صدر اوباما کا خطاب

امریکا مستقبل میں پیش آنےوالےخطرات اورمسائل سےنمٹنےکےلیے اس خطےمیں اپنےقدم ہرلحاظ سےمضبوطی سےجمانےکی کوشش کر رہا ہے۔


Editorial February 08, 2015
پاکستانی حکام کو بھی مستقبل کی اس سرد جنگ سے نمٹنے اور زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے کے لیے اپنے ملکی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔ فوٹو: فائل

KARACHI: امریکی صدر بارک اوباما نے ہفتے کو امریکی کانگریس میں قومی سلامتی کی حکمت عملی کے بارے میں اپنے خطاب میں علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں علاقائی اقتصادی یکجہتی، اسٹرٹیجک استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے ایک بریفنگ میں کہا کہ صدر اوباما کا حالیہ دورہ بھارت بہت اہم تھا لیکن ان کے بقول امریکا سمجھتا ہے کہ بھارت کے پڑوسی ممالک سے تعلقات اچھے ہونے چاہئیں اور اس کے لیے نئی دہلی کو مزید اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

صدر اوباما کے حالیہ دورہ بھارت اور اس موقع پر طے پانے والے دفاعی اور اقتصادی معاہدوں کے تناظر میں یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ امریکا مستقبل میں پیش آنے والے خطرات اور مسائل سے نمٹنے کے لیے اس خطے میں اپنے قدم ہر لحاظ سے مضبوطی سے جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی تھنک ٹینک مستقبل کے حوالے سے 25، 50 اور 100 سالہ تین قسم کی پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں اور امریکا نے اس خطے میں اپنے مفادات کے حصول اور عالمی سطح پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے کتنے سالہ پالیسی تشکیل دی ہے اس کا پس منظر تو سامنے نہیں آیا مگر ایک بات واضح ہے کہ امریکا مستقبل میں اپنی بالادستی کے حوالے سے چین کو ایک خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

اس نے عالمی سطح پر روس کو کمزور کرنے اور اس کا کردار محدود کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جس میں وہ بہت حد تک کامیاب رہا لیکن اب وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ چین کی صورت میں ایک اور نئی طاقت اس کے لیے چیلنج بن جائے۔ امریکی معاشی اور دفاعی تھنک ٹینک چین پر مسلسل نظریں گاڑے ہوئے ہیں اور اس کی ایک ایک پالیسی اور مستقبل میں مرتب ہونے والے اس کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس خطے میں اپنے قدم مضبوط بنانے کے لیے امریکا کی نظریں تین ممالک بھارت، پاکستان اور افغانستان پر ہیں، تینوں ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات گہرے اور مضبوط ہیں اور دفاعی لحاظ سے یہ تینوں ممالک اس سے جڑے ہوئے ہیں۔

افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کا ایک حصہ اب بھی موجود ہے اور افغان حکومت اس کے زیر سایہ ہی اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے بھی اس صورت حال کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکا افغان نیشنل آرمی کی تربیت اور معاونت کے لیے نیٹو اور دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھی اس کے مضبوط دفاعی اور معاشی تعلقات موجود ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کے چین کے ساتھ ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہرے اور شہد سے میٹھے تعلقات ہیں اور پاکستان چین کے خلاف کبھی امریکی پالیسی کا حصہ بننے کے لیے آمادہ نہیں ہو گا، چین نے ہر موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے وہ نہ صرف دفاعی شعبے میں تعاون کر رہا بلکہ دیگر ترقیاتی منصوبوں میں بھی اپنا کردار بخوبی ادا کر رہا ہے۔ ان تمام معاملات کے تناظر میں امریکا نے بھارت کا انتخاب کیا ہے کیونکہ اس کے چین کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں اور وہ چین کے خلاف باآسانی امریکی پالیسی کے تحت اپنا کردار ادا کر سکتا ہے، دوسری جانب بھارت ایک ابھرتی ہوئی معاشی قوت ہے لہٰذا وہ اقتصادی اور معاشی میدان میں بھی امریکی مفادات کو بخوبی پورا کر سکتا ہے۔

قومی سلامتی کی نئی امریکی حکمت عملی میں موجودہ اور مستقبل کے حوالے سے متعدد چیلنجوں سے نمٹنے کے انداز کی وضاحت کی گئی ہے جس میں داعش کے خلاف لڑائی سے لے کر یوکرین میں روس کے خلاف اقدامات اور چین کا ابھر کر سامنے آنا شامل ہے، امریکی حکمت عملی میں اس جانب نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ چین کی فوج کو جدید بنانے کے عمل پر کڑی نظر رکھی جائے گی، اس میں چین کے ایسے کسی کردار کو مسترد کر دیا گیا ہے جس کے تحت علاقائی تنازعات کے حل کے لیے وہ دھمکی آمیز رویہ اختیار کرے۔

ایک جانب امریکی صدر علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے اسے اپنے لیے ایک اہم ملک قرار دے رہے ہیں مگر دوسری جانب جہاں دفاعی اور معاشی استحکام کا تعلق ہے تو وہ تمام نوازشات بھارت کی جھولی میں انڈیل اور پاکستان کو صرف معمولی امداد پر ٹرخا رہے ہیں۔ امریکی حکام یہ تو کہہ رہے ہیں کہ بھارت کو اپنے پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر بنانے چاہئیں لیکن اس حوالے سے وہ بھارت پر دبائو ڈالنے کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں، وہ سامنے نہیں آرہے اور نہ وہ اس خطے کے تنازعات حل کرنے کے لیے کوئی کوشش کر رہے ہیں۔

جب تک مسئلہ کشمیر موجود ہے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر بنانے کی خواہشات کے باوجود کشیدگی کا شکار رہیں گے۔ امریکی پالیسیوں سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس تنازعہ کو قائم رکھنا چاہتا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں امریکا اور چین کے درمیان ایک نئی سرد جنگ شروع ہونے والی ہے۔ پاکستانی حکام کو بھی مستقبل کی اس سرد جنگ سے نمٹنے اور زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنے کے لیے اپنے ملکی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔