متحدہ کے 60گرفتارکارکنوں کی اہلخانہ سے ملاقات کی درخواست پرنوٹس

قانون کے تحت ان کواہل خانہ سے ملاقات کاحق حاصل ہے،درخواست گلفرازخٹک کامؤقف


Staff Reporter April 03, 2015
قانون کے تحت ان کواہل خانہ سے ملاقات کاحق حاصل ہے،درخواست گلفرازخٹک کامؤقف فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹوکی سربراہی میں2رکنی بینچ نے نائن زیرو سے گرفتارایم کیوایم کے60کارکنان کے اہل خانہ کی ملاقات پرڈائریکٹرجنرل رینجزرسندھ،آئی جی جیل خانہ جات اوردیگرکو7اپریل کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ میں ایم کیو ایم کے مرکزنائن زیروسے گرفتار60کارکنوں کے اہل خانہ نے گلفرازخٹک ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائرکی تھی کہ11مارچ کو رینجرزنے نائن زیروکے قریب سے ان کے رشتے داروں کوحراست میں لیااورانھیں90دن کیلیے ہی نظربندکردیاگیاہے، اس دوران ان کے اہل خانہ نے ان سے ملنے کی کوشش کی تومدعا علیہان نے ملنے کی اجازت نہیں دی۔درخواست گزاروں کے مطابق مدعاعلیہان کایہ عمل بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

قانون کے تحت ان کواہل خانہ سے ملاقات کاحق حاصل ہے،فاضل بینچ نے درخواست گزاروں کے وکیل کا مؤقف سننے کے بعدایڈووکیٹ جنرل سندھ،ڈی جی رینجرزاورآئی جی جیل خانہ جات کو7 اپریل کیلیے نوٹس جاری کردیے۔دریں اثناسپریم کورٹ آف پاکستان نے رینجزرحملہ کیس میں سزائے موت پانے والے ملزموںکی اپیلوںکی سماعت ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ میں عطاالرحمٰن اورشہزادباجوہ کی جانب سے ان کودی جانے والے سزائے موت کیخلاف اپیل دائرکی ہوئی ہے،استغاثہ کے مطابق شہزاد اور عطاالرحمٰن نے2004میں بلوچ کالونی کے پل پررینجرزکی گاڑی پرفائرنگ کرکے 3رینجرزاہلکاروں کو ہلاک اور6کوزخمی کردیاتھا،اس الزام میں انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزمان کوسزائے موت سنائی تھی۔