سفر کی تھکان کرکٹرز کے اعصاب کا امتحان لینے لگی

یو اے ای سے مقابلے کیلیے 2500 کلو میٹر کا طویل فاصلہ طے کرکے واپس نیوزی لینڈ کے شہر نیپیئر آنا پڑا، مصباح


Sports Desk March 04, 2015
یو اے ای سے مقابلے کیلیے 2500 کلو میٹر کا طویل فاصلہ طے کرکے واپس نیوزی لینڈ کے شہر نیپیئر آنا پڑا، مصباح۔ فوٹو: اے ایف پی

لاہور: سفر کی تھکان پاکستانی کرکٹرز کے اعصاب کا امتحان لینے لگی اور کھلاڑی ہفتہ بھر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان شٹل کاک بنے رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ورلڈکپ کے شیڈول پر نظر ڈالی جائے تو گذشتہ ہفتے پاکستانی ٹیم نے زمبابوے کیخلاف میچ کھیلنے کیلیے کرائسٹ چرچ سے برسبین کا سفر طے کیا، یو اے ای سے مقابلے کیلیے 2500 کلو میٹر کا طویل فاصلہ طے کرکے واپس نیوزی لینڈ کے شہر نیپیئر آنا پڑا، رات کو تاخیر سے آمد کی وجہ سے کھلاڑیوں پر سفر کی تھکان کے آثار نمایاں تھے، دونوں ممالک کے وقت، کنڈیشنز اور پچز میں فرق کی وجہ سے مطابقت پیدا کرنا آسان نہیں ہوتا۔

اس میچ کے بعد ٹیم کو اگلے ہی روز دوبارہ آکلینڈ کا رخ کرنا پڑے گا جہاں 7مارچ کو جنوبی افریقہ سے مقابلہ ہونا ہے، گرین شرٹس اپنا آخری گروپ میچ 15 مارچ کو آئرلینڈ کیخلاف ایڈیلیڈ میں کھیلیں گے۔ پاکستان ٹیم کا شیڈول دیگر ٹیموں کی بانسبت خاصا سخت ہے، گرین شرٹس میزبان ممالک کے درمیان شٹل کاک بنے ہوئے ہیں، دوسری طرف بھارت کے ابتدائی چاروں گروپ میچز آسٹریلیا اور آخری 2 نیوزی لینڈ میں ہیں، سفر کی تھکان کے پیش نظر ہی منگل کو پاکستانی کرکٹرز نے زیادہ سخت ٹریننگ سے گریز کیا، پروٹیز کیخلاف اگلے مشکل ترین میچ میں زیادہ وقفہ بھی نہیں ہے۔

کپتان مصباح الحق بھی اس حوالے سے شکوہ زبان پر لے آئے، پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کے آغاز میں پاکستانی ٹیم کو 2 ہفتے میں 3 میچز کھیلنے کو ملے، مقابلوں کے درمیان بہت زیادہ وقفہ ہو تو ردھم میں فرق آجاتا ہے، دوسری جانب اب صورتحال یہ ہے کہ اگلے 6 دن طویل سفر اور 3 میچز کافی مشکل نظر آرہے ہیں، بدلتے موسم اور مختلف پچز کی وجہ سے کسی بھی ٹیم کیلیے کھیلنا آسان نہیں ہوتا، اس کی وجہ سے کارکردگی میں تسلسل برقرار نہیں رہتا، پاکستان کیلیے تمام میچز جیتنا بہت ضروری ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر میچ کیلیے طویل سفر طے کرنا ہوگا جس سے کافی مشکلات ہونگی۔ یہ صورتحال ٹیم کیلیے ایک چیلنج ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا تاہم اس سے نمٹنے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں، کھلاڑیوں کے حوصلے بلند اور وہ یو اے ای سے مقابلے کیلیے تیار ہیں۔