پاکستانی ٹیم منیجر وقار یونس کے دفاع پر سینہ سپر ہو گئے

سلیکشن میں سابق اسٹارکسی قسم کا تعصب یا پسندناپسندکی سوچ نہیں رکھتے، نوید اکرم چیمہ


Sports Desk March 13, 2015
سلیکشن میں سابق اسٹارکسی قسم کا تعصب یا پسندناپسندکی سوچ نہیں رکھتے، نوید اکرم چیمہ۔ فوٹو: فائل

پاکستانی ٹیم منیجر نوید اکرم چیمہ ہیڈ کوچ وقار یونس کے دفاع پر سینہ سپر ہو گئے اور ان کا کہنا ہے کہ سلیکشن کے معاملے میں کوچ کسی قسم کا تعصب یا پسند ناپسند کی سوچ نہیں رکھتے۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں سرفراز احمد کو کھلانے یا نہ کھلانے کا فیصلہ متفقہ تھا، سلیکشن میں کوچ کسی تعصب کا اظہار نہیں کرتے، نہ ہی پسند ناپسند کو ترجیح دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ناصر جمشید کو محمد حفیظ کی جگہ منتخب کیا گیا اور وہ اسپیشلسٹ اوپنر ہیں، اسی لیے انھیں موقع دیا گیا، جب وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا پائے تو پھر سرفراز احمد کو جنوبی افریقہ کیخلاف میچ کیلیے میدان میں اتارا گیا۔

نوید اکرم چیمہ نے کہا کہ معین خان کی وطن واپسی پر مجھے ٹور سلیکشن کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا، ٹیم کا انتخاب کرتے وقت تمام ضروری پہلوؤں کا جائزہ لیا جاتا ہے، یہ کام اتفاق رائے سے ہوتا اور میں ٹور سلیکشن کمیٹی کا چیئرمین ہونے کے باوجود کپتان و کوچ کی رائے کو فوقیت دیتا ہوں، وہی دونوں میچ کی حکمت عملی تیار کرتے اور اسے میدان میں عملی جامہ پہناتے ہیں۔ اسی لیے انہیں اہمیت دینا ضروری ہے، ہم تینوں حکمت عملی پر غور کے بعد پلیئرز کی فارم، فٹنس اور پچ کو دیکھ کر پلیئنگ الیون چنتے ہیں، میں بھی اپنی رائے دیتا ہوں۔

واضح رہے کہ نوید اکرم چیمہ کو چیف بنانے پر یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ مصباح الحق اور وقاریونس جیسے کرکٹرزکی موجودگی میں ایک نان کرکٹر کو کیسے اتنی بڑی ذمہ داری سونپ دی گئی؟ بطور منیجر ڈسپلن کی پابندی کرانے کیلیے مشہور نوید اکرم چیمہ کی موجودگی میں تاحال پاکستانی ٹیم نے مثالی رویے کا اظہار کیا اور وہ کسی بڑے تنازع میں نہیں الجھی ہے۔