عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے ڈرگ لیبارٹریاں اپ گریڈ کرنیکا فیصلہ

ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کوعالمی معیارکے مطابق بنانے کیلیے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہیں، عالمی ادارہ صحت


Staff Reporter March 03, 2015
ملک میں مجموعی طور پر 7ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں موجود ہیں جوعالمی معیار کے مطابق نہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں دواؤں کے کیمیائی تجزیے اوردوا کی افادیت کوجانچے کے لیے عالمی معیارکی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری موجود نہیں ہے اور اسی فقدان کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے ڈرگ لیبارٹریاں اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


عالمی ادارہ صحت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی حکام سے کہا ہے کہ وہ ادویہ کی جانچ پڑتال اور افادیت کو جانچنے کیلیے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کوعالمی معیارکے مطابق بنانے کیلیے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہے۔ اس سلسلے میں پیر کوعالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے کراچی کی ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کا دورہ بھی کیااورموجودہ لیبارٹری کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے اورعالمی معیارکے مطابق بنانے کیلیے تیکنیکی سپورٹ فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

واضح رہے کہ اس وقت ملک بھر میں ادویہ کے کیمیائی تجزیے اور دواؤں کی افادیت کوجانچنے کیلیے مجموعی طور پر 7ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں موجود ہیں جوعالمی معیار کے مطابق نہیں اوران لیبارٹریوں میں سہولتیں بھی میسر نہیں ان میں کراچی میں 2، لاہور میں 3، کوئٹہ اور پشاور میں ایک ایک لیبارٹری شامل ہے ۔عالمی ادارہ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان ، ملک میں 7ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کریں گے۔

وفاقی ڈرگ انسپکٹر عبید علی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ مسئلہ معیار کا نہیں ہے، وسائل اور سیاسی بصیرت کا ہے۔ ہمارے پاس بھی وہی مشینیں، وہی لوگ اور طریقہ کار موجود ہے۔ امریکا میں ادویہ کا ایک سال کا بجٹ 4.9بلین ڈالر ہے۔ دریں اثنا پیرکو فارمسسٹ ایسوسی ایشن اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کے اعزاز میں تقریب بھی منعقد کی۔