مشروط اسٹرٹیجک معاہدہ پاکستان نے کرزئی کا بیان مسترد کر دیا

افغان صدرکا بیان بے محل ہے،سنجیدہ مذاکرات چاہتے ہیں،بھاری جانی ومالی قربانیاں دیں


افغان صدرکا بیان بے محل ہے،سنجیدہ مذاکرات چاہتے ہیں،بھاری جانی ومالی قربانیاں دیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان نے مجوزہ اسٹرٹیجک معاہدے کومشروط کرنے سے متعلق افغان صدرکا بیان قطعاً بے محل اور بے بنیاد قراردیا ہے ۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے پیر کو جاری کردہ بیان میںواضح کیا ہے کہ پاکستان باہمی احترام اور مفاد کی بنیاد پر افغانستان کے ساتھ ہمسائیگی کے اچھے تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے، پاکستان چاہے گا کہ افغانستان کے ساتھ سنجیدہ اور ذمے دارانہ مذاکرات کیے جائیں لیکن میڈیاکے ذریعے سفارتکاری سے گریز کیا جائے۔ انھوںنے مزید کہا کہ مجوزہ اسٹرٹیجک معاہدے کی تجویز صدر کرزئی نے نیویارک میں سہ فریقی سربراہ اجلاس میں دی تھی اور 29 ستمبر 2012 کو نیویارک سے جاری کردہ پریس ریلیز میں اس کا اظہار کیا گیا تھا۔

کرزئی کی جانب سے پاکستان پردہشت گردانہ حملوں کی حمایت کے الزامات کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ ان کے ملک نے افغانستان میں استحکام کے فروغ کیلیے بھاری جانی ومالی قربانیاں دی ہیں۔افغان صدر نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ اسٹرٹیجک پارٹنرشپ معاہدہ کرنے پر خوشی ہوگی لیکن ایسا کرنے سے قبل ہمارے خدشات دور کرناہوں گے۔