عمران کاامن مارچ کامیابفائدہ اٹھانے کا موقع گنوادیا طلعت حسین

آخری تقریرمیںڈرونز،طالبان،اوراس نظریہ جو ریاست کو نہیں مانتا کیخلاف ایک لفظ نہیںکہا


Monitoring Desk October 09, 2012
لبرل میڈیاکا تعصب بے نقاب ہوگیا،لائیوود طلعت میں تحریک انصاف کی ریلی کا تجزیہ فوٹو : فائل

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ڈرون حملوں کے خلاف ریلی سے جہاں کئی کامیابیاں حاصل کیں وہیں۔

انھوں نے اس کا بھرپورفائدہ اٹھانے کے مواقع بھی ضائع کیے۔ ان خیالات کا اظہار ایکسپریس نیوز کے اینکر پرسن طعلت حسین نے اپنے پروگرام لائیو ود طعلت میں تحریک انصاف کی ریلی کا تجزیہ کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ مسلسل جنگ اور تشدد سے ہٹ کر امن کے حوالے سے مثبت زاویہ خبروںکی زینت بناہے جوایک بڑی کامیابی ہے۔ڈرون حملوں پرحکومت اور سیاسی جماعتوں نے دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ باتیں تو بہت کی جاتی ہیں مگر عمل کوئی نہیں ہے۔صرف خانہ پُری کی جاتی ہے۔ یہ بھی پہلی بار ہی ہوا ہے کہ ایک منظم احتجاج کے ذریعے ڈرون حملوں کی جانب توجہ دلائی گئی۔

یہ مقامی نہیں قومی سطح کا احتجاج تھا جس میں بین الاقوامی قافلے بھی شامل تھے۔ اس کو صرف سیمینار تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ عوام کے سامنے لایا گیا۔ یہ احتجاج امریکاکو بھی جواب ہے جو یہ کہتا تھا کہ ڈرون حملوں سے تو پاکستانی عوام بالکل سیخ پا نہیں ہیں۔ میڈیا اس معاملے کو خواہ مخواہ اٹھاتا ہے۔ اس احتجاج پر پاکستان کا میڈیا جو خود کو لبرل کہتا ہے وہ بھی ایکسپوز ہو گیا ہے۔ اس نے عمران خان کی ریلی کے بارے میں تعصب کے ساتھ رپورٹنگ کی۔ عمران کی ایک خامی یہ ہے کہ وہ موقعہ کی مناسبت سے تقریر نہیں کر پاتے۔ ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کا اختتام جس تقریر پر ہوا وہ بے ربط تھی اور اس میں تسلسل نہیں تھا۔

پورا میڈیا اس وقت ان کے ساتھ تھا مگر انہوں نے ڈرونز ، فاٹا اور وزیرستان کے بارے میں بات کرنے کی بجائے تقریباً سارا وقت ساتھ جانے والے لوگوں کا شکریہ ادا کرنے میں ضائع کر دیا۔ اتنا لمبا شکریہ تو کسی سیمینا ر میں بھی ادا نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک سیاسی جلسہ سے زیادہ نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ایک لفظ بھی ڈرونز، طالبان ، کالعدم تحریک طالبان اور اس نظریہ کے خلاف جو ریاست کو نہیں مانتا کے بارے میں ایک لفظ نہیںکہا۔ جب ملک کی حساس تنصیبات پر حملے ہوتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اس کے منصوبہ ساز وزیرستان میں بیٹھے ہیں۔ عمران نے اس بارے میں بھی بات نہیں کی۔

عمران خان نے اس خطے کا ایک متوازن تجزیہ کرنے کا ایک سنہری موقع گنوا دیا۔امریکی رائے عامہ کے علاوہ ، برطانیہ، جاپان، ترکی اور دنیا کے بہت سے ممالک کے عوام ڈرون حملوں کے حق میں ہیں۔ عمران خان لوگوں کی رائے اور ڈرون پالیسی کو کیسے تبدیل کرائیں گے۔ اگر ڈرون حملے نہ رکے تو کیا عمران بار بار مارچ کریں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ڈرونز اور حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے والے وزیرستان میں موجود گروپس کے بارے میں تحریک انصاف کیا پالیسی اپناتی ہے۔