ورلڈ کپ کی تاریخ 1979 میں ویسٹ انڈیز اعزاز کے دفاع میں سُرخرو

ورلڈ کپ 1979 میں 8 ٹیموں نے انگلینڈ کے ٹیسٹ وینیوز پر 14 میچز کھیلے، ایک میچ بارش کی نذر ہوا


Sports Desk February 04, 2015
ورلڈ کپ 1979 میں 8 ٹیموں نے انگلینڈ کے ٹیسٹ وینیوز پر 14 میچز کھیلے، ایک میچ بارش کی نذر ہوا۔ فوٹو : فائل

دوسرا ورلڈ کپ کیری پیکر سرکس سے سخت متاثر ہوا، دولت کی لالچ میں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں نے پیکر سے معاہدے کر لیے تھے، یوں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے زیر تحت ہونے والے میچز کی رنگینی کم ہوگئی، اس کا سب سے زیادہ نقصان آسٹریلیا کو ہوا جس کے پاس ٹیم میں شامل کرنے کیلیے اچھے کرکٹرز باقی نہیں بچے۔

ورلڈ کپ سے قبل گوکہ آسٹریلوی بورڈ کا کیری پیکر سے معاہدہ ہو گیا تاہم اسکواڈ میں پیکر پلیئرز کو جگہ نہیں دی گئی، ویسٹ انڈیز اور پاکستان نے عوامی دباؤ کے پیش نظر باغی کھلاڑیوں کو منتخب کیا، میگا ایونٹ اس بار بھی گزشتہ پیٹرن کے مطابق کھیلا گیا، 8 ٹیموں نے انگلینڈ کے ٹیسٹ وینیوز پر 14 میچز کھیلے، ایک میچ بارش کی نذر ہوا، ویسٹ انڈیز، نیوزی لینڈ، بھارت اور سری لنکا کو گروپ اے میں جگہ ملی جبکہ گروپ بی انگلینڈ، آسٹریلیا، پاکستان اور کینیڈا پر مشتمل تھا، سری لنکا اور کینیڈا کی نان ٹیسٹ پلیئنگ سائیڈز کو آئی سی سی ٹرافی میں عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر ورلڈ کپ میں شرکت کا موقع ملا، ویسٹ انڈیز نے بھارت پر9 وکٹ کی آسان فتح کے ساتھ اعزاز کے دفاع کی جانب پہلا قدم رکھا۔

گورڈن گرینج نے ناقابل شکست سنچری بنائی جبکہ مائیکل ہولڈنگ نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ پاکستان نے مین آف دی میچ صادق محمد کی نصف سنچری کی بدولت کینیڈا کو 8 وکٹ سے مات دی، آسٹریلیا کیخلاف 89 رنز سے فتح کے ہیرو آصف اقبال ثابت ہوئے ، کینیڈا کی ٹیم انگلینڈ کے خلاف 45 کے معمولی مجموعے پر ڈھیر ہوئی۔ پاکستانی بیٹسمین انگلینڈ کیخلاف 166 رنز کے آسان ہدف کا تعاقب بھی نہ کرسکے اور مکمل ٹیم 151 پر آؤٹ ہوگئی، اس وجہ سے سیمی فائنل میں ویسٹ انڈیز سے ٹکرانا پڑا، گرینج اور ڈیسمنڈ ہینز نے دھواں دھار نصف سنچریاں بناتے ہوئے دفاعی چیمپئن ٹیم کا اسکور مقررہ 60 اوورز میں 6 وکٹ پر 293 رنز تک پہنچا دیا، آصف اقبال نے چار وکٹیں لیں۔

جوابی اننگز میں ظہیر عباس اور ماجد خان نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کر کے پاکستان کو فتح کی راہ پر گامزن کر دیا، دونوں نے دوسری وکٹ کیلیے 166 رنز کی شراکت قائم کی تاہم ان کے بالترتیب93اور81رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد بقیہ کھلاڑی کچھ نہ کرسکے اور اننگز250رنز پر تمام ہوگئی، اس سے قبل پہلے سیمی فائنل میں انگلینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیوزی لینڈ کو صرف9رنز سے شکست دی، فیصلہ کن معرکے میں ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کو92رنز سے زیر کر کے ایک بار پھر ٹرافی حاصؒل کر لی، ویوین رچرڈز نے ناقابل شکست 138 اور کولس کنگ نے86رنز بنا ڈالے ۔

ٹیم نے9وکٹ پر286رنز اسکور کیے، انگلش اوپنرز جیفری بائیکاٹ اور مائیک بریرلی نے38اوورز میں129رنز کا سست ترین آغاز فراہم کیا، دونوں نے بالترتیب57اور64رنز بنائے، اس کے بعد جوئیل گارنر نے تباہی مچا دی، انھوں نے آخری11گیندوں پر5بیٹسمینوں کو پویلین کی راہ دکھا کر کلائیو لائیڈ کو ایک بار پھر ورلڈ کپ ٹرافی تھامے تصویر کھنچوانے کا موقع فراہم کر دیا۔ انگلش ٹیم کی آخری 8وکٹ 25گیندوں پر صرف 11رنز کے دوران گریں۔ ورلڈ کپ1979میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ150رنز ماجد خان نے بنائے جبکہ آصف اقبال نے آل راؤنڈ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے129رنز اسکور کرنے کے ساتھ9وکٹیں بھی لیں۔ ایونٹ اس بار بھی بھارتی ٹیم کیلیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔

پہلے ورلڈ کپ میں ایسٹ افریقہ کی کمزور ٹیم پر واحد کامیابی حاصل کرنے والی ٹیم اس بار ایک فتح کا ذائقہ بھی نہ چکھ سکی۔ ویسٹ انڈیز کے گورڈن گرینج253رنز بنا کر ایونٹ کے کامیاب ترین بیٹسمین ثابت ہوئے، پاکستان کے ماجد خان نے150رنز اسکور کیے، بولرز میں سب سے زیادہ10وکٹیں انگلینڈ کے مائیک ہینڈرک کو ملیں، پاکستان کے سب سے کامیاب بولرآصف اقبال نے9کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔