قومی ترقی کا فکری مغالطہ

برادرم احسن اقبال پلا ننگ اینڈ منصوبہ بندی کے وزیر سمیت مسلم لیگ ن کے اہم تھنک ٹینک کا حصہ ہیں۔


سلمان عابد June 10, 2026
[email protected]

برادرم احسن اقبال پلا ننگ اینڈ منصوبہ بندی کے وزیر سمیت مسلم لیگ ن کے اہم تھنک ٹینک کا حصہ ہیں۔ان کے بقول پاکستان کی ترقی کا سب سے کمزور لنک ہماری افرادی قوت ہے۔ہم آئی ٹی ،آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور اعلی تعلیم کے میدان میں دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور اس کے لیے وفاق اور صوبوں کو مل کراپنے ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ تعلیم اور آئی ٹی ٹریننگ پر لگانا ہوگا۔کیونکہ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کوئی قوم اپنی افرادی قوت کو نظرانداز کرکے آگے بڑھ سکتی ہے۔

آج ہمارے لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیںاور ایک بڑی تعداد غذائی قلت کے باعث جسمانی اور ذہنی کمزوری کا شکار ہیں۔اگر ہماری نئی نسل کمزور رہ گئی تو وہ عالمی سطح پر جدت اور تخلیق کا مقابلہ کبھی نہیں کر پائے گی۔اس لیے ہمیں اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے انسانی وسائل پرہنگامی بنیادوں پر بڑی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔

اسی طرح وہ ایک جگہ اور کہتے ہیں کہ اب چونکہ وفاق کے مقابلے میں صوبوںکے پاس ترقیاتی فنڈزکا حجم کہیں زیادہ ہے ۔اس لیے صوبائی حکومتوں پر یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے وہ اپنے بجٹ کو قومی ترجیحات کے ساتھ اہم اہنگ کریں ۔اگر وفاق ا ور صوبوں کا رخ ایک دوسرے سے عملا الگ رہا توہم کبھی بھی اپنی مجموعی ترقی،مقاصداور معاشی اہداف کو حاصل نہیں کرسکیںگے۔

یہ واقعی ایک بنیادی نوعیت کا سوال ہے جو برادرم احسن اقبال نے اٹھایا ہے اور اسی نقطہ کو تواتر کے ساتھ ہم بھی ان ہی صفحات پر لکھتے رہے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنی ترجیحات کا درست تعین کرنا چاہیے۔کیونکہ ہم جس روائتی انداز میں ترقی کے ماڈل کو لے کر چل رہے ہیں، اس سے حقیقی ترقی کا سفر آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف جارہا ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارا ریاست اور حکمرانی کا نظام درست ترجیحات کے تعین میں ناکام ہورہا ہے۔ہماری پالیسی سازی،قانون سازی اور مختلف نوعیت کے منصوبے وہ نہیں جو ہمیںحقیقی معنوں میں درکار ہیں ۔

مثال کے طورپر کئی بار ہم نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر تعلیمی اور صحت کا ایمرجنسی کی نہ صرف بات کی بلکہ عملا اس کا اعلان بھی کیا ۔لیکن اس کے باوجود نہ تو اس پر صوبائی حکومتوں کی جانب سے کوئی بڑی مالی سرمایہ کاری کی گئی اور نہ ہی ان پر کوئی بڑی توجہ دیکھنے کو ملی۔سب سے بڑھ کر ہم وفاق اور صوبو ں کی ترقی کے تناظر میںترجیحات کا فرق یا تضاد بھی دیکھ رہے ہیںیا ان میں ہمیں ٹکراو کے کئی پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ 18ویںترمیم کے بعد سندھ میں پیپلز پارٹی،خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی اور پنجاب میںمسلم لیگ ن کی پندر پندرہ برسوں سے حکومتیں قائم ہیں ، درمیان میں ساڑھے چار برس تک پی ٹی آئی پنجاب میں بھی برسراقتدار رہی ہے ۔

لیکن ان صوبوں میں ان جماعتوں کی حکومتیں بڑی تبدیلی کی بنیاد نہیں رکھ سکیں ۔نہ گورننس کا نظام درست ہوسکا اور نہ ہی ادارہ جاتی سطح پر اصلاحات سمیت بجٹ کی سیاست میں ہم صوبائی سطح پر درست ترجیحات کا تعین کرسکے ۔ برادرم احسن اقبال تو خود ہائر ایجوکیشن کے قومی معاملات کی فیصلہ سازی میں شریک رہے ہیں ،اب بھی تعلیمی معاملات میں ان کی رسائی بہت زیادہ ہے ۔لیکن ہم نے اعلیٰ تعلیم کو کہاں سے کہاں لاکر کھڑا کردیا ہے اور یہ جو ہم اپنی جامعات کا علمی زوال دیکھ رہے ہیں،اس کا ذمے دار کون ہے۔

آج ہماری اعلی تعلیم دنیا کی جدید تعلیم سے بہت پیچھے ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہم مسلسل اعلی تعلیم پر سرمایہ کاری یا بجٹ بڑھانے کی بجائے اس میں کٹوتی کررہے ہیں ۔ہماری جامعات تحقیق کے میدان میں بہت پیچھے کھڑی ہیں اور جو بچے یا بچیاں ان جامعات سے پڑھ کر باہر آر ہے ہیں،ان کی صلاحیتوںکو بھی چیلنج کیا جارہا ہے۔اصل میں ہماری سیاسی قیادت کو جب بھی اقتدار کی سیاست کا موقع ملا چاہے اس میں کوئی بھی جماعت شامل ہو اس کی اقتدار میں آنے کے بعد ترجیحات بدل ہی جاتی ہیں۔

جب یہ کہا جاتا ہے کہ ترقیاتی بجٹ کم ہورہے ہیں یا ہمیں اپنے ترقیاتی منصوبوںپر وسائل کی کمی کا سامنا ہے تو ایسے میں یہ سوال بھی ہر سطح پر اٹھنا چاہیے کہ انسانی ترقی یا ترقیاتی منصوبوں پر وسائل کی کمی اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کیونکر اضافہ ہورہا ہے۔احسن اقبال اس پر سوچیں کہ ان کی اپنی حکومت سمیت دیگر اقتدار میں شامل جماعتیں یا حکومتیں یا ریاستی اداروں اور بھاری بھرکم انتظامی یا بیوروکریسی کے غیر ترقیاتی اخراجات میں تسلسل کے ساتھ شاہانہ انداز میں اضافے کو کیسے روکا جاسکے گا۔ایک ایسا ملک جو مسلسل غیر ملکی قرضوں اور سود کی بنیاد پر چل رہا ہو وہاں اس قدر بھاری بھرکم ریاستی وحکومتی ڈھانچہ اور غیرترقیاتی اخراجات کاکیا جواز بنتا ہے ۔سرکاری وسائل کو جس بے دردی سے ہمارا یہ حکمران طبقہ ضایع کررہا ہے اس کی جوبداہی کو کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

اسی طرح احسن اقبال جو اہم منصب پر موجود ہیں ان کو یہ اعتراف بھی کرنا چاہیے کہ آپ کی ترقی کا ماڈل طبقاتی بنیادوں اور چند مخصوص بڑے شہروں کی ترقی سے جڑا ہوا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے دور دراز کے علاقوں کے سماجی ترقی کے اشاریے بہت کمزور ہیں اور مقامی لوگوں کو ترقی سے پیچھے کی طرف دکھیل رہے ہیں ۔اس لیے جب ہم ترقی کے عمل کو تعصب اور طبقاتی بنیادوں پر دیکھیں گے تو اس سے ان مخصوص پس ماندہ علاقوں میں ریاست اور حکمرانی کے نظام کے خلاف ایک ردعمل کی سیاست بھی پیدا ہوتی ہے۔مسلم لیگ ن کا ہمیشہ سے یہ دعوی رہا کہ اس کے پاس باقی جماعتوںکے مقابلے میں عملا سب سے زیادہ تجربہ کاراور صلاحیت والی ٹیم ہے ۔لیکن ہم نے ان کی ترقی کے ماڈل میں انسانی ترقی یا تعلیم اور ٹیکنالوجی کی ترقی کم اور انفراسٹکچرترقی کا ماڈل بہت زیادہ دیکھا ہے ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ خود پنجاب کے بہت سے اضلاع میں سماجی اشاریوں میں بھی تفریق کے پہلو نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔انفراسٹکچر کی ترقی اہم ہے لیکن پہلی ترجیح انسانی ترقی سے جڑی ہوئی ہے اور اس وقت بے روز گاری کا مسئلہ نئی نسل میںسنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے۔تعلیم اور صحت میں ہم تمام تر دعووں کے باوجود بجٹ بڑھانے کی سیاست میں عملا ناکام ہورہے ہیں اور حکمران بنیادی نوعیت کے لوگوں کے حقوق سے دست بردار ہوکر پورے نظام کو نجی شعبے میں دینے کی کوشش کررہا ہے جہاں ریگولیٹری کے عدم شفافیت کے نظام کی وجہ سے لوگوں کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔بالخصوص تعلیم اور صحت کا نجکاری کی وجہ سے لوگ حکومتی نظام سے نالاں نظر آتے ہیں۔

احسن اقبال نے یہ جو نقطہ اٹھایا ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنی ذمے داری میں آگے بڑھیں ۔لیکن یہ کیسے ممکن ہوگا اور کیسے صوبائی حکومتوں کو قومی سطح پر جوابدہ بنایا جاسکے گا۔18ویںترمیم کے بعد سے صوبائی حکومتیں کسی بھی سطح پر نہ توجوابدہ ہیں نہ ہی اپنی ترجیحات کو درست کرنے میں زیادہ سنجیدہ نظر آتی ہیں ۔وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان جو تضاد یا ٹکراو یا بداعتمادی کی پالیسی ہے یا وسائل کی تقسیم سے جڑے مسائل ہیں اس کا حل کیسے ممکن ہوسکے گا؟ہم دنیا کا مقابلہ تو کرناچاہتے ہیں لیکن جو چیلنجز ہمیں داخلی سیاست یا مختلف صوبوں یا پس ماندہ علاقوں کی سطح پر درپیش ہیں ان کا مقابلہ کیسے کرنا ہے اس پر بھی غور وفکر کی ضرورت ہے ۔

ہمیں اعلی تعلیم سمیت ڈیجیٹل یا ٹیکنالوجی یا مصنوعی ذہانت یا دیگر مہارتوں کے ساتھ اپنے مجموعی تعلیمی نظام کو جوڑنا ہے ۔لیکن یہ کام ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کا تقاضہ بھی کرتا ہے ۔ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس قومی ترقی کا کوئی جامع ہوم ورک موجود نہیں بلکہ بیشتر اقتدار کی جماعتیں ردعمل کی بنیاد پر کام کرتی ہیں اور ٹھوس منصوبہ بندی کا فقدان دیکھنے کو ملتا ہے۔احسن اقبال کی تمام باتیں بجا ہیں لیکن کیا ان کی اپنی جماعت اور قیادت بھی ان کی تمام باتوں سے اتفاق کرتی ہیں۔اگر واقعی کرتی ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن اقتدار میں شامل ایک بڑی جماعت کے طور پرنظام میں کیونکر بڑی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں نہیں لاسکی ۔اس لیے اگر ہم ترقی کے عمل میںپیچھے کھڑے ہیں تو اس کی ایک بڑی ذمے داری خود مسلم لیگ ن کی قیادت پر بھی عائد ہوتی ہے۔