راز ہی ہے۔
(3) چین۔ بھارت جنگ میں پاکستانیوں کی مدد
7 مارچ 1961ء کو گووند بلبھ پنتھ چل بسے تو لعل بہادر شاستری وزیر داخلہ بنے۔ انھوں نے دو اہلکاروںکے علاوہ اپنا سارا دفتری عملہ تبدیل کردیا۔ ایک گاڑی تیز بھگانے والا ڈرائیور تھا اور دوسرا میں! مجھے وہ ''لمبو پریس والا'' کہہ کر پکارتے تھے۔ جلد ہی میں ان کے بہت قریب ہوگیا۔ وہ سادگی اور انکسار کا مجسمہ تھے۔ میں آج کے (بھارتی) سیاست دانوں سے ان کا مقابلہ کروں، تو میرا سرشرم سے جھک جاتا ہے۔
1961ء کے وسط تک چینیوں نے سنکیانگ میں تقریباً بارہ ہزار مربع میل بھارتی علاقے پر قبضہ کرلیا۔ چنانچہ وزیرعظم پنڈت نہرو نے بھارتی بری فوج کے سربراہ ،جنرل پران تھاپر کو حکم دیا کہ چینی پیچھے دھکیلے جائیں۔ مگر جنرل تھاپر ''شہد کی مکھیوں کے چھتے'' کو ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہ تھا۔
اب نائب وزیراعظم، کرشنا مینن کی سربراہی میں ایک میٹنگ ہوئی جو چین سے جنگ چاہتا تھا۔ جنرل تھاپر کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج جنگ نہیں لڑسکتی کیونکہ 6 چینیوں کے مقابلے میں صرف 1 بھارتی فوجی ہے۔ کرشنا نے خود اعتمادی سے کہا ''جنیوا میںچینی نائب وزیراعظم، چین یی سے میری ملاقات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحدی تنازع پر چین کبھی ہم سے جنگ نہیں کرے گا۔''
کئی برس بعد میں نے کرشنا مینن سے دریافت کیا کہ چین بھارت جنگ سے متعلق جو باتیں جنرل تھاپر نے مجھے بتائی ہیں، کیا وہ درست ہیں؟ کرشنا بولے ''وہ بے دانت کی بوڑھی کھوسٹ عورت... اسے جنگ لڑنی ہی نہیں آتی تھی۔''
1960ء میں جب جنرل تھاپر نے بھارتی بری فوج کی کمان سنبھالی، تو حکومت کو یہ نوٹ بھجوایا تھا: ''بھارتی فوج کا اسلحہ فرسودہ ہوچکا۔ اگرچین یا پاکستان سے جنگ ہوئی، تو وہ ہمیں باآسانی شکست دے سکتے ہیں۔'' یہ نوٹ اسمبلی میں نہرو کے بیان سے بالکل برعکس تھا جو میں نے پریس گیلری میں سنا ''آزادی کے بعد سے پہلی بار ہمارا دفاع مضبوط اور بہترین حالت میں ہے۔''
لگتا تھا کہ اپنی افواج کو جدید اسلحہ فراہم کیے بغیر حکومت چین سے دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کرچکی تھی۔ درج بالا میٹنگ میں صرف وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹری، وشواناتھ نے جنرل تھاپر کی حمایت کی۔ وشواناتھ کا کہنا تھا کہ اگر بھارتی فوج کمزور ہے، تو جنگ کرنا بے وقوفی ہوگی۔ تاہم کرشنا نے اس کا اعتراض مسترد کردیا۔ جنرل تھاپر نے فیصلہ کیا کہ وہ معاملے پہ وزیراعظم سے خود گفتگو کرے۔ وزیراعظم ہائوس میں اس کی ملاقات کیبنٹ سیکریٹری، ایس ایس کھیرا سے ہوئی۔ کھیرا نے اسے کہا ''آپ پنڈت جی سے نہ ملیے، وہ یہی سمجھیں گے کہ آپ لڑنے سے گھبرارہے ہیں۔'' مگر جنرل اپنے باس سے ملنا چاہتا تھا تاکہ حقائق ان کے سامنے لاسکے۔
ایس ایس کھیرا نے اسے یہ بھی بتایا کہ اگر بھارت نے جنگ نہ کی، تو نہرو حکومت جاتی رہے گی۔ اس امر سے جنرل تھاپر کو احساس ہوگیا کہ سیاسی وجوہ کی بنا پر جنگ ہونے جارہی ہے۔
جنرل تھاپر بہرحال نہرو سے ملا اور انھیں بتایا کہ بھارتی افواج جنگ کے لیے تیار نہیں، ان کے پاس اسلحہ پرانا اور کم ہے۔ پھر تیاری بھی واجبی ہے۔ نہرو کہنے لگے ''مجھے تو کرشنا نے بتایا ہے کہ بھارت اپنا بیشتر اسلحہ خود تیار کررہا ہے۔'' جنرل نے اس بات کو غلط قرار دیتے ہوئے اپنے نوٹ کا حوالہ دیا۔ نہرو نے بتایا کہ انھوں نے وہ نوٹ پڑھا ہی نہیں۔
نہرو نے آخر اپنے جنرل کو لڑنے پر آمادہ کرلیا۔ نہرو نے اسے یقین دلایا کہ چینی فوج مزاحمت نہیں کرے گی۔ (حالانکہ چینی جرنیل مسلسل یہ کہہ رہے تھے کہ اگر بھارت نے حملہ کیا، تو اسے اپنے جرم کا خمیازہ بھگتنا ہوگا)۔ ظاہر ہے، ہر جنرل کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ فاتحانہ مارچ کرتا دشمن کے علاقے میں جاپہنچے۔ جنرل تھاپر کے من میں بھی ایسا ہی خواب بسا تھا۔ چنانچہ جنگی تیاریوں کا آغاز ہوگیا۔ بعدازاں 29 جولائی 1970ء کو جنرل نے مجھے بتایا ''تب مجھے چاہیے تھا کہ استعفیٰ دے دیتا... یوں شاید میرا ملک شکست کی ذلت سے بچ جاتا۔''
اس دوران کرشنا مینن نے یہ ہدایات جاری کر دیں کہ پاکستانی سرحد پر ایک بھی بھارتی فوجی نقل و حرکت نہ کرے۔ اگرچہ روز ِاول سے بھارتی حکومت کا یہ نظریہ چلا آرہا تھا کہ ایک نہ ایک دن پاکستان سے جنگ ہونی ہے۔ چنانچہ وزارت دفاع نے اس جنگ سے متعلق سارے متعلقہ تفصیلی منصوبے تیار کررکھے تھے۔ چین کی سرحد کھلی چھوڑ دی گئی کیونکہ وہاں سے حملے کا امکان نہیں تھا۔اگست 1962ء میں چین نے بھارتی علاقوں میں دراندازی کا آغاز کیا۔ تب بھی کرشنا مینن یہی واویلا مچا رہا تھا کہ پاکستانی فوج بھارت پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔
اتفاق سے انہی دنوں پاکستان میں بھارتی سفیر، راجیشوار دیال نئی دہلی آئے ہوئے تھے۔ بعدازاں دیال نے مجھے بتایا، ایک دن وزارت دفاع نے اسے بلوا بھیجا۔ جب وہ وزارت کے دفتر پہنچا، تو یہ دیکھ کر حیران ہواکہ ایک کمرے میں کرشنا مینن اور جنرل تھاپر سمیت کئی آرمی کمانڈر براجمان ہیں۔ دیال ابھی صحیح طرح بیٹھا بھی نہیں تھا کہ کرشنا نے کہا ''جنرلوں کو بتائو کہ پاکستانی بھارتی سرحد پر کیسی جنگی تیاریاں کررہے ہیں؟
اس سے پہلے کہ دیال کچھ بولتا، جنرل تھاپر نے اسے پنجابی زبان میں کہا ''اس کے جال میں نہ آنا۔ پاکستان کو خطرہ بناکر پیش کرنا اس کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔'' (کرشنا مینن پنجابی سے ناواقف تھا)۔
دیال نے حاضرین کو بتایا کہ اسے پاکستانیوں کی جنگی تیاریوں کے متعلق کچھ علم نہیں۔ اور یہ کہ نئی دہلی آتے ہوئے اسے ان تیاریوں کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ یہ سن کر کرشنا کا چہرہ اترگیا۔ پھر اس نے دیال سے کہا ''تم پاکستان جاکر تحقیق کرو اور یہ رپورٹ بھجوائو کہ واقعی پاکستانی فوج جنگی تیاریاں نہیں کررہی۔''
جنرل تھاپر پاکستانی سرحدوں پر تعینات فوج ہٹاکر چین کی طرف لے جانا چاہتا تھا، مگر ''مخصوص بھارتی نظریے'' کی وجہ سے خائف اور خاموش رہا۔ مگر اب صورت حال بدل چکی تھی۔ چنانچہ اس نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ ایک ڈویژن فوج پاکستان سے ہٹاکر چینی سرحد پہ لگائی جائے۔ پنڈت نہرو نے فوراً مطالبہ قبول کرلیا۔
اواخر اکتوبر 1962ء میں جنگ شروع ہوگئی۔ اسی دوران شاہ ایران نے ایک خط جنرل ایوب خان کو لکھا۔ اس کی ایک نقل شاہ نے نہرو کو بھی بھجوائی (اور جو میں نے بھی دیکھی)۔ اس میں ایوب خان کو پیغام دیا گیا کہ پاکستانی فوجی بھی بھارتیوں کے شانہ بشانہ ''سرخ دیو'' کے خلاف جنگ میں حصہ لیں۔
خط کی نقل دیکھتے ہوئے مجھے یاد آیا، جب میں لاء کالج، لاہور میں زیر تعلیم تھا، تو ایک بار جناح صاحب تشریف لائے۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ اگر تیسری قوت بھارت پر حملہ آور ہوئی، تو پاکستان کیسا ردعمل ظاہر کرے گا؟ جناح صاحب نے کہا ''ہمارے فوجی بھارتی فوجیوں کے ساتھ لڑیں گے۔''
اُس وقت مغربی قوتیں چاہتی تھیں کہ پاکستان بھارت کی مدد کرے۔ ایوب خان نے انھیں بتایا کہ اس وقت بھارت بڑی کمزور پوزیشن میں ہے۔ ہمارا اس پر حملہ نہ کرنا ہی اظہار ِدوستی اور امداد کا ایک طریقہ ہے۔ جب جنگ ختم ہوگئی، تو ایک دن شاستری جی سے باتوں کے دوران شاہ ایران کے خط کا ذکر آیا۔ وہ کہنے لگے ''اگر پاکستانی فوجی ہمارے ساتھ لڑتے اور ہمارے فوجیوں کے ساتھ اپنا خون بہاتے، تو بعد میں وہ کشمیر بھی مانگتے، تو ہمارے لیے نہ کرنا مشکل ہوجاتا۔''
میرے خیال میں انھوں نے بالکل درست کہا کیونکہ برصغیر میں فیصلے کرتے ہوئے جذبات بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
(4) ''ہم بم بنا چکے''...ڈاکٹر عبدالقدیر خان
یہ 1987ء کی بات ہے، روزنامہ مسلم، اسلام آباد کے مدیر، مشاہد حسین نے مجھے اپنی شادی کی دعوت پر بلایا۔ مشاہد میرے اچھے دوست تھے۔ درحقیقت میں نے ہی انھیں مشورہ دیا تھا کہ وہ شعبہ صحافت میں آئیں، عمدہ صحافی ثابت ہوں گے۔اور یہ پیشن گوئی درست ثابت ہوئی۔ ہوائی اڈے پر مشاہد نے میرا استقبال کیا اور بتایا کہ وہ مجھے ایک زبردست تحفہ دینا چاہتے ہیں۔ پھر مشاہد نے میرے کان میں سرگوشی کی ''ڈاکٹر عبدالقدیر خان آپ سے ملنے پر رضا مند ہوگئے۔''
میں بھونچکا رہ گیا۔ درست کہ میں مشاہد سے کئی بار کہہ چکا تھا کہ ڈاکٹر خان سے ملوائو، لیکن مجھے امید نہ تھی کہ وہ یہ کٹھن مرحلہ سرکر لے گا۔مقررہ دن ہم ڈاکٹر صاحب کے گھر پہنچے۔ وہ برآمدے میں بیٹھے ہمارا انتظار کررہے تھے۔ مرکزی دروازے پر میری کوئی تلاشی نہیں ہوئی، مجھے یقین ہوگیا کہ حکومت نے بھی اس ملاقات کی منظوری دے ڈالی۔
کمرہ طعام کی سمت بڑھتے ہوئے ڈاکٹر خان بولے ''میں آپ کی تحریریں پڑھتا رہتا ہوں۔ آپ کا پرستار ہوں۔'' پھر انھوں نے اپنی داستان ہجرت مختصراً بتائی اور کہا ''بھوپال میں میرے ساتھ بڑا برا سلوک ہوا۔'' میں نے انھیں بتایا کہ میری جنم بھومی سیالکوٹ ہے۔ وہاں سے بھارت جاتے ہوئے مجھے بھی کئی آفتوں سے گزرنا پڑا۔ بہرحال جلد ہی بات دوسری طرف مڑگئی اور میں نے کہا ''کیک بہت مزے دار ہے'' ڈاکٹر خان نے بتایا ''یہ میری بیگم نے آپ کی خاطر تیار کیا ہے۔''
باتوں باتوں میں میں کہہ بیٹھا کہ ایک ولندیزی عدالت سے آپ کو سزا بھی تو ہوئی تھی۔ شاید آپ نے ان کی کسی ایٹمی لیبارٹری سے معلومات ''چرا'' لیں۔ یہ سن کر ڈاکٹر خان جذباتی ہوگئے اور بآواز بلند بولے کہ یہ محض الزام تھا اور ولندیزی عدالت نے بھی مجھے باعزت طور پر رہا کردیا۔
میں نے پھر سوال کیا کہ کبھی بھارتیوں نے کوشش کی کہ وہ پاکستان کے ایٹمی پلانٹ میں داخل ہوسکیں؟ اس سوال پر ڈاکٹر خان کا موڈ بحال ہوگیا۔ انھوں نے قہقہہ لگایا اور بولے ''ہاں، نئی دہلی نے ایک میجر سمیت چند جاسوس اس سلسلے میں بھیجے تھے مگر سبھی گرفتار کرلیے گئے۔''
دوران انٹرویو میری بھر پور کوشش یہ تھی کہ کسی طرح جان لوں، کیا پاکستان نے ایٹم بم بنالیا ؟ تاہم جب بھی میں نے یہ معاملہ سامنے رکھا، ڈاکٹر صاحب طرح دے جاتے۔ بہرحال میں نے اس امر پر انھیں خراج تحسین پیش کیا کہ وہ برصغیر پاک و ہند میں دو پی ایچ ڈی ڈگریاں (فلزیات و طبیعات) رکھنے والے واحد سائنس داں ہیں۔ پھر دریافت کیا کہ کیا پاکستانی ایٹمی منصوبے میں غیر ملکی بھی شامل ہیں؟ انھوں نے فخر سے بتایا کہ ان کی ٹیم صرف پاکستانیوں پر مشتمل ہے۔''
جب میں ڈاکٹر صاحب سے اپنا مدعا اگلوانے میں ناکام رہا، تو فیصلہ کیا کہ کسی نہ کسی طرح انھیں جذباتی کر دیا جائے، شاید جذبات میں آکر وہ سچ سامنے لے آتے۔ چنانچہ میں نے انھیں بتایا '' ڈاکٹر ہومی سیتھنا (بھارت میں پہلا ایٹمی ری ایکٹر لگانے والے سائنس داں) کا دعویٰ ہے، پاکستان ایسے ہنر مند اورسامان نہیں رکھتا کہ وہاں ایٹم بم بنایا جا سکے۔ لہٰذا پاکستانیوں کی طرف توجہ دے کر اپنا وقت ضایع کرنے کی ضرورت نہیں۔''
حسب دل خواہ، یہ سن کر ڈاکٹر خان کا چہرہ لال چقندر ہوگیا۔ وہ میز پر اپنا ہاتھ مسلسل مارتے ہوئے گویا ہوئے ''جو ایسا سمجھتے ہیں، انھیں بتادیں کہ ہم بنا چکے۔''
مشاہد میرے قریب بیٹھے تھے، یہ سنتے ہی وہ ہڑبڑا سے گئے۔ ڈاکٹر خان کا انکشاف ہی بھونچکا کر دینے والا تھا۔ تاہم میں نے تبصرہ کیا ''دعویٰ کرنا آسان ہے، ثبوت بھی تو ہونے چاہئیں۔ پاکستانیوں نے ابھی تک کوئی ایٹمی دھماکہ نہیں کیا۔''
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کہنے لگے ''ہم لیبارٹری میں اپنے ایٹم بم کا تجربہ کرچکے۔ اب ایسے جدید ترین کمپیوٹر آچکے کہ لیبارٹری ہی میں ان کے ذریعے ایٹم بم پھٹنے کی شدت و طاقت جانچی جاسکے۔ لیبارٹری تجربات کے نتائج سے ہم مطمئن ہیں۔ ہمارا بم اس سے بڑا ہے جو بھارت نے 18 مئی 1974ء کو پھوڑا تھا۔''
میں نے اگلا سوال داغا ''اب تک آپ نے یہ اعلان کیوں نہیں کیا کہ پاکستان بم بناچکا؟''
ڈاکٹر خان بولے''کیا یہ ضروری ہے؟ دراصل امریکا نے دھمکی دے رکھی ہے کہ یہ اعلان ہوا، تو وہ ساری امداد روک لے گا۔ امریکی بھی جانتے ہیں کہ ہم ایٹم بم بناچکے۔ غیر ملکی پریس میں آنے والی تمام افواہیں بھی مبنی برحقیقت ہیں۔''
انھوں نے یہ دعویٰ بھی نہیں کیا کہ پاکستانی ایٹمی منصوبہ پُرامن ہے۔ بولے ''ایٹمی منصوبے کو پُر امن کہنا منافقت ہے۔ کوئی بھی بم پُرامن نہیں ہوتا۔ جب کوئی جان جائے کہ ری ایکٹر کیسے بنایا جائے اور پلوٹونیم کیونکر بنتا ہے... اور اس فن میں ہم پاکستانی طاق ہوچکے، تو بم بنانا آسان ہوجاتا ہے۔''
(5) ''نہرو کے دل میں سپتری بسی ہے!''
جوں جوں دن گزرے (1964ء میں) بے عزتی کے واقعات بڑھتے گئے۔ حتیٰ کہ نہرو سے ملاقات کا وقت لینے کی خاطر بھی شاستری جی انتظار کے کشٹ سے گزرنے لگے۔ ایک بار تو انھوں نے بحیثیت وزیر (داخلہ)مستعفی ہونے کا بھی سوچا۔ایک دن شاستری نے مجھے افسردگی سے بتایا ''میں الٰہ آباد واپس جانے کا سوچ رہا ہوں۔ یہاں اب میرے لیے کچھ نہیں بچا۔ اگر میں دہلی میں رہا، تو پنڈت نہرو سے میرا ٹکرائو ناگزیر ہوگا۔ مگر میں ان سے ٹکرانے کے بجائے سیاست سے ریٹائر ہونا پسند کروں گا۔''
کئی لوگوں نے شاستری جی کو بتایا تھا کہ چونکہ نہرو کی دختر، اندرا گاندھی انھیں ناپسند کرتی ہے لہٰذا اس معاملے میں وہ باپ پر بھی اثر انداز ہوگی۔ابتداً شاستری نے ان باتوں کو محض افواہ قرار دیا تاہم آنے والے حالات سے یہی لگا کہ افواہوں میں کچھ صداقت ضرور ہے۔
چنانچہ شاستری کو یقین ہوگیا کہ نہرو انھیں اپنا جانشین نہیں بنانا چاہتے۔ اب اندرا کھلے عام شاستری سے بے پروائی برتنے لگی تھی۔اس کی کوشش ہوتی کہ وہی اہم فائلیں وزیراعظم کے پاس لے جائے۔
اس دوران شاستری جی سے پھر ملاقات ہوئی۔باتوں باتوں میں،میں نے سوال کیا، آپ کے خیال میں نہرو کسے اپنا جانشین بنائیں گے؟ وہ ترنت بولے ''ان کے دل میں تو ان کی سپتری (بیٹی) ہے۔ پھر کچھ توقف کے بعد کہا ''مگر ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا۔''
میں بولا ''لوگ سمجھتے ہیں، آپ نہرو جی کے کٹر چاہنے والوں میں سے ہیں لہٰذا آپ ان کی موت کے بعد خود ہی اندرا گاندھی کا نام تجویز کردیں گے؟''
شاستری تھوڑا سا مسکرائے پھر گویا ہوئے ''ارے بھئی، میں اتنا بھی سادھو نہیں جتنا تم مجھے سمجھتے ہو۔ کون ہے جو بھارت کا وزیراعظم نہیں بننا چاہتا؟''
(6) 15اگست 1947ء ہی کیوں؟
ہندوستان کی تقسیم کا عمل بہت جلد بازی اور بے ڈھب طریقے سے انجام پایا۔ دراصل وائسرے ہند، مائونٹ بیٹن نے جب 3 جون 1948ء کے بجائے 15 اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد کرنے کا اعلان کیا، تو عمل ِتقسیم بھی افراتفری کا نشانہ بن گیا۔ سوال یہ ہے کہ مائونٹ بیٹن نے ایسا کیوں کیا؟
ان کے پریس سیکریٹری، کیمبل جانسن نے ایک بار مجھے بتایا ''15 اگست کا انتخاب اس لیے ہوا کہ اسی دن جاپانیوں نے ہتھیار ڈالے تھے۔ یوں دوسری جنگ عظیم اختتام کو پہنچی۔'' مگر برطانوی وزارت خارجہ کے سینئر افسرو ں کا دعویٰ ہے کہ لارڈ بیٹن شاہی بحریہ میں زیادہ اعلیٰ عہدہ چاہتے تھے۔ چونکہ وائسرائے ہند کا عہدہ راہ میں رکاوٹ تھا، لہٰذا وہ اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرنے لگے۔
جب میں نے مائونٹ بیٹن سے انٹرویو کیا، تو یہی سوال دہرایا۔ لارڈ کہنے لگے ''مجھے تاریخ تقریباً ایک برس اس لیے پیچھے کرنا پڑی کہ ہندوستان میری گرفت سے نکل رہا تھا۔ پنجاب میں سکھوں نے ہتھیار سنبھال لیے تھے۔ ادھر کلکتہ میں بہت بڑا فرقہ وارانہ فساد ہوگیا۔ ہندو مسلم اختلافات عروج پر پہنچ گئے۔ سب سے بڑھ کر یہ اعلان ہوچکا تھا کہ انگریز جارہے ہیں۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں قبل از وقت چلے جانا چاہیے۔میں لارڈ اٹیلی (تب کے برطانوی وزیراعظم) کو پسند نہیں کرتا، لیکن یہ ان کی خوبی ہے کہ ہندوستان کے معاملے میں انھوں نے تمام اختیارات مجھے دے ڈالے تھے۔''
(7) بھارتی حکومت نے ایک ''دہشت گرد'' بنا ڈالا
(اندرا گاندھی کے چھوٹے فرزند) سنجے گاندھی غیر آئینی طریقے استعمال کرنے میں شہرت رکھتے تھے۔ 1979ء میں
(مشرقی) پنجاب میں (کانگریس کے مخالف) اکالیوں کی حکومت تھی۔ سنجے گاندھی کی خواہش تھی کہ اکالیوں کو شکست دینے کے لیے کوئی ''سنت'' (سکھ مذہبی رہنما) سامنے لایا جائے۔
دراصل ماضی میں کانگریسی سکھ لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ، پرتاپ سنگھ نے ایک سنت کے ذریعے ہی اکالیوں (انتہا پسند سکھوں) کو نیچا دکھایا تھا۔ وہ اکالیوں کے مشہور رہنما، ماسٹر تارا سنگھ کے مقابلے میں سنت فتح سنگھ کو لے آیا جو خود بھی اکالی رہنما تھا۔ 1962ء میں سنت فتح سنگھ نے اکالیوں کا اپنا دھڑا بنالیا۔ اس نے پھر ضدی اور بددماغ تارا سنگھ کا اثرورسوخ جلد ختم کرڈالا۔
1979ء کے وسط میں سنجے گاندھی اور اس کے دوست، رکن لوک سبھا، کمل ناتھ سنتوں کا انٹرویو لینے لگے۔ کمل ناتھ بتاتا ہے''ہم نے بعض سنتوں کے انٹرویو کیے مگر وہ ہمیں بہادر اور خود اعتماد نظر نہیں آئے۔ مگر جرنیل سنگھ بھنڈر والہ کی شخصیت سے دلیری اور خود اعتمادی عیاں تھی۔ لہٰذا ہم نے اسے منتخب کرلیا۔ اسے پھر وقتاً فوقتاً پیسہ دیا گیا تاکہ وہ پنجاب میں اکالیوں کا زور کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ مگر ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ''دہشت گرد'' بن جائے گا۔''
شروع میں جرنیل سنگھ کانگریسی رہنمائوں کے اعتماد پر پورا اترا۔ اس نے پنجاب میں اکالی دل کا اثرورسوخ خاصا کم کردیا۔ تاہم وہ پھر خالصتان یا آزاد سکھ مملکت کے قیام کا حامی بن گیا۔ چنانچہ جرنیل سنگھ کا اندرا گاندھی سے ٹکرائو ہوا۔ جون 1984ء میں بھارتی فوج نے آپریشن بلیو اسٹار شروع کیا اور گردوارہ امرتسر صاحب میں مورچہ بند، 37سالہ جرنیل سنگھ اپنے ساتھیوں سمیت مارا گیا۔
(8) کشمیر پاکستان میںشامل ہونا چاہیے... سردار ولبھ بھائی پٹیل
میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی تھوڑا صبر کرتے، تو کشمیر خود بخود پاکستان کا حصہ بن جاتا۔ بھارت کے لیے اسے فتح کرنا ممکن نہیں تھا اور نہ ہی مہاراجہ میں اتنی ہمت تھی کہ آبادی میں مسلمانوں کے تناسب کو نظر انداز کردیتا۔ لیکن پاکستانی حکومت نے آزادی کے چند ہی دن بعد قبائلی اور فوجی کشمیر بھجوا دیئے۔
یہ درست ہے کہ نہروکشمیر کو بھارت کا حصہ بنانا چاہتے تھے، لیکن سردار ولبھ بھائی پٹیل اس امر کے مخالف تھے۔ 21 فروری 1971ء کو شیخ عبداللہ نے مجھے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پٹیل کا کہنا تھا، کشمیر مسلم اکثریتی ریاست ہے، چنانچہ اسے پاکستان میں شامل ہونا چاہیے۔ حتیٰ کہ جب مہاراجہ نے بھارت سے الحاق کی درخواست بھجوائی، تو پٹیل نے کہا ''ہمیں کشمیر کے معاملہ میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے، ہم پہلے ہی حد سے زیادہ مسائل میں پھنسے پڑے ہیں۔''
تاہم پنڈت نہرو یہ مسئلہ ہاتھ میں لینے کو بے تاب تھے۔ بہ تاریخ 27 ستمبر 1947ء انھوں نے اپنے نائب وزیراعظم (سردار پٹیل) کو خط لکھا کہ وہ شیخ عبداللہ کے تعاون سے کشمیر کو جلد از جلد بھارت کا حصہ بنا دیں۔ دراصل نہرو چاہتے تھے کہ فوراً کشمیر فوج بھجوائی جائے۔ تاہم گورنر جنرل مائونٹ بیٹن نے انھیں مشورہ دیا کہ پہلے بھارت اور کشمیر کے الحاق کا اعلان کیا جائے۔
مہاراجہ کشمیر کی دیرینہ تمنا یہی تھی کہ ریاست آزاد ہوجائے۔ ناکامی کے بعد پھر وہ بھارت سے الحاق چاہتا تھا۔ گو اسے یہ خطرہ تھا کہ ریاستی معاملات میں نہرو دخیل ہوئے، تو ساری قوت شیخ عبداللہ کو مل جاتی اور وہ محض کٹھ پتلی رہ جاتا۔ پٹیل مہاراجہ کے قریبی دوست تھے۔ مگر جب انھوں نے کہا کہ شیخ عبداللہ سے تعاون کرو، تو مہاراجہ سمجھ گیا، اس کی حکومت کے دن گنے جاچکے۔
مائونٹ بیٹن نے بعدازاں مجھے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا، سردار پٹیل یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ اگر پاکستانی حکومت کشمیر سے الحاق کا مطالبہ کرتی، تو وہ اسے منظور کرلیتے۔ لیکن اپنی باقاعدہ فوج کشمیر بھجواکر پاکستان نے اپنا مقدمہ خراب کرڈالا۔ اُدھر کشمیر سے تعلق رکھنے والے پنڈت نہرو ریاست کو بھارت میں شامل کرنے پر تلے بیٹھے تھے۔ انہی دنوں انھوں نے ایک اعلیٰ برطانوی افسر کو بتایا تھا ''جس طرح کالے (Calais) میری کے دل میں رقم تھا، اسی طرح کشمیر میرے دل میں لکھا جاچکا۔''( فرانسیسی بندرگاہ، کالے یورپ میں برطانوی بادشاہت کی آخری چوکی تھی۔ 7 جنوری 1558ء کو جب فرانسیسیوں نے یہ چوکی انگریزوں سے چھین لی، تو ملکہ برطانیہ، میری نے افسردگی سے کہا ''اگر موت کے بعد میرا بدن چیرا گیا، تو کالے میرے قلب پر درج ملے گا۔'')
لیکن حکومت پاکستان انتظار نہ کرسکی۔ حالانکہ کشمیر ہمیشہ نظریہ پاکستان کا حصہ رہا ہے۔ لفظ پاکستان میں ''کے'' کشمیر ہی کی دلالت کرتا ہے۔ 1951ء میں پاکستانی وزیر برائے امور کشمیر (مشتاق احمد گورمانی) نے کہا تھا:
''کشمیر محض زمین کا ٹکرا یا دریائوں کا منبع نہیں، پاکستان کے ایمان کا جزو ہے۔''
(9) صدر راجندر پرشاد کی ذاتی پسند
میں 1961ء میں وزارت داخلہ میں بحیثیت انفارمیشن افسر تعینات تھا۔ اس زمانے میں وزیراعظم اور وزارت داخلہ مل کر یہ طے کرتے تھے کہ کن شخصیات کو پدما (بھارت کے تین بڑے قومی اعزاز) دیئے جائیں۔ تب صدر فہرست پر دستخط کردیتا۔ اس فہرست میں صدر کی طرف سے شاذ ہی تبدیلی ہوتی۔ لیکن 1961ء میں ایک انہونا واقعہ پیش آیا۔
اس زمانے میں ڈاکٹر راجندر پرشاد صدر تھے۔ جب (چوتھا بڑا بھارتی قومی اعزاز) پدما شری پانے والوں کی فہرست انھیں ملی، تو صدر نے بقلم خود اس میں ''جنوب کی مس لازرس'' کا اضافہ کردیا۔
اب وزارت میں ہم افسر اس کھوج میں لگ گئے کہ یہ مس لازرس کون ہستی ہے۔ آخر تلاش بسیار کے بعد انکشاف ہوا کہ مدراس (چینائے) میں مس لازرس نام کی ایک ماہر تعلیم مقیم ہے۔ چنانچہ بذریعہ تار اور پھر ٹیلی فون اسے مطلع کردیا گیا کہ اس کو پدما شری مل رہا ہے۔ مس نے بخوشی یہ اعزاز قبول کرلیا۔
لیکن جب تصحیح شدہ فہرست صدر راجندر پرشاد کے پاس گئی، تو وہ پریشان ہوگئے۔ دراصل ان کی تجویز کردہ خاتون ماہر تعلیم نہیں ایک نرس تھی۔ چنانچہ اعتراض کے بعد فہرست دوبارہ وزارت داخلہ چلی آئی۔
آخرصدر کے ذاتی معتمد نے بتایا کہ جب راجندر پرشاد بذریعہ سڑک وجے واڈہ سے حیدر آباد دکن جارہے تھے، تو راہ میں بیمار پڑگئے۔ تب اسی مس لازرس نے بڑی تندہی سے ان کی تیمارداری کی تھی۔ چنانچہ اب اس حیدر آبادی نرس کو ڈھونڈنے کی مہم کا آغاز ہوا۔ آخر یہ گوہر مراد بھی ہاتھ آ گیا۔
اس طرح 1961ء میں لازرس نام کی دو خواتین کو پدما شری دیا گیا... یہ اپنی نوعیت کا بڑا عجیب واقعہ ہے۔
(10) جنہیں ہم سب نے چاہا!
میں پاکستانیوں کو اکثر بتاتا ہوں کہ پاکستان بننے کے بعد بھارتی مسلمانوں کو بڑے کشٹ اٹھانے پڑے اور وہی ایک نیا ملک بنانے کی قیمت بھی ادا کررہے ہیں۔ مجبور و مقہور اور عموماً غربت کے مارے بھارتی مسلمان آج بھی مولانا ابوالکلام آزاد کی یہ پشین گوئی یاد کرتے ہیں کہ آزادی کے بعد ان کی اہمیت صفر ہوجائے گی۔ بھارتی مسلمانوں نے پھر مولانا آزاد کو اپنا قائد بنانے کی کوششیں کیں مگر تب تک دیر ہو چکی تھی۔
ہندو رہنما مسلمانوں سے ناراض و خائف تھے، پھر بھی وہ آخر تک مولانا آزاد کی عزت کرتے رہے۔ یہ حقیقت 22 فروری 1958ء کو واضح طور پر سامنے آئی جب مولانا کا انتقال ہوا۔ اس دن رات گئے تک ہزارہا غیر مسلم مولانا آزاد کے گھر پہنچے۔ انھوں نے قطار در قطار مولانا کے گھر داخل ہوکر انھیں خراج تحسین پیش کیا۔ خود پنڈت نہرو ہی نے جامع مسجد کے نزدیک اس جگہ کا انتخاب کیا جہاں مولانا کو دفن کرنا تھا۔
مولانا نے ترکے میں بے انتہا کتابیں اور کاغذات چھوڑے۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ ان کے قیمتی کاغذات حاصل کرلوں مگر ناکام رہا۔ آخر 1959ء میں مجھے پتا چلا کہ بہت سے قیمتی کاغذات مولانا آزاد کے ذاتی معتمد، اجمل خان کے اہل خانہ نے ایک ٹرنک میں سنبھال رکھے ہیں۔ تاہم انھوں نے کاغذات مجھے دینے سے انکار کردیا۔ آج بھی میری خواہش ہے کہ وہ کاغذات منظر عام پر لائے جائیں کیونکہ وہ ہماری قومی جدوجہد کے ایک اہم دور سے تعلق رکھتے ہیں۔
جب مولانا آزاد فوت ہوئے، تو ان کے بینک اکائونٹ میں چند روپے موجود تھے۔ اسی طرح گھر سے بھی معمولی رقم برآمد ہوئی۔ ہندوستانی تحریک آزادی کے ایک اور اہم رہنما و مسلمان وفاقی وزیر، رفیع احمد قدوائی بھی جب فوت ہوئے، تو ان کا کوئی بینک بیلنس اور جائیداد نہیں تھی۔یہ حقیقت ہے کہ ہندوستانی مسلمان قوم پرست رہنما سادگی پسند، دیانت دار اور ہر قسم کی کرپشن سے پاک تھے۔ یہ ان کے اعلیٰ کردار کی دلیل ہے۔ اسی لیے انھوں نے دولت اکٹھی کی نہ جائیداد بنائی۔
(11) نہرو اور ایڈوینا کا معاشقہ
مجھے شروع سے یہ جاننے میں دلچسپی تھی کہ ایڈوینا مائونٹ بیٹن (1901ء1960-ء) اور پنڈت نہرو کے تعلقات کی نویت کیا تھی؟ چنانچہ 1990ء میں جب میں بحیثیت بھارتی سفیر لندن پہنچا، تو الجھے دھاگے سلجھانے کی سعی کرنے لگا۔ وہیں انکشاف ہوا کہ تقریباً روزانہ ایئر انڈیا کا ایک جہاز نہرو کا خط لاتا۔ سفارتخانہ اپنی ذمے داری انجام دیتے ہوئے وہ خط لیڈی مائونٹ بیٹن تک پہنچا دیتا۔ وہ اسی دن جواب دیتی اور خط بذریعہ ہوائی جہاز اگلے روز نہرو تک پہنچ جاتا۔ اگر جواب آنے میں دیر ہوتی، تو نہرو اپنے عملے کے خوب کان کھینچتے۔
برطانیہ میں دوران قیام میری ملاقات لیڈی کے نواسے، لارڈ رامسے سے ہوئی جو نہرو ٹرسٹ کا سربراہ بھی تھا۔ یہ ٹرسٹ لارڈ مائونٹ بیٹن نے نہرو کی یاد میں قائم کیا تھا تاکہ وہ سالانہ لیکچر کا اہتمام کرسکے۔ بحیثیت سفیر میں بھی اسی ٹرسٹ کا غیر سرکاری رکن بن گیا۔ چنانچہ معاملات ِٹرسٹ کے حوالے سے میری لارڈ رامسے سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔
چند ملاقاتوں کے بعد جب حجاب کا پردہ ہٹ گیا اور ہم کچھ بے تکلف ہوئے، تو میں لارڈ سے اس کی نانی کے متعلق سوال پوچھنے لگا۔ مجھے احساس ہوا کہ اس نے برا نہیں منایا۔ چنانچہ طے کیا کہ ناسب موقع پر نہرو۔ ایڈوینا خط کتابت کا معاملہ چھیڑا جائے۔
ایک دن میں نے کہا ''نہرو کی لکھائی بہت خوبصورت تھی۔'' لارڈ نے بتایا کہ اس کی نانی بھی خوش خط تھی۔ موقع غنیمت جان کر فرمائش کی کہ اس کا کم از کم ایک خط دیکھنا چاہتا ہوں۔ اور بتایا کہ میں نہرو کے خطوط تو دیکھ چکا، لیڈی کے خط تاحال دیکھنے سے محروم ہوں۔ تب لارڈ نے بتایا کہ نہرو۔ ایڈوینا خط کتابت کے دو سیٹ ہیں۔ ایک سیٹ مائونٹ بیٹن خاندان جبکہ دوسرا گاندھی خاندان کے پاس محفوظ ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ ان خطوط تک رسائی کٹھن معاملہ ہے۔
بہرحال ایک دن جی کڑاکر میں نے پوچھ ہی لیا ''کیا آپ کی نانی اور نہرو ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے؟'' یہ سن کر لارڈ رامسے پہلے تو ہنسا پھر سوچنے لگا کہ ان کا رشتہ کیونکر بیان کرے؟ کچھ توقف کے بعد بولا ''ان کا عشق روحانی تھا۔'' لارڈ نے پھر موضوع بدل دیا۔
چند دن بعد باتوں باتوں میں معاملہ پھر چھڑ گیا۔ لارڈ فلسفیانہ انداز میں بولا ''وہ واقعی ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوگئے تھے۔ لیکن ان کی محبت اس زمانے میں سمجھی اور قبول کی جاتی تھی۔ آج جب ہم محبت کا ذکر کریں، تو اس سے مراد جسمانی تعلق ہے، مگر ان میں روح کا روح سے تعلق والا رشتہ تھا۔ نہرو معزز شخصیت تھے اور ان سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ دوست کی بیوی پر ڈورے ڈالتے۔''
جب میں واپس نئی دہلی پہنچا، تو نہرو۔ ایڈوینا خطوط کی کھوج میں لگ گیا۔ معلوم ہوا کہ وہ نہرو میموریل لائبریری میں ہیں۔ مگر لائبریرین سے پتا چلا کہ وہ خطوط دیکھنے کے لیے سونیا گاندھی سے اجازت لینا ضروری ہے۔
چنانچہ میں نے سونیا گاندھی کو خط لکھا۔ انھیں بتایا کہ میں مائونٹ بیٹن جوڑے پر کتاب لکھ رہا ہوں، لہذا پنڈت نہرو کے خطوط دیکھنے کا متمنی ہوں۔ انھوں نے تو جواب نہیں دیا مگر وزیر خارجہ، نٹور سنگھ کا یہ پیغام ملا کہ تم لائبریری جاکر خطوط دیکھ لو۔
یہ پیغام لائبریرین کو بھی مل چکا تھا، چنانچہ اس نے خطوط کا پلندہ میرے سامنے رکھ دیا۔ یہ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی، آخر میری محنت رنگ لے آئی تھی۔ مگر جلد ہی میری اُمیدوں پر اوس پڑگئی۔ نہرو کے یہ خطوط کرشنا مینن سمیت مختلف وزراء کو لکھے گئے تھے۔ گو ان میں کام کی باتیں موجود تھیں، لیکن میری مہم کا نشانہ تو نہرو۔ایڈوینا خط وکتابت تھی۔
میں پھر لائبریرین سے ملا اور اسے اپنی غرض بتائی۔ کہنے لگا کہ وہ تو ''اے کلاس'' خطوط ہیں۔ انھیں دیکھنے کے لیے سونیا گاندھی کی خصوصی ہدایت درکار ہے۔ میں نے پھر بیگم صاحبہ کو خط لکھا۔ اس دفعہ بھی نٹور سنگھ ہی نے جواب دیا۔ انھوں نے بتایا کہ میں وہ خطوط نہیں دیکھ سکتا۔انکار کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ بس یہ معلوم ہوا کہ سونیا گاندھی خطوط کی مالک ہیں اور وہی ان کی بابت کوئی فیصلہ کرسکتی ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ خطوط ملک و قوم کی امانت و ملکیت ہیں۔ لہٰذا انھیں اب طشت ازبام ہو جانا چاہیے۔
(12) لولیتا، سوان لیک اور مینا کماری
پنڈت نہرو کے مانند لعل بہادر شاستری کا تعلق بھی الٰہ آباد سے تھا۔ تاہم شاستری کو شدت سے یہ احساس تھا کہ وہ نہرو خاندان کے مقابلے میں غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ موتی لال نہرو امیر وکیل تھے۔ جبکہ شاستری کے والد کا تعلق نچلے متوسط طبقے سے تھا۔ مجھے یاد ہے، اندرا گاندھی نے بھی ایک بار شاستری کی ''متوسط زندگی'' کو مذاق کا نشانہ بنایا تھا۔
شاستری انگریزی بولنے والے سے بہت مرعوب ہوتے، خواہ وہ کوئی گورا خاکروب ہی ہو۔ دراصل ان کا خیال تھا کہ انگریزی بولنے والے اعلیٰ و معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک بار انھوں نے ریاست پنجاب کے حالات پر نوٹ تیار کیا اور پھر مجھے پڑھنے کو دیا۔ میں سمجھاکہ وہ مجھ سے اپنا تجزیہ پرکھوانا چاہتے ہیں۔ مگر یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ شاستری انگریزی دانی کی جانچ چاہتے تھے۔
پنجاب پر شاستری جی کے نوٹ نے تو کوئی ہلچل نہ مچائی، تاہم ایک اور خاصے ہنگامے کا باعث بن گیا۔ ہوا یہ کہ ایک کانگریسی رکن اسمبلی نے شاستری جی کو شکایت لگائی کہ روسی ادیب، ولادیمر نبوکوف کا ناول، لولیتا کھلے عام فروخت ہورہا ہے حالانکہ اس میں خوب فحاشی بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ شاستری نے پنڈت نہرو کو نوٹ لکھ کر یہ اجازت مانگی کہ لولیتا پر پابندی لگادی جائے۔
پنڈت نہرو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر وزارتوں سے آنے والے خطوط کا جواب دیتے تھے۔ چنانچہ اگلے دن نہرو کا بڑا طویل جواب موصول ہوا۔ انھوں نے سوال کیا کہ لولیتا پر پابندی کیوں لگائی جائے جبکہ ڈی ایچ لارنس کا ''لیڈی چیٹرلیز لو ر'' عام بک ر ہا ہے؟ آخر میں نہرو نے شاستری کا مطالبہ مسترد کردیا اور لولیتا کی فروخت جاری رہی۔
شاستری دراصل روایت پسند انسان تھے۔ ایک بار لینن گراڈ میں انھوں نے بولشوئی بیلٹ گروپ کا پیش کردہ بیلٹ، سوان لیک دیکھا تو خاصے مضطرب ہوگئے۔ دوران وقفہ میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ بیلٹ سے لطف اندوز ہورہے ہیں نا؟
کہنے لگے ''میں تو سارے شو کے دوران بڑا پریشان رہا۔ ساری ڈانسریں برہنہ ٹانگوں والی آگئیں اور میرے پہلو میں ''اماں'' (بیگم شاستری) بیٹھی تھیں۔ مجھے تو بڑی شرم آئی۔''
شاستری اس تقریب میں بھی خاصا گھبراگئے جو بمبئی میں کمال امروہی نے ''پاکیزہ'' کے سیٹ پر منعقد کی تھی۔ تقریب کے مہمان خصوصی شاستری تھے۔ تب مینا کماری کی شہرت عروج پر تھی۔ اسی نے سب سے پہلے شاستری کے اعزاز میں چھوٹی سی تقریر کی۔
تقریر کرنے سے قبل شاستری مجھے تنہائی میں لے گئے اور پوچھا کہ یہ خوبصورت عورت کون ہے؟ مجھے بڑا تعجب ہوا۔ بہرحال بتایا کہ وہ ملک کی نامور اداکارہ ہے۔ انھوں نے پھرہندی میں تقریر کی اور آغاز کچھ یوں کیا ''مینا کماری جی! مجھے معاف کرنا، میں نے آپ کا نام زندگی میں پہلی بار سنا ہے...''
(13) ایمرجنسی لگی رہے سدا!
سنجے گاندھی کو پتا چل گیا کہ میں بھارت میں لگائی گئی ایمرجنسی (26 جون 1975 تا21 مارچ 1977) پر کتاب لکھ رہا ہوں۔ میں نے کچھ عرصہ قبل اسی موضوع پر سنجے سے انٹرویو کیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر سنجے کا پیغام ملا کہ انٹرویو میں ہوئی گفتگو کتاب میں شامل نہ کی جائے۔ چونکہ عرصہ ہوا، وہ گزر چکا لہٰذا اب (اپنی آپ بیتی میں) اس انٹرویو کے مندرجات شامل کررہا ہوں۔
میں نے سنجے گاندھی سے پہلا سوال یہ کیا تھا کہ جب ایمرجنسی لگائی گئی، تو اندرا حکومت کا کیا منصوبہ تھا؟ آخر ایمرجنسی آمریت اور استبدانہ حکومت کی ایک شکل ہی ہے۔ سنجے نے کہا:
''ہماری حکومت کو چیلنج دینے والا کوئی نہیں تھا۔ چنانچہ حکومت چاہتی تو بیس بائیس برس تک ایمرجنسی لگی رہتی بلکہ میری تو خواہش تھی کہ جب لوگوں کی سوچ بدل جائے، تب ہی ایمرجنسی ہٹائی جاتی۔''
سنجے نے بتایا کہ اندرا حکومت کا پروگرام یہ تھا کہ انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیئے جائیں۔ پھر ریاستی افسر شاہی کے تعاون سے تمام ریاستوں میں براہ راست نئی دہلی سے حکومت کی جاتی۔ گویا بھارت میں مختلف انداز کی حکومت وجود میں آجاتی۔ اس حکومت میں عوام اگرچہ تمام بنیادی حقوق مثلاً آزادی رائے سے محروم ہوتے۔ حتیٰ کہ عدلیہ کو بھی حکومت کی خواہشات کے مطابق عمل کرنا پڑتا۔
''پھر آپ نے (1977ء میں) انتخابات کیوں کرائے؟'' میں نے سنجے سے پوچھا۔
وہ بولا ''یہ میں نے نہیں کرائے، میں تو آخر تک کہتا رہا کہ انتخابات نہیں ہونے چاہیں۔ مگر میری والدہ ان کا انعقاد چاہتی تھیں۔ وجوہ آپ انہی سے دریافت کریں۔''
ہم محو گفتگو تھے کہ اندرا گاندھی اپنے بیٹے کو ڈھونڈتی وارنڈے میں چلی آئیں۔ جب انھوں نے ہمیں باتوں میں مصروف دیکھا، تو ٹھٹکیں اور پھر پلٹ گئیں۔
(14) غربت سے امارت تک
تقریباً تیس سال پہلے کی بات ہے، میں تب اسٹیٹسمین اخبار (نئی دہلی) کا ریزیڈنٹ ایڈیٹر تھا۔ ایک دن مجھے پرناب مکرجی کا فون آیا کہ ان کے گھر آکر چائے نوش فرمائیے۔ میں نے دعوت قبول کرلی۔ (کانگریسی رہنما اور سابق وزیر خزانہ پرناب مکر جی بھارتی صدر بننے کے لیے پرتول رہے ہیں)
اس وقت مکر جی غیر اہم کانگریسی رہنما تھے۔ ہم تینوں بشمول ان کی بیگم فرش پر بچھی دری پہ بیٹھے اور چائے نوش کرنے لگے۔ گھر میں معمولی فرنیچر نظرآیا اور کوئی ملازم بھی نہ تھا۔ بیگم مکر جی ڈانسرتھیں اور تب آگے بڑھنے کی تگ و دو میں مصروف تھیں۔
چائے پیتے ہوئے مکرجی نے فرمائش کی کہ میں ان کی بیگم پر مضمون شائع کروں تاکہ اسے کچھ شہرت مل جائے۔ تب احساس ہوا کہ مجھے چائے پر کیوں بلایا گیا۔
چند سال بعد دور ِایمرجنسی (1975ء تا 1977ء) میں ایک کام سے پھر مکرجی کے گھر جانا ہوا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اب وہ قیمتی اشیا سے جگمگ کررہا تھا۔ ڈرائنگ روم میں خوبصورت فرنیچر، دبیز قالین اور دیگر سجاوٹی اشیا موجود تھی۔ دراصل تب تک مکرجی وزیر تجارت بن چکے تھے۔