سندھ حکومت جمہوری اسپرٹ پیدا کرے

ایک طرف سندھ کی تشویشناک سیاسی صورتحال جب کہ دوسری جانب ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن و امان کی مخدوش صورتحال


Editorial January 29, 2015
حمد چنائے کی پریس کانفرنس سے جو کنفیوژن پیدا ہوا ہے اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات بے حد ضروری ہے، فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ اسمبلی میں منگل کو متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے بیان اور کراچی پولیس کے سربراہ غلام قادر تھیبو کے غیرملکی ٹی وی چینل کو انٹرویو پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف سندھ اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک استحقاق اور مذمتی تحریک بھی جمع کرا دی۔

درحقیقت صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیوایم نے لاشوں کے ساتھ دھرنا نہیں دیا بلکہ چیف منسٹر ہاؤس پر حملہ کیا۔ یہ ایک ایسا انکشاف تھا اور ماضی قریب میں ہونے والی ہلاکتوں کے ایک ایسے درد انگیز واقعہ سے متعلق تھا جو مئی 2013 کو پیش آیا، جس کی سندھ میں پیدا شدہ زمینی صورتحال کے پیش نظر دوہرانے میں کوئی حکمت پوشیدہ نہیں تھی، چنانچہ متحدہ کے اراکین اسمبلی کی طرف سے شدید رد عمل آیا اور ان ریمارکس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے احتجاج کیا، اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور بعد میں اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس کو سیاسی بیان بازی سے گریز اور عملی طور پر شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے اور جرائم کے خاتمے کی اپنی بنیادی ذمے داری پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ اصولی موقف ضرور ہے لیکن سب سے بنیادی سیاسی اور سماجی حقیقت جسے شرح صدر اور اخلاص نیت کے ساتھ سندھ سمیت ملک کے تمام معتبر اراکین پارلیمنٹ، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو بتانے کی ہے وہ جمہوری جذبہ، پارلیمانی رویے، اور ملک کے بہتر مفاد اور ملکی سالمیت کو لاحق خطرات کے ادراک و احساس کی ہے۔

ایک طرف سندھ کی تشویشناک سیاسی صورتحال جب کہ دوسری جانب ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، کشیدگی اور محاذ آرائی کے اٹھتے سیاہ بادل اور حالات کی بے یقینی کے عذاب انگیز خدشات ہیں جن کا ادراک سیاسی قائدین کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ منگل کو کراچی میں سی پی ایل سی کے سربراہ احمد چنائے کے گھر پر رینجرز کے مبینہ چھاپے، لاریب نامی ایک 24 سالہ نوجوان کی بازیابی، اور احمد چنائے کی پریس کانفرنس سے جو کنفیوژن پیدا ہوا ہے اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات بے حد ضروری ہے، اس واقعے کے کئی پہلو تحقیق طلب ہیں۔ یوں بھی اغوا برائے تاوان سے سندھ کا چہرہ داغدار ہوا ہے، کوشش ہونی چاہیے کہ اس واقعے کو ادارہ جاتی جنگ کی شکل نہ دی جائے جب کہ رینجرز اور سی پی ایل سی کے فرائض اور اشتراک عمل میں کوئی خلل نہ پڑے۔

دوسری طرف خطے کی تزویراتی تبدیلیوں اور منی پاکستان میں ترقی و امن کو یقینی بنانے کے لیے حکومت سندھ اور متحدہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو قومی امور اور داخلی استحکام و اتفاق رائے کے ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہیے تا کہ جمہوریت مضبوط ہو، دہشت گردی کی جنگ جلد سے جلد ختم ہو اور عوام کو جمہوریت سے جتنی شکایات اور حکمرانوں کی نا اہلیت کے حوالے سے جتنے تحفظات ہیں ان کا بلا تاخیر ازالہ ہو سکے، ایسا تب ہو گا جب سیاسی رہنما ملک اور عوام کو درپیش گراں بار مسائل کے حل کو اصل مینڈیٹ تصور کریں گے اور خطے کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے چشم پوشی نہیں کریں گے۔

کیونکہ داخلی انتشار اور عدم اتفاق و افتراق کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہمیں پھر بربادی کے لیے کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہیگی۔ وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ روز اسی تناظر میں کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے 20 نکاتی ایکشن پلان پر اتفاق کیا تھا اور اب یہ تمام وفاقی اکائیوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس پلان کو اس کی روح کے مطابق نافذ کریں۔ اس کال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے مقاصد بھی ذہن سے محو نہیں ہونے چاہئیں۔ فاٹا میں جنگ ابھی جاری ہے۔

دریں اثنا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کو دہشت گردوں سے ہر صورت پاک کرینگے۔ فوج حالات کو معمولی پر لائے بغیر قبائلی علاقوں سے نہیں جائے گی۔ جنرل راحیل شریف نے چین سے واپس آتے ہی مہمند ایجنسی کا دورہ کیا۔ انھوں نے فاٹا میں دہشت گردوں سے صاف کیے گئے علاقوں میں تعمیر نو اور آبادکاری کے جامع منصوبے شروع کرنے پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ نوجوانوں کو تعلیمی اور معاشی مواقع فراہم کرنے کے منصوبوں سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے گا۔

ادھر لاہور میں گزشتہ ماہ گرفتار ہونیوالے داعش کے مبینہ کمانڈر یوسف السلفی نے امریکا میں رابطوں اور فنڈز ملنے کا اعتراف کیا ہے۔ یوسف السلفی نے تفتیش کے دوران بتایا ہے کہ پاکستان میں تنظیم کو چلانے اور شام میں لڑائی کے لیے نوجوانوں کی بھرتی کے لیے اسے رقوم ملتی رہی ہیں۔ ان ذرایع نے بتایا کہ پاکستانی نژاد شامی یوسف السلفی ترکی کے راستے پانچ ماہ پہلے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ سلفی کو امریکا سے فنڈز ملنے کا معاملہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے حالیہ دورہ اسلام آباد کے دوران بھی اٹھایا گیا۔

سلفی نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اسے ہر بھرتی پر 600 ڈالر ملتے تھے۔ ادھر سندھ کا زرعی شعبہ بھی مضطرب ہے، سندھی قوم پرست جماعتوں اور آبادکار تنظیموں کی جانب سے گنے کی سرکاری قیمت نہ ملنے کے خلاف سپر ہائی وے پر دھرنا دیا گیا، دھرنے کے باعث ساڑھے چھ گھنٹے تک سپر ہائی وے پر ہر قسم کی گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی اور گڈز ٹرانسپورٹ کی قطاریں لگ گئیں۔ کیا ہاریوں اور مزارعین کی زندگی کے حالات بہتر کرنا انھیں گنے کی جائز اور سپورٹنگ قیمت ادا کرنا حکومت کے فرائض میں شامل نہیں۔ سندھ کو دہشت گرد تنظیمیں اپنا اہم مرکز بنانے کی تیاریوں میں ہیں، سماجی اور معاشی سہولتوں کی فراہمی میں صوبے ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

اسی مقصد کے پیش نظر توقع کی جانی چاہیے کہ سندھ کے دو فطری سیاسی حلیفوں، پیپلز پارٹی اور قومی متحدہ موومنٹ کے مابین افہام و تفہیم وقت کا تقاضہ ہے اور ضرورت ان بنیادی مسائل کے حل کی طرف توجہ دینے کی ہے جس سے غفلت کے باعث روشنیوں کے شہر کراچی کو دہشت گردوں، بھتہ خوروں، فرقہ پرستوں، لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا، اسٹریٹ کرمنلز اور ٹارگٹ کلرز نے قتل گاہ بنا دیا ہے۔

اس وقت منی پاکستان کی حالت اس بے کس و لاوارث مریض کی ہے جسے صوبے کے سیاسی مسیحا بے رحمی، سفاکی، انتظامی نا اہلی اور بے توجہی کے سٹریچر پر لٹا کر ایک بے ہنگم اور افسوسناک لڑائی میں مشغول ہیں۔ لازم ہے کہ وفاق اس ساری صورتحال کا فوری نوٹس لے۔ جمہوریت کو سیاسی رویوں میں ظہور کے کسی جادوئی دورانئے کا انتظار سیاسی رہنماؤں کو زیب نہیں دیتا، جمہوریت اسپورٹسمین شپ چاہتی ہے اور یہی ملکی سیاست کا اہم سوالیہ نشان ہے۔