کراچی کےسرکاری اسپتالوں کےاطراف میں تجاوزات کی بھرمار

رکشا اور ٹیکسوں کے باقاعدہ اسٹینڈ قائم کرلیے گئے ہیں، مریضوں، تیمار داروں اور ایمبولینس ڈرائیوروں کو شدید مشکلات


Staff Reporter February 18, 2015
سول اسپتال شعبہ حادثات کے گیٹ پر رکشے اور ٹیکسیوں کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

FAISALABAD:

محکمہ صحت اوربلدیہ عظمیٰ کراچی کے ماتحت چلنے والے تمام سرکاری اسپتالوں کےاطراف میں تجاوزات مافیا نے مستقل تجاوزات قائم کرلیں، تجاوزات کی بھرمار سے مریضوں، تیمار داروں اورایمبولینس ڈرائیوروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے سول اسپتال، جناح اسپتال، سندھ گورنمنٹ سروسز اسپتال، پولیس سرجن آفس ،سندھ گورنمنٹ اسپتال نیوکراچی، لیاقت آباد اسپتال،کورنگی اسپتال، سعود آباد اسپتال جبکہ بلدیہ عظمی کراچی کے ماتحت چلنے والے عباسی شہید اسپتال، سوبھراج اسپتال، اسپنسر آئی اسپتال سمیت تمام اسپتالوں کے مرکزی گیٹ اوراطراف میں تجاوزات کی بھرمار ہے۔

سرکاری اسپتالوں کے گیٹ اور اطراف میں قائم کی جانے والی تجاوزات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن ان اسپتالوں کی انتظامیہ اور صوبائی محکمہ صحت نے تجاوزات کے خاتمے کیلیے متعلقہ حکام سے رجوع کیا اورنہ ہی ان تجاوزات کو ختم کرانے میں کوئی دلچسپی ظاہرکی، سول اسپتال اور جناح اسپتال کی حدود میں دکانیں اورتجاوزات بھی قائم کرلیے گئے ہیں، معلوم ہوا ہے کہ سرکاری اسپتالوں کی حدود اور اسپتال کے اطراف قائم کی جانےوالی تجاوزات اسپتالوں کی انتظامیہ کی ملی بھگت سے قائم کی جارہی ہیں۔

سرکاری اسپتالوں کے مرکزی گیٹ پر تجاوزات کے ساتھ ساتھ رکشا اور ٹیکسوں کے باقاعدہ اسٹینڈ بھی قائم کرلیے گئے ہیں جبکہ بعض نجی ایمبولینسوں نے بھی اپنے کاؤنٹر قائم کررکھے ہیں جو تجارتی بنیادوں پر کام کررہے ہیں، اس وقت سب سے تجاوزات سول اسپتال کے دونوں مرکزی گیٹ پر قائم ہیں جبکہ ان دونوں گیٹوں کے سامنے اسپتال انتظامیہ کی ملی بگھت سے رکشا اور ٹیکسی اسٹینڈ بھی مستقل طورپر قائم کرلیے گئے ہیں۔

اسپتالوں کے اطراف تجاوزات کی بھرمار اور رکشا وٹیکسی اسٹینڈ قائم کیے جانے سے پیدل چلنے والے افراد کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ مریضوں اوران کے تیماداروں کو اسپتال میں آمدورفت کے لئے شدید ذہنی کوفت کا سامنا ہے، اسی طرح جناح اسپتال کاایک مرکزی گیٹ کئی سال سے بند ہے اور بند گیٹ کے اطراف میں باقاعدہ رکشا وٹیکسی اسٹینڈ اور تجاوزات بھی قائم کرلی گئی ہیں۔

اسپتال کے دوسرے مرکزی گیٹ پر رکشا وٹیکسی اسٹینڈ کے ساتھ ٹھیلے لگائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ایمبولینس ڈرائیوروں کو اسپتال جانے کیلیے دشواریوں اٹھانا پڑرہی ہیں لیکن سول اسپتال اور جناح اسپتال انتظامیہ نے تجاوزات کے خاتمے کیلیے کوئی عملی اقدام اٹھائے اور نہ متعلقہ حکام کو آگاہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتالوں کے اطراف قائم کی جانے والی تجاوزات متعلقہ اسپتالوں کے بعض بااثر اہلکاروں اوراسپتالوں کی سیکیورٹی حکام کی ملی بگھت سے قائم کی گئیں ہیں جہاں سے ماہانہ کرایہ وصول کیاجارہا ہے، اسی طرح سول اسپتال سمیت دیگر تمام سرکاری اسپتالوں کے بعض بااثر اہلکاروں کی ملی بگھت سے تجاوزات قائم کی جارہی ہیں، اسپتالوں کے اطراف قائم کی جانے والی تجاوزات کے حوالے سے جب اسپتالوں کی انتظامیہ سے استفسار کیاتوانھوں نے بتایا کہ تجاوزات کا خاتمہ کرنا ہماری ذمے داری نہیں یہ کام بلدیہ عظمی کراچی کا ہے۔