وطنِ عزیز میں ہر وقت سیاسی گہما گہمی کا سماں رہتا ہے۔ کبھی سیاست دان اپنی سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں تو کبھی عوام سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے ۔ آج کے تیز رفتار اور جدید دور میں ذرائع ابلاغ نے عوام کوخبریت کا شعور بھی دے دیا ہے جس کی پہلے ضرورت نہ تھی کیونکہ کہتے ہیں کہ بے خبری بھی ایک نعمت ہے، انسان بے خبری کے باعث پُرسکون زندگی گزار سکتا ہے۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ جدید ابلاغی دور کو برا کہا جائے یا بھلا،آج ہر وہ خبر چند سیکنڈز میں ہمارے پاس پہنچ جاتی ہے جس سے ہمارا براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا، لیکن پھر بھی ہم اس پر تبصرہ کرنے یا اس سے متاثر ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ خیبر سے کراچی اور مکران کے ساحلوں سے اسلام آباد کی غلام گردشوں تک کا یہ سفرآج عوام کو بھی معلوم ہے۔ ان آٹھ دہائیوں میں ملک کو درست سمت میں گامزن کرنا تو درکنار ابھی تک ہم اسی مخمصے کا شکار رہے ہیں کہ کون سی سیاسی جماعت یا گروہ اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا حق دار ہے اور ریاستِ پاکستان کے خدوخال کیا ہونے چاہئیں۔
صوبوں کی تقسیم ضروری ہے یا غیر ضروری۔ یہ سوال آج زیرِ بحث ہے۔لیکن کیا یہ وقت مناسب ہے کہ چاروں صوبوں کو مزید تقسیم کر دیا جائے جب کہ معروضی حالات یہ ہیں کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا، میں دہشت گردی کی صورتِ حال سب کے سامنے ہے۔ وہاں کیا تقسیم کرنا ہے؟ پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرست سندھ کی تقسیم سے انکاری ہیں۔ آخر میں پنجاب ہی بچتا ہے، اسے جتنا مرضی تقسیم کرلیں ، باقی تین صوبوں کے سیاستدان بھی برملا کہتے ہیں کہ پنجاب کے پندرہ بیس صوبے بنا دیے جائیں، انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
البتہ اس بار مسلم لیگ ن کی قیادت شاید اس کے حق میں نہ ہو، پنجاب میں دانشور حلقوں سے بھی پہلی بار پنجاب کی تقیسم کے خلاف آواز اٹھتی نظر آتی ہے لیکن اب معاملہ ’’نہ جائے ماندن، نہ پائے رفتن‘‘ والا بن چکا ہے۔ بہرحال ابتدائی طور پر اسلام آباد کو صوبائیت کے پردے میں ڈھالنے کی تجاویز تیار ہیں ، یہاں پر یہ تجربہ کیا جائے گا۔ بعد ازاں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی باری آئے گی۔صوبوں کی تقسیم کے متعلق لاہور میں ایک مباحثہ بھی ہوا جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے ایک دو سیاستدان، چند ٹی وی اینکرزاور کالم نگار اور چندکاروباری افراد سمیت وفاقی وزیر داخلہ بھی شریک تھے۔
یہاں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کلمئہ حق بلند کیا اور کہا کہ پہلے اسمبلیوں میں عوام کے ووٹوں سے منتخب لوگوں کو لایا جائے اور بعدازاں اسمبلیوں سے صوبوں کی تقسیم کے متعلق قراردادیں لائی جائیں۔ کیونکہ جب تک عوام کے ووٹ کی طاقت سے منتخب اراکین اسمبلی میں موجود نہیں ہوں گے، اس بات کا کیسے تعین کیا جائے گا کہ صوبوں کی تقسیم کو عوامی حمایت حاصل ہے۔ ہائبرڈ نظام اگر یہ فیصلہ کرے گا تو اسے عوام قبول نہیں کریں گے۔خواجہ صاحب خود بھی قید رہے ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ سیاسی معاملات سیاستدانوں کو بیٹھ کر حل کرنے چاہئیں نہ کہ سیاسی مخالفین کو قید میں ڈال کر۔ ایک تقریب میں عمران خان کی وہ تقاریر بھی نشر کی گئیں جن میں وہ صوبوں کی تقسیم کی بات کر رہے ہیں۔ اب سندھ میں پاکستان تحریکِ انصاف کی عوامی رابطہ مہم بھی جاری ہے۔
دوسری جانب حکومت میں شامل وزرائے کرام جن میں ہمارے دوست محسن نقوی سرفہرست ہیں انھوں نے صوبائی انتظامی یونٹس کو نہ صرف ضروری قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ان کے قیام کے صرف خدوخال طے کرنا باقی ہیں فیصلہ ہو چکا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال کے تناظر میں نئے صوبوں کو قابلِ عمل قرار نہیں دیا اور مسائل میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
’نظام مفلوج ہو چکا ہے اور ملک چل نہیں پا رہا‘۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس کے گرد صوبائی تقسیم کی بحث گھوم رہی ہے۔ لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس تقسیم کے بعد عوام کے مسائل حل ہو جائیں گے؟ انھیں انصاف ملے گا، روزگار ملے گا، ملک میں کاروبار کا پہیہ چل پڑے گا، کسان کو اس کی محنت کا پھل ملنا شروع ہو جائے گا اور عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہو جائیں گی؟یا پھر صرف اشرافیہ کی عیاشیوں کا سامان کرنے کی کوشش ہو رہی ہے؟اگر عام آدمی کے مسائل کے حل کی جانب کوئی مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے تو پاکستانی عوام اپنے سیاسی رہنماؤں اور مقتدرہ پر ایک بار پھر اعتبار کرنے کو تیار ہو جائیں گے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اس بات کی ضمانت کون دے گا؟ یا پھر یہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا ایک اور ایسا تجربہ ہوگا جس کے نتائج کا بوجھ ایک بار پھر عام آدمی ہی کو اٹھانا پڑے گا؟اصل سوال شاید صوبوں کی تعداد کا نہیں، نظام کی کارکردگی کا ہے۔
اگر موجودہ نظام اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر پا رہا تو صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے عوام کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟ اگر انصاف کا حصول مشکل ہے، ادارے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر پا رہے، روزگار کے مواقع محدود ہیں اور عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے تو اسے اس بات سے کیا فرق پڑے گا کہ اس کے صوبے کا نام وہی رہتا ہے یا اس کے حصے بخرے کرکے چند نئے صوبے بنا دیے جاتے ہیں؟بزرگوار محمد اظہار الحق نے پاکستانی عوام کی کیا شاندار ترجمانی کی ہے۔
غلام دوڑتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے