بھتے کی پرچیاں ملنے پر تاجروں نے احتجاجاً دکانیں بند کردیں

کوئٹہ، پنجاب اور اندرون ملک سے بھتہ خوروں کی جانب سے فون کرکے 2 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے


Staff Reporter March 25, 2015
انھیں پولیس پر بھروسہ نہیں لہذا مارکیٹ میں رینجرز کی نفری تعینات کی جائے، مظاہرین فوٹو: ایکسپریس

ایم اے جناح روڈ کے تاجروں کو بھتے کی پرچیاں ملنے اور رقوم کے مطالبے کے لیے اندرون ملک سے فون کالز آنے پر مشتعل دکانداروں نے احتجاجاً دکانیں بند کر کے احتجاج کیا، مظاہرین نے پتھراؤ کر کے ٹریفک معطل کرا دیا اور علاقے میں رینجرز کی نفری تعینات کرنے کا مطالبہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق آرام باغ کے علاقے ایم اے جناح روڈ ڈاؤ میڈیکل سگنل کے قریب تاجروں نے گاڑیوں پر پتھراؤ کر کے ٹریفک معطل کرا دیا اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی ، ایم اے جناح روڈ لائٹ ہاؤس کے قریب قائم اسپورٹس دیگر دکانداروں اور تاجر کو بھتے کی پرچیاں ملیں جبکہ کوئٹہ ، پنجاب اور اندرون ملک کے دیگر شہروں سے بھتے خوروں کی جانب سے فون کالز کر کے2لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کیا گیا، رقوم نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

ایک دکاندار نے ایکسپریس کو بتایا کہ پرچیوں اور فون کالز کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی لیکن پولیس نے دکانداروں کو تحفظ فراہم کرنے سے ٹال مٹول شروع کردی جس پر تمام دکانداروں نے ایسوسی ایشن سے رابطہ کیا، ایسوسی ایشن کے ممبران نے دکانیں بند کرا کر ایم اے جنا ح روڈ بلاک کردیا اور پولیس کے خلاف شدید احتجاج شروع کردیا۔

https://img.express.pk/media/images/Bhatta-message/Bhatta-message.webp

احتجاج کے باعث ایم اے جناح روڈ ڈینسو ہال سے ٹاور تک بدترین ٹریفک جام ہوگیا، مشتعل دکانداروں نے الزام عائد کیا کہ تین روز سے جناح اسپورٹس اور دیگر چار دکانداروں کو فون پر نامعلوم افراد دھمکیاں دیں ، بھتہ خور کبھی پنجابی اور کبھی پشتو زبان میں بات کرتے ہیں، مظاہرین کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ کو تاجروں سے بھتہ ختم کرنے کا دعویٰ جھوٹا ہے کیونکہ لی مارکیٹ، کھجور بازار، جوڑیا بازار سمیت اولڈ سٹی ایریا کی دیگر مارکیٹوں سے باقاعدگی سے بھتہ وصولی جاری ہے جس کے بارے میں علاقہ پولیس بھی جانتی ہے، تاجروں کے احتجاج کی اطلاع پر پولیس اور رینجرز موقع پر پہنچ گئی۔

پولیس افسران نے مشتعل تاجروں سے بات چیت کی اور انھیں یقین دہانی کرائی کے پولیس مارکیٹ کے لیے پولیس اہلکاروں کو تعینات کریگی جو تاجروں کو تحفظ فراہم کریگی تاہم مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ انھیں پولیس پر بھروسہ نہیں لہذا مارکیٹ میں رینجرز کی نفری تعینات کی جائے پولیس افسر کی یقین دہانی پر دکاندار منتشر ہوگئے اور دکانیں دوبارہ کھول دیں، پولیس نے ایک گھنٹے کی جدو جہد کے بعد ٹریفک کی روانی بحال کرادی۔

ایس ایچ او آرام باغ عالم ڈہری نے بتایا کہ متاثرہ دکاندار کو تھانے طلب کیا ہے کہ وہ پولیس کو وہ نمبر دیں جس نمبر سے انھیں بھتے کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں ، دکانداروں نے پولیس کو بتایا کہ وہ مارکیٹ بند ہونے کے بعد رات میں تھانے آکر مقدمہ درج کرائیں گے، واضح رہے تاجروں نے ایم اے جناح روڈ پر دکانوں کے باہر پوسٹر چسپاں کیے ہوئے ہیں جس میں وہ تمام موبائل فون نمبر لکھے ہیں جس سے ان کو بھتہ کے لیے فون کالز آتی ہیں۔