قومی اسمبلی گیلانی کے فیصلوں کو تحفظ دینے کیلئے آرڈیننس میں توسیع کی قرارداد پیش

قرارداد خورشید شاہ نے پیش کی، اسلام آبادمیں پلوں کی تعمیر نو اور مرمت کیلیے500 ملین روپے مختص کیے گئے


Numainda Express October 11, 2012
بجلی پرہر ماہ 25 ارب سبسڈی دے رہے ہیں، چوری روکے بغیرلوڈشیڈنگ ختم نہیںہوسکتی، تسنیم قریشی، سینیٹ میں وقفہ سوالات۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے احکامات، فیصلوں اور اقدامات کو قانونی تحفظ دینے کیلیے آرڈیننس کومزید 120 دنوں کی توسیع دینے کی قرارداد پیش کر دی گئی۔

وفاقی وزیر خورشید شاہ کی طرف سے پیش ہونے والی قرارداد میں کہا گیا کہ آرٹیکل 89 کی شق (2) کے پیراگراف (الف) کے ذیلی پیرا (i) کے جملہ شرطیہ کے تحت توثیقی آرڈیننس 2012ء (نمبر 6 بابت 2012ء) میں 23 اکتوبر 2012 سے 120 دن کی توسیع کی جائے۔ دریں اثنا توجہ دلائو نوٹس کاجواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے بتایاکہ اسلام آبادمیں پلوں کی تعمیر نو اور مرمت کیلیے 500 ملین روپے مختص کیے گئے جن میں سے صرف 80 ملین گزشتہ سال خرچ ہوسکے بقیہ رقم سی ڈی اے کے پاس موجود ہے ۔

ادھر ایوان نے اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی ریسٹورنٹس اور سکولوں و کالجوں کے قیام اور ''شیشہ اسموکنگ پوائنٹس '' کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی چھان بین اور تحقیقات کیلیے تمام سیاسی جماعتوں کے ارکان پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ این این آئی کے مطابق سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی وزیرمملکت برائے پانی وبجلی تسنیم قریشی نے وقفہ سوالات کے دوران بتایا کہ حکومت ہر ماہ بجلی پر25ارب کی سبسڈی دے رہی ہے ، سبسڈی ختم کردی جائے تو صارفین بجلی خریدناچھوڑدینگے ، بجلی چوری روکے بغیر لوڈشیڈنگ ختم نہیں ہوسکتی۔

الیاس بلور نے کہا کہ کے ای ایس سی80ارب کی مقروض ہے پھر بھی حکومت ان پر کیوں مہربان ہے ، شاہی سید نے کہا کہ کے ای ایس سی نے4500 ملازمین کو جبری نکالا، وہاں معاہدے کے اندر ایک معاہدہ کیا ہوا ہے ، اس پر تسنیم قریشی نے کہا کہ کے ای ایس سی کی طرف سے کسی کو جبری نہیں نکالا گیا ۔