لیاری مقابلوں میں گینگ وار کے 5 کارندے ہلاک

ہلاک شدگان میں بابا لاڈلہ کے 2 اور عزیر بلوچ گروپ کے 3 کارندے شامل


Staff Reporter February 23, 2015
گینگ وار کارندوں نے لیاری میں بم حملوں اور ہوائی فائرنگ سے خوف و ہراس پھیلادیا، بہار کالونی میں بم حملے میں 8 افراد زخمی، رات گئے صورتحال کشیدہ تھی۔ فوٹو: فائل

لیاری میں پولیس اور رینجرز نے مقابلوں کے دوران لیاری گینگ وار عذیر بلوچ گروپ کے 3 اور بابا لاڈلا گروپ کے 2 کارندوں کو ہلاک کر دیا۔

ہلاک ہونے والوں میں بابا لاڈلا کا مرکزی کمانڈر سہیل عرف خوف بھی شامل ہے، سہیل خوف فوجی جوان اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد کے قتل میں ملوث تھا، گینگ وار کے کارندوں کی جانب سے دستی بم حملوں اور ہوائی فائرنگ کرکے لیاری میں خوف و ہراس پھیلادیا گیا، بہار کالونی میں دستی بم حملے میں 8 افراد زخمی ہوگئے، رات گئے تک علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ تھی۔

تفصیلات کے مطابق کلری کے علاقے لیاری دریا آباد گلی نمبر 6 میں پولیس سے مبینہ مقابلے میں ایک ملزم 32 سالہ عامر عرف ارسلان بلوچ ولد محمود مارا گیا، پولیس نے ملزم کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے ، ہلاک ہونے والے ملزم کی لاش سول اسپتال لائی گئی ، ذرائع کے مطابق عامر دریا آباد کا رہائشی اور لیاری گینگ وار کے سرغنہ لیاری گینگ وار عذیر بلوچ گروپ کے کمانڈر شکیل بادشاہ خان کا کارندہ تھا۔

ایس ایچ او کلری معید نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزم کا نام ارسلان بلوچ تھا اور وہ اس کا بابا لاڈلا گروپ سے تعلق ہے جبکہ ذرائع نے بتایا کہ ملزم شکیل بادشاہ خان کا انتہائی قریبی ساتھی تھا جسے پولیس نے مبینہ طور پر 6 روز قبل حراست میں لیا تھا، ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب اسے اس کے استاد شکیل بادشاہ خان کے گھر کے سامنے کھڑا کر کے گولیاں ماری گئیں، چاکیواڑہ کے علاقے لیاری بہار کالونی میں رینجرز کے ساتھ فائرنگ کے مبینہ تبادلے میں 2 ملزمان سہیل عرف خوف اور شہریار عرف شیری ہلاک ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق ملزمان کا تعلق لیاری گینگ وار کے بابا لاڈلا گروپ سے تھا، دونوں ملزمان قتل، اقدام قتل، پولیس مقابلوں، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان میں ملوث تھے، ذرائع نے بتایا کہ ملزم سہیل عرف خوف عذیر بلوچ گروپ اور علاقے کے تاجروں کے لیے خوف کی علامت بنا ہوا تھا، سہیل کے خوف سے عذیر بلوچ کا اہم کارندہ فیصل پٹھان کوئلہ گودام اور مل ایریا چھوڑ کر فرار ہو گیا تھا جس کے بعد بابا لاڈلا نے اسے وہاں کا کمانڈر بنایا تھا، ہلاک ہونے والا ملزم فوجی جوان اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد کی ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر کئی جرائم میں ملوث تھا۔

مقابلے کے بعد لیاری کے مختلف علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی اور گینگ وار کے کارندوں نے ہوائی فائرنگ اور دستی بموں سے حملے شروع کردیے جس سے پورا لیاری گونج اٹھا، بہار کالونی میں کیے جانے والے دستی بم حملے کے باعث 8 افراد زخمی ہوگئے جنھیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا، ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

واقعے کے کچھ ہی دیر بعد کلاکوٹ کے علاقے عثمان آباد مل ایریا میں پولیس مقابلے کے دوران 2 ملزمان بختیار اور عارف عرف ماما پنجابی ہلاک ہوگئے، ایس ایچ او کلاکوٹ حاجی ثنا اﷲ نے ایکسپریس کو بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے دستی بم، پستول، رائفل اور متعدد راؤنڈ برآمد کرلیے گئے، ملزمان کا تعلق عذیر بلوچ گروپ سے تھا، دریں اثنا کلری کے علاقے میں پولیس مقابلے کے دوران گینگ وار کا ملزم 25 سالہ عامر زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔