توانائی کا بحرانقدرتی ذرایع سے استفادہ کیا جائے

پاکستان میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حتی المقدور کوشش کر رہی ہے۔


Editorial February 17, 2015
پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی بہت زیادہ گنجائش ہے ، منافع اور آمدن کے لحاظ سے بھی یہ پر کشش شعبہ ہے۔فوٹو : فائل

لاہور: توانائی کا بحران جنوبی ایشیا کے خطے میں ہونے والی ترقی کو متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے حتی المقدور کوشش کر رہی ہے۔ یہ بحران کتنے عرصے میں حل ہوتا ہے اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اس عزم کا بارہا اظہار کر چکے ہیں کہ توانائی کا بحران ان کے دور حکومت ہی میں ختم ہوجائے گا۔ بھارت جو اپنی تیز رفتار صنعتی ترقی کے باعث مستقبل کی ایک ابھرتی ہوئی معاشی قوت کے طور پر سامنے آرہا ہے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

اس سلسلے میں اتوار کو بھارت میں قابل تجدید توانائی (قدرتی ذرایع سورج کی روشنی' ہوا' بارش اور نہروں سے حاصل ہونے والی توانائی) فراہمی کے سلسلے میں ایک کانفرنس ہوئی جس میں 41 ممالک کے نمایندوں سمیت 293 مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں نے 5 سال کے دوران 266 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے توانائی کو محفوظ رکھنے کے لیے عوام پر طرز زندگی کو تبدیل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں احساس نہیں ہو رہا کہ ہم اپنی آیندہ آنے والی نسلوں کے حصے کے وسائل کھا رہے ہیں۔

جس طرح بھارت قدرتی ذرایع سے بڑے پیمانے پر توانائی حاصل کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دے رہا ہے اسی طرح پاکستان کو بھی اس سلسلے میں منصوبہ بندی کرنا چاہیے۔ قدرتی ذرایع سے حاصل ہونے والی بجلی نہ صرف سستی اور یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے بلکہ اس کے منصوبے بھی قلیل مدت میں پایہ تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں۔ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی بہت زیادہ گنجائش ہے ، منافع اور آمدن کے لحاظ سے بھی یہ پر کشش شعبہ ہے۔ اگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کیا جائے تو آیندہ چند سالوں میں پاکستان میں بھی توانائی کا بحران ختم ہو سکتا ہے۔