ون ڈے کرکٹ سے فیلڈنگ پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ

کپتانوں کو خود اپنی حکمت عملی بنانے کا موقع ملنا چاہیے، منتظمین کو یہ زیب نہیں دیتا


Sports Desk February 23, 2015
ورلڈ کپ پر سمٹ کا انعقاد بھی ہونا چاہیے، ٹیسٹ ٹیموں میں اضافے کی ضرورت نہیں، چیپل۔ فوٹو: فائل

آسٹریلیا کے سابق کپتان ای ین چیپل نے ون ڈے کرکٹ میں فیلڈنگ پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کردیا۔

ان کا کہنا ہے کہ کپتانوں کوخود اپنی حکمت عملی تیار کرنے دینی چاہیے، ورلڈ کپ کے موقع پر کرکٹ سمٹ کا انعقاد ہونا چاہیے، ٹیسٹ ٹیموں میں اضافے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے ویب سائٹ کیلیے اپنے کالم میں کیا۔ چیپل کہتے ہیں کہ چار برس بعد ورلڈ کپ کے انعقاد میں ایک فائدہ یہ بھی کہ بہت سی معلومات اور آئیڈیاز سامنے آتے ہیں، پہلے ہی کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین ویلی ایڈورڈز ون ڈے فارمیٹ کو 'ورلڈ کپ کرکٹ' قرار دینے کی تجویز دے چکے ہیں جبکہ اپنی ٹیم کی شکست کے بعد ویسٹ انڈیز کے مائیکل ہولڈنگ فوری طور پر آئرلینڈ کو ٹیسٹ اسٹیٹس دینے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

اس طرح کے آئیڈیاز اور خیالات اس خاص موقع پر بکثرت سامنے آتے ہیں اس لیے کیا یہ بہتر نہیں کہ آئی سی سی ورلڈ کپ کے دوران کرکٹ سمٹ کا انعقاد کرے اور معلومات اور آئیڈیاز کیلیے باقاعدہ پلیٹ فارم مہیا کرے، چیپل کہتے ہیں کہ ون ڈے کرکٹ کو مسابقتی بنانے کا بہترین طریقہ یہ کہ اس کو کس طرح کھیلنا ہے یہ فیصلہ کپتانوں پر چھوڑ دینا چاہیے، ایڈمنسٹریٹرز پابندیاں عائد کرکے ان کو نہ بتائیں کہ کیسے کھیلنا ہے۔

فیلڈنگ پابندیاں اس سلسلے میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں، یہ کپتان کا اختیار ہونا چاہیے کہ اس کو کتنے فیلڈرز سرکل سے باہر اور کتنے اندر کھڑے کرنے ہیں، اس لیے فوری طور پر آئی سی سی فیلڈنگ پابندیوں کو ختم کرے تاکہ جارحانہ انداز اختیارکرنے والے کپتان اپنی حکمت عملی خود اپنے طریقے سے طے کرسکیں ورنہ پہلی اننگز میں300 کا اسکور اور دوسری کے جدوجہد میں مصروف ہونے کے مناظر دکھائی دیتے رہیں گے، جوں جوں جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے والے کپتان کامیاب ہوں گے دوسرے بھی ان کی نقل شروع کردیں گے جس سے کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔

چیپل کا مزید کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پہلے ہی بنگلہ دیش اور زمبابوے کی ٹیمیں کچھ نہیں کررہیں جبکہ ویسٹ انڈیز بھی ان کے لیول پر پہنچ چکا ہے ایسے میں کسی اور ایسوسی ایٹ ٹیم کو ٹیسٹ اسٹیٹس دینا تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے، پہلے انھیں طویل طرزکی کرکٹ کھیلنے کا عادی بنانے کی ضرورت ہے۔