پاکستان کو ایم آئی 35 ہیلی کاپٹر دینے کو تیار ہیں روس

پاکستان اوربھارت تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلیے کوششیں اور مذاکرات جاری رکھیں، روسی سفیر


APP March 30, 2015
پاکستان اوربھارت تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلیے کوششیں اور مذاکرات جاری رکھیں، روسی سفیر۔ فوٹو: فائل

QUETTA: پاکستان میں روس کے سفیرالیکسے وائی دیدوف نے پاکستان اوربھارت کے درمیان مذاکراتی عمل کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلیے دونوں پڑوسی ممالک کو کوششیں جاری رکھنی چاہئیں، پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون اہم عنصر ہے، پاکستان کوایم آئی 35ہیلی کاپٹروں کی فروخت کرنے کے لیے تیار ہے۔

اے پی پی کو خصوصی انٹرویو میں انھوں نے بھارتی خارجہ سیکریٹری کے اس ماہ کے اوائل میں دورہ پاکستان کا خیرمقدم کرتے کہا کہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے تعلقات میں بہتری کی خواہش کااظہار کیاہے۔ روسی سفیرپاک روس اقتصادی تعاون کے امکانات کے جائزے کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں کادورہ کررہے ہیں۔ افغانستان سے متعلق ایک سوال پرانھوں نے پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ ان کاملک جنگ زدہ ملک میں امن واستحکام کویقینی بنانے کے لیے افغان عوام کی زیرقیادت مصالحتی عمل چاہتاہے، روس افغان صدراشرف غنی کے دورہ پاکستان کے بعدپاکستان وافغانستان کے درمیان حالیہ پیشرفت کا خیرمقدم کرتاہے، پاکستان افغانستان کے حوالے سے اہم ملک ہے۔

افغانستان میں اپوزیشن عسکری نکتہ نگاہ سے بڑی مضبوط ہے۔ داعش پہلے ہی افغانستان میں داخل ہو چکی ہے، اگرچہ وہ فعال نہیں تاہم جلدیا بدیروہ اپنی سرگرمیاں شروع کرسکتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغان منشیات کی اسمگلنگ پرقابو پائے جودہشت گردی کی فنڈنگ کابڑا ذریعہ ہے۔ انھوں نے کہاکہ شنگھائی تعاون تنظیم بھی ایک فورم ہے، اس کے ارکان افغانستان میں استحکام کے فروغ کے لیے تعاون کرسکتے ہیں۔ پاکستان کوایم آئی 35ہیلی کاپٹروں کی فروخت کے لیے بات چیت مکمل ہونے پرفی یونٹ قیمت یاتعداد سے متعلق تفصیلات کافیصلہ کیاجائے گا۔

ان ہیلی کاپٹروں کی خریداری سے دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی صلاحیت مضبوط ہوگی۔ ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی کوششوں میں شریک ہیں۔ انھوں نے کہاکہ گذشتہ سال اپریل اوراکتوبر میں روس کے 2بحری جہازوں نے پاکستان کے تجارتی مرکزکراچی کا دورہ کیااور روس نے گذشتہ ماہ بین الحکومتی کمیشن کے تیسرے اجلاس کے دوران درمیانے اور چھوٹے پیمانے کے ہائیڈل پروجیکٹس میں دلچسپی کااظہار کیاجن سے 1770میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔

روس نے ناران کے 300 میگا واٹ پاورپروجیکٹ، 1320میگاواٹ کے تربیلا 5پروجیکٹس اوردریائے کابل پروارسک ڈیم کے 2یونٹوں کی تعمیر میں دلچسپی کااظہار کیاہے۔ ان منصوبوں کے لیے پروٹوکول پرپہلے ہی دستخط ہوچکے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے ایجنڈے میں گلگت وبلتستان میں دریائے سندھ پر دیامربھاشاڈیم بھی شامل ہیں جس میں روسی کمپنیاں دلچسپی لے سکتی ہیں۔