پیٹرسن کا تنازع انگلش بورڈ نے ملبہ جنوبی افریقہ پر ڈال دیا

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے کیون پیٹرسن تنازع کو ہوا دینے کا ذمہ دار جنوبی افریقہ کو ٹھہرا دیا ہے


AFP October 08, 2012
ای سی بی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ کولیئر کا کہنا ہے کہ بیٹسمین نے حریف کھلاڑیوں کے میسجز کے صرف جواب دیے دوسری جانب سے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا. فوٹو : اے ایف پی/فائل

انگلش بورڈ نے کیون پیٹرسن تنازع کا ملبہ جنوبی افریقہ پر ڈال دیا۔

ای سی بی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ کولیئر کا کہنا ہے کہ بیٹسمین نے حریف کھلاڑیوں کے میسجز کے صرف جواب دیے دوسری جانب سے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، پیٹرسن کی ٹیم میں واپسی کا انحصار کوچ اینڈی فلاور پر ہے، دونوں کے درمیان بحالی اعتماد کیلیے مذاکرات بدستور جاری رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے کیون پیٹرسن تنازع کو ہوا دینے کا ذمہ دار جنوبی افریقہ کو ٹھہرا دیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے بعد یہ اطلاعات منظرعام پر آئیں تھیں کہ پیٹرسن نے جنوبی افریقی کھلاڑیوں کو اس وقت کے ٹیسٹ کپتان اینڈریو اسٹروس اور کوچ اینڈی فلاور کے بارے میں نامناسب میسجز بھیجے ہیں، جس پر پیٹرسن کو تیسرے ٹیسٹ سے ڈراپ کرنے کے بعد نہ تو پروٹیز سے ون ڈے سیریز میں کھلایا گیا تھا اور نہ ہی ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کیلیے ان کو منتخب نہیں کیا گیا۔

حال ہی میں ای سی بی اور پیٹرسن کے تعلقات میں پیش رفت ہوئی جس کے بعد بیٹسمین کو 4 ماہ کیلیے کنٹریکٹ بھی دیا گیا۔ اب بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ کولیئر کا کہنا ہے کہ درحقیقت جنوبی افریقی کھلاڑیوں نے پیٹرسن کو میسجز بھیجے تھے جن کے انھوں نے جواب دیے، مناسب اور نامناسب میں ایک چھوٹا سا فاصلہ ہوتا ہے اگر کسی بھی انگلش پلیئر نے ایسا کیا ہوتا تو میں اس کو معاف نہیں کرتا میں سمجھتا ہوں کہ جنوبی افریقہ نے اس معاملے کو بھڑکایا، یہ بھی مجھے ان کی چال لگتی ہے، ماڈرن کرکٹ میں اس طرح کی چیزیں انتہائی افسوسناک ہیں۔

کیون پیٹرسن کی ٹیم میں واپسی کے حوالے سے کولیئر نے کا کہا کہ یہ کوچ اینڈی فلاور پر منحصر ہے میں ہمیشہ یہ بات کہتا ہوں کہ کسی بھی عمارت کو بنانے میں عرصہ لگ جاتا ہے مگر چند سیکنڈ میں اسے تباہ کیا جاسکتا ہے، اعتماد کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے اور اس میں بہتری زیادہ ملاقاتوں سے آئے گی اس لیے رواں ماہ بھی پیٹرسن اور فلاور میں میٹنگز جاری رہیں گی۔