سرمایہ کاری کے لیے ساز گار ماحول کی ضرورت

پاکستان کو جتنی معاشی ترقی درکار ہے.


Editorial April 29, 2015
پاکستان کو جتنی معاشی ترقی درکار ہے،۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

ISLAMABAD: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت انتہاپسندی اور توانائی بحران کے خاتمے اور معاشی استحکام کے لیے درست سمت میں گامزن ہے۔ ہماری معاشی پالیسی میں سرمایہ کاری کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے اسپیشل ٹاسک فورس قائم کی جائے گی۔

یہ بات انھوں نے پیر کو بن قاسم انڈسٹریل پارک میں ایک موٹر سائیکل پلانٹ کے افتتاح کے موقعے پر خطاب میں کہی ۔ ارباب سیاست ، ہمارے معاشی ماہرین اور پالیسی سازوں نے اقتصادی ترقی اور عوام کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی اولین ترجیع بناکر درست سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ دنیا اب اسی معاشی محور پر گھوم رہی ہے کہ سیاست جنگی ہتھیاروں سے کھیلنے اور مفادات کے نئے توسیعی میدان ڈھونڈنے کا نہیں بلکہ اقتصادی استحکام اور معاشی شرح نمو سے عوام کو معاشی طمانیت اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا نام ہے۔

پاکستان کو جتنی معاشی ترقی درکار ہے، اس سے صرف نظر کرنے کی اب کوئی گنجائش نہیں، پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری اور ہنر مند افرادی قوت کو اندرون یا بیرون ملک کھپت کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں پیداواری لاگت اب بھی خطے کے دیگر ممالک سے کہیں کم ہے۔

توانائی بحران کے خاتمے کے لیے موجودہ حکومت بڑے فیصلے کررہی ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق کہ اس وقت ملک میں بجلی کی قلت 4500 میگاواٹ ہے جب کہ 2017تک سسٹم میں10600میگاواٹ مزید بجلی آجائے گی جس میں سے3600میگاواٹ بجلی ایل این جی سے پیدا کی جائے گی۔ اس وقت تمام معاشی اشاریے درست سمت میں ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ موجودہ حکومت نے محض دو سال کے عرصے میں بجٹ خسارے میں35فیصد کمی کی ہے۔ موٹر سائیکل پلانٹ 50ملین ڈالر کی لاگت سے لگایا گیا ہے۔ موجودہ حکومت نے اگر یہ معاشی و صنعتی ترقی کا راز پالیا تو اسے کوئی طاقت پاکستان کو معاشی ٹائیگر بنانے سے نہیں روک سکتی۔