اُجلے کردار، قابل اور جراتمند افراد کی ٹیم (دوسری قسط)

’’اس وقت وطنِ عزیز کا ہر شعبہ زوال کا شکار ہے، زوال سے کمال تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے جو کالم میں تجویز کیا گیا ہے۔‘‘


[email protected]

ملک کے لیے اجلے کردار کے قابل، تجربہ کار اور جراتمند افراد کی ٹیم کی ضرورت اور افادیت پر کالم تحریر کیا تو سیکڑوں لوگوں نے رابطہ کیا، میسج بھی آئے اور اس کے علاوہ ملک کا درد رکھنے والے بے شمار افراد نے برقی خطوط کے ذریعے تحریر کی تائید کی اور اپنی تجاویز اور مشوروں سے نوازا۔ کئی شعبوں کے ماہرین نے واضح الفاظ میں لکھا کہ ’’اس وقت وطنِ عزیز کا ہر شعبہ زوال کا شکار ہے، زوال سے کمال تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے جو کالم میں تجویز کیا گیا ہے۔‘‘

ملک سے محبت کرنے والے بہت سے صاحبانِ علم ودانش نے اس تجویز کو ملک کے گوناگوں مسائل پر قابو پانے کا واحد workable solution قراردیا۔ بہت سے محبِ وطن افراد نے مختلف انداز میں ایک ہی بات کہی کہ اس وقت ملک کے اقتدار اور وسائل پر چند خاندان قبضہ جما چکے ہیں، وہ سیاست کے ذریعے اپنی دولت اور اختیار میں اضافہ کرتے ہیں، سیاست ان کے لیے بزنس ہے جس میں کروڑوں روپے لگا کر وہ الیکشن جیتتے یا جتوادیے جاتے ہیں اور اس کے بعد سیاست کے یہ انویسٹر یعنی چوہدری صاحب، رانا صاحب، میاں صاحب، خواجہ صاحب، خان صاحب، شاہ صاحب، چیمہ صاحب، چٹھہ صاحب، تارڑ صاحب وغیرہ دو ایکڑوں سے دو ہزار ایکڑ کے مالک بن جاتے ہیں اور کئی فیکٹریاں اور پٹرول پمپ اپنے بچوں کے نام کروالیتے ہیں، ممبر بن کر یہ پولیس اور انتظامیہ کو اپنے کنٹرول میں رکھتے ہیں، کوئی باضمیر اہلکار ان کی غیر قانونی خواہش ماننے سے انکار کرے تو اسے فوراً تبدیل کرادیتے ہیں، انھیں کوئی باکردار، بااصول اور قانون کی پیروی کرنے والا سول سرونٹ قابلِ قبول نہیں ہوتا، اقتدار پر قبضے کے اس کھیل کا نام انھوں نے جمہوریت رکھا ہوا ہے۔ اسی کی ڈگڈگی بجا کر ایک ایک گھر کے چار چار افراد اسمبلی کے ممبر بن جاتے ہیں۔

 اسی کے تحت انھوں نے اپنے گھرانوں کی ان گھریلو خواتین کو بھی اسمبلی میں لاکر بٹھادیا، جنھوں نے آج تک کسی موضوع پر ایک لفظ نہیں بولا۔ اسی سیاسی کھیل کے تحت یہ اپنے بیٹوں، بیٹیوں، بہنوں، پوتوں، نواسوں تک کو تخت پر بٹھانے کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں، چھٹی ساتویں عیسوی والی اس موروثیت پر انھوں نے جمہوریت کا لبادہ چڑھایا ہوا ہے۔ یہ جمہوریت نہیں جمہوریت کے نام پر ملکی وسائل اور اختیارات پر قبضے کا عیارانہ کھیل ہے، یہ عوام کے مفادات کے منافی ہے۔ یہ میرٹ اور انصاف کو پامال کررہا ہے اور یہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

بہت سے لوگوں نے اپنے تبصرے میں کہا ہے اور درست کہا ہے کہ عوام کو انصاف دلانے کے لیے فوری طور پر پولیس اور عدالتی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے مگر کیا نون لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جمیعت علماء، یا ایم کیو ایم نے کبھی اس سلسلے میں کوئی سنجیدہ کوشش کی ہے، ہر گز نہیں۔ کیونکہ یہ پارٹیاں پولیس اور انتظامیہ کی اصلاح نہیں چاہتیں، یہ صرف انھیں استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے علاوہ دوسری سیاسی یا مذہبی پارٹیوں کے پاس بھی اداروں کی اصلاح کا کوئی حل یا عملی پروگرام موجود نہیں ہے۔ اس لیے اصل تبدیلی کی توقع مارکیٹ میں موجود (حکومت اور اپوزیشن دونوں) سیاستدانوں سے کرنا احمتوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ یہ لوگ حل نہیں دے سکتے، یہ تو خود part of the problem ہیں، ان سے حل کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

بہت سے لوگوں نے تحریری طور پر اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’’دردِ دل رکھنے والے افراد کی تشویش خوش آئیند ہے‘‘ اس بات کو بھی سراہا گیا کہ تجویز میں کسی ’’ایک مسیحا‘‘ کی بات نہیں کی گئی بلکہ بے داغ کردار کے قابل افراد کی ٹیم کا نظریہ پیش کیا گیا ہے جو درست بھی ہے اور قابلِ عمل بھی۔ کچھ لوگوں نے درست کہا کہ موجودہ سسٹم سے فیضیاب ہونے والی اشرافیہ صرف الیکشن کو جمہوریت سمجھتی ہے۔ وہ پیسے یا دھونس سے الیکشن جیت جاتی ہے۔ اور اس کے فوراً بعد یہ لوگ آمر اور فاشسٹ بن جاتے ہیں۔ جمہوریت میں تو چیک اینڈ بیلنس ہوتا ہے اور کسی فرد یا ادارے کے پاس لامحدود اختیار نہیں ہوتے۔ بڑے سے بڑے عہدیدار پر بھی چیک اور قدغن ہوتی ہے مگر یہاں کے حکمران معمولی سا چیک برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے انھوں نے چیک ختم کرنے کے لیے ترمیموں کے کلہاڑے سے سسٹم کو اپاہج بنا دیا ہے، ان ترمیموں کا محرک اور مقصد عوام کی فلاح و بہبود نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل کرنا ہے۔

ملک کے اقتدار اور اختیار پر کئی دھائیوں سے قابض سیاسی اشرافیہ کے ایک گروپ سے تنگ آگئے تو انھوں نے یہ سوچ کر عمران خان صاحب سے امیدیں وابستہ کرلیں کہ وہ اپنی دلکش باتوں پر عمل کرکے دکھائیں گے، پولیس اور انتظامیہ میں اصلاح کرکے انھیں غیر جانبدار بنائیں گے، اپنے دعووں کے مطابق کرپشن کا خاتمہ کریں گے اور کرپشن میں ملوث وزیروں، مشیروں اور افسروں کو نشانِ عبرت بنادیں گے، ہر ادارے اور محکمے میں میرٹ اور انصاف کا راج ہوگا، اور ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔ مگر وزیراعظم بننے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے منہ سے یہ تین الفاظ نہیں نکل سکے، میرٹ، غیر جانبداری اور قانون کی حکمرانی۔ انھوں نے اپنے قریبی لوگوں کی کرپشن کو مکمّل تحفّظ دیا اور یہ سب کچھ جمہوریت کے نام پر ہی ہوتا رہا کہ وہ وزیراعظم ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔

تو کیا ایسی جمہوریت کو عوام نے چاٹنا ہے؟ پرانے حکمران خاندان ہوں یا عمران خان اور ان کے قریبی رفقاء یا حکومت میں شامل چھوٹی پارٹیاں، ان سب پر کرپشن کے الزامات لگتے رہے، کسی کی حکومت کو بھی clean and competent یا کامیاب حکومت قرار نہیں دیا جاسکتا، اور بالآخر سب حکومتوں کی مقبولیت کم ہوتے ہوتے زمین دوز ہوگئی، یہ اس لیے ہوا کہ کسی کے پاس پانچ افراد بھی ایسے نہیں تھے جو اجلے کردار کے حامل ہوں اور قابل، باصلاحیّت، بے لوث اور اپنی ذات کی بجائے ملک کے لیے کچھ کرنے کے جذبے سے سرشار ہوں۔

اسی لیے ملک کا درد رکھنے والے صاحبانِ دانش سمجھتے ہیں کہ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر سطح پر کرپشن کا خاتمہ ہو اور قانون کی حکمرانی (Rule of law) قائم کی جائے۔ یہ ٹاسک اجلے کردار کے باصلاحیّت افراد کی ٹیم ہی مکمل کرسکتی ہے۔ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے لیے ایک ایسی ٹیم درکار ہے جو بے داغ کردار کے حامل، باصلاحیّت اور جراتمند افراد پر مشتمل ہو، جو سادہ زندگی گذارتے ہوں، جن کی بیرون ملک کوئی جائداد نہ ہو، جو کسی عہدے کے طلبگار نہ ہوں جو اقربا پرویری کو جرم سمجھتے ہوں اور جو ایمان، ضمیر اور اعلیٰ اصولوں کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہونے دیں۔

جہاں تک عوام کی حکمرانی واپس دلانے کا تعلق ہے تو وہ طاقتور طبقات کے ساتھ جنگ کرنے سے نہیں مکالمہ کرنے سے واپس لیا جاسکتا ہے۔ موجودہ سیاسی حکمران چونکہ دسترخوان کے مزے لوٹ رہے ہیں اس لیے وہ تو اس پر بات ہی نہیں کریں گے، اپوزیشن میں بیٹھے ہوئے زیادہ تر لیڈر بھی صرف یہ چاہتے ہیں کہ موجودہ حکمرانوں کو ہٹا کر ہمیں گود میں بٹھا لیا جائے۔ اگر اعتماد اور جرات کے ساتھ طاقتور طبقات کے ساتھ کوئی بات کرے گا اور دلائل کے ساتھ مکالمہ کرے گا تو اسی ٹیم کے وہ باکردار افراد کریں گے جن کی دیانت، قابلیت اور حب الوطنی شک وشبے سے بالاتر ہوگی، اس گروپ کو یقیناً سب اہمیت دیں گے اور ان کے وزنی دلائل کو کبھی نظر انداز نہیں کرسکیں گے۔ جب بے لوث افراد کی ٹیم پورے اخلاص کے ساتھ یہ بتائے گی کہ مایوسی کے باعث پوری نئی نسل disorient ہورہی ہے، ان کا وطنِ عزیز سے رشتہ کمزور ہورہا ہے اور وہ مادرِ وطن سے لاتعلق ہورہے ہیں، تو ان کے موقف کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور وزن دیا جائے گا۔ نیک نیتی سے کی گئی مسلسل اور پرخلوص کوششیں یقیناً نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔

میں یہ لائینیں تحریر کررہا تھا تو مجھے ایک سینئر صحافی نے ایک سابق انتہائی ذہین، بے حد پڑھے لکھے اور محب وطن جنرل حمید گل مرحوم کا ایک کلپ بھیج دیا جس میں وہ واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ ’’اس ملک کو صرف ایک طاقت بچا سکتی ہے اور وہ ہے قُوّتِ کردار‘‘۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ باکردار اور قابل افراد کی ٹیم ہی ملک کی بقاء کی ضامن ہوسکتی ہے، مگر اس ٹیم کو یہ ذمے داری کیسے ملے گی؟ اس اہم ترین سوال پر کسی اگلی نشست میں تفصیلی بات ہوگی۔