سانحہ بلدیہ پولیس نے فیکٹری مالکان جنرل منیجر اور سیکیورٹی گارڈ کو ذمے دار قرار دیدیا

آگ لگنے کے بعد فائر الارم نہیں بجایا گیا اور نہ ہی کسی بھی فلور پر ملازمین کومطلع کیا گیا


Staff Reporter October 05, 2012
فیکٹری مالکان کے حکم پر جنرل منیجر نے آگ لگنے کے بعد مفرور ملزم شاہ رخ اورگرفتارچوکیداروں سے فوری دروازے بند کرائے تھے،چشم دید گواہان۔ فوٹو: فائل

پولیس نے سانحہ بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں فیکٹری مالکان ،جنرل منیجراور سیکیورٹی گارڈ کوذمے دار،گرفتار دو ملزمان کو بیگناہ اور ایک ملزم کو مفرور قرار دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کو تھانہ سائٹ اور مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر جہازیب خان نے ملزمان کیخلاف عبوری چالان میں نامکمل تحقیقات کی وجوہات سے عدالت کو آگاہ کیا کہ مقدمے میں نامزد فیکٹری مالکان عبدالعزیز ، شاہد اور محمد ارشاد بھائیلا نے عبوری ضمانت کے بعد پولیس کی جانب سے متعدد بار نوٹس جاری ہونے کے باوجود کوئی تعاون نہیں کیا ، ایم ڈی سائٹ، سوشل سیکیورٹی اور ڈائریکٹر انوائرمنٹ سے ودیگر متعلقہ اداروںکو خطوط لکھے لیکن کسی نے بھی تعاون نہیں کیا۔

20 ستمبرکو جنرل منیجر منصور احمد ، ماجد بیگ اورمحمد حنیف کو مخبر خاص کی اطلاع پر گرفتار کیا اور ملزمان کا دو روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ،دوران تفتیش انکشاف ہوا ہے کہ فیکڑی میں موجود ملازمین کی اموات کی ذمے دار انتظامیہ ہے جن میں مالکان عبدالعزیز بھائیلا ،ارشد ، شاہد بھائیلا ، منصور ، شاہ رخ اور چوکیدار ہیں کیونکہ آگ لگنے کے بعد فائر الارم نہیں بجایا گیا اور نہ ہی کسی بھی فلور پرکام کرنے والے ملازمین کومطلع کیا ، عینی شائدین کے مطابق آگ ساڑھے چھ بجے لگی تھی اور 25 منٹ تک آگ کسی اور فلور پر نہیں لگی تھی اور ممکن تھا کہ جوں ہی آگ لگی تھی انتظامیہ تمام فلور خالی کراسکتی تھی لیکن انتظامیہ نے کسی کو اطلاع تک نہیں دی۔

جس جگہ آگ لگنا شروع ہوئی وہ انٹری اور ایگزٹ دروازوں کے بالکل مخالف سمیت میں تقریباً پچاس میٹر کے فاصلے پر ہے اور سیڑھیوں اور ایگزٹ دروازوں پر آگ لگنے کے اثرات نظرنہیں آئے ہیں یعنی کم از کم ایک گھنٹے تک سیڑھیوں اور باہر نکلنے کا راستہ محفوظ تھا، مالکان نے ملازمین کو باہر نکالنے کی بجائے مال بچانے کی کوشش کی تھی اور فوراً ہی فلور سے باہر نکلنے کے تمام راستے بند کروادیے تھے، فائر فائٹینگ آلات درست نہیں تھے اور نہ ہی فائر ڈرل تھا ، چشم دید گواہ عبدالحمید ، نذیر ، زبیر نے انکشاف کیا ہے کہ مالکان کے حکم پر جنرل منیجر منصور نے آگ لگنے کے بعد مفرور ملزم شاہ رخ اور گرفتارچوکیدار علی محمد ، فضل احمد اور ارشد محمود سے فوری دروازے بند کرائے تھے ، دوران تفتیش ملزمان ماجد بیگ اورحنیف کے خلاف کوئی مفید بات سامنے آئی اور نہ ہی کوئی شواہد موصول ہوئے ہیں۔

ان دونوں ملزمان کو ضابطہ فوجداری کے ایکٹ169کے تحت رہا کرنے کی استدعا کی ہے، شاہ رخ کو مقدمے کا اہم ملزم قرار دیا گیا ہے ، فیکٹری میں کم عمر ملازمین کی موجودگی کا بھی انکشاف کیا ہے،نادرا اور ڈی این اے ریکارڈ حاصل کرنا باقی ہے،چالان میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آگ گیس لیکیج اور شارٹ سرکٹ کے باعث لگی ہے ،دھماکا خیز مواد اورجان بوجھ کرآگ لگانے کو پولیس نے خارج امکان قراردیا ہے ،عدالت نے 16اکتوبر تک پولیس کو تحقیقات مکمل اور مفرور ملزم کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔