خصوصی عدالتوں کے ججوں کو ایلیٹ فورس کے22اہلکار فراہم کرنے کی ہدایت

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری خصوصی اجلاس منعقد ہوا


Staff Reporter March 01, 2015
تفتیشی افسران گواہ اورکیس پراپرٹی بروقت پیش کریں،جسٹس انورظہیر،اجلاس میں عدالتی اوقات کار بڑھانے کی تجویز :فوٹوفائل

انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے اعلیٰ سطح اجلاس میں اے ٹی سی ججز اور عدالتوں کی سیکیورٹی پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے ججوں کوایلیٹ فورس کے 2,2 اہلکار فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ذرائع کےمطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ہفتے کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اے ٹی سی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کےلیے خصوصی اجلاس منعقد ہواجس میں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر،کراچی میں قائم تمام اے ٹی سی کے ججوں،ممبرانسپکشن ٹیمII،سیکریٹری قانون، سیکریٹری خزانہ، ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو اور دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں اے ٹی سی ججوں کی سیکیورٹی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں شریک خصوصی عدالتوں کے ججوں نے شکایت کی کہ تفتیشی افسران کی جانب سے گواہ اور کیس پراپرٹی پیش کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے جس سے مقدمات جلد نمٹانے اور مطلوبہ نتائج کے حصول میں دشواری ہوتی ہے، جسٹس انور ظہیر جمالی نے ڈی آئی جی سلطان خواجہ کوہدایت کی کہ تمام تفتیشی افسران کو گواہوں اور کیس پراپرٹی بروقت پیش کرنے کو یقینی بنائیں ۔