شاہدحامد قتل کیس دوبارہ کھولاجائےاہلیہ صولت مرزا

12مئی کوپھانسی دیدی گئی تودیگرملزمان کوسزائیں نہیں مل سکیں گی،صولت مرزاکاخط


Staff Reporter May 07, 2015
12مئی کوپھانسی دیدی گئی تودیگرملزمان کوسزائیں نہیں مل سکیں گی،صولت مرزاکاخط۔ فوٹو : فائل

JHELUM: کے ای ایس سی کے سابق ایم ڈی شاہدحامد کے قتل میں سزائے موت پانے والے مجرم صولت مرزا کی اہلیہ نکہت مرزانے میڈیاکوصولت مرزاکاخط دکھاتے ہوئے کہاہے کہ صولت مرزانے اس خط کے ذریعے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف، چیف جسٹس سپریم کورٹ وہائی کورٹ سمیت متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ شاہد حامد قتل کیس دوبارہ کھولاجائے۔

اس کیس میں ملوث دیگرملزمان کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے،اگر مجھے 12مئی کو پھانسی دے دی جاتی ہے توپھر دنیا کی کوئی طاقت اس کیس کے دیگرملزمان کو سزائیں نہیں دلا سکتی،میں اپنی سزا معاف کرنے کا مطالبہ نہیں کررہاہوں، صرف حکام سے یہ اپیل کررہاہوں کہ مجھے یہ موقع دیاجائے کہ میں اس کیس میں دیگرملزمان کے خلاف گواہی دے سکوں۔ بیگم صولت مرزانے اپنی رہائش گاہ پرپریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے شوہر صولت مرزا کاخط بدھ کوانھیں مچھ جیل سے موصول ہواہے،جس میں انھوں نے اعلیٰ حکام اورانسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ ان کی اپیل کا نوٹس لیا جائے، 12مئی کو ان کو پھانسی دی جائے گی۔

اگر12مئی کو مجھے پھانسی دی گئی توپھر اس کیس میں ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین اور بابرغوری کو کوئی سزا نہیں دلا سکتاہے،انھوں نے کہا کہ اگرمیں جھوٹا ہوں تو مجھے پھانسی پرلٹکادیاجائے۔انھوں نے کہاکہ میں نے اپنے تمام اعترافات اپنی مرضی سے کیے ہیں،میں سچا ہوں اس لیے کہہ رہاہوں کہ اس کیس کے دیگرذمے داروں،سہولت کاروں اورہدایت دینے والوں کوبھی لٹکایا جائے، انھوں نے کہاکہ اگر مجھے پھانسی دے دی گئی تو پھر یہ ثابت ہوجائے گاکہ حکومت سیاسی مصلحت کاشکار ہوگئی ہے اور اس کیس کو دوبارہ اوپن نہیں کیا گیاہے،انھوں نے حکومت کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ اس کیس کی دوبارہ تفتیش کرائے تاکہ کراچی کے حالات پرامن ہوسکیں۔

نکہت مرزا نے کہاکہ ان کے شوہر صولت مرزا نے اپنے خط میں مزید کہاہے کہ انھوں نے بابرغوری پرجو الزامات لگائے ہیں، اگر بابر غوری سچے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں آرہے،بیگم صولت مرزا کے مطابق صولت مرزا نے کہا کہ اگر ان کی سزا پر عمل درآمد ہوجاتاہے تو یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ سیاسی کارکنوں کوٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور پھر ان کوپھینک دیا جاتاہے،ہم نے سنا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم پاکستان آئی ہے تاہم صولت مرزا تک انھیں رسائی نہیں دی گئی۔

کراچی آپریشن کیلیے صولت مرزا کا مقدمہ ایک مثال بن سکتا ہے، چھوٹے لڑکوں کو پھانسی دینے کے بجائے ٹارگٹ کلرز کو پیداکرنے والوں کو پھانسی دی جائے اورکراچی میں ٹارگٹ کلرز کی فیکٹری کو بندکیا جائے، صولت مرزا کی اہلیہ نے حکام سے اپیل کی کہ وہ شاہد حامدقتل کیس دوبارہ اوپن کروائیں، اگرہماری فیملی کوانصاف نہیں مل سکتاتوکم ازکم شاہدحامد کے ورثاکو انصاف دیا جائے اور اس کیس کے دیگر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے،صولت مرزا نے اپنی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روکنے کیلیے حکومت سے یہ درخواست کی ہے کہ انھیں صرف اتنی مہلت دی جائے کہ انھوں نے جوالزامات اور بیانات دیے ہیں وہ اس حوالے سے عدالت میں گواہ کے طور پر پیش ہوسکیں،ہماری فیملی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ حکومت، عدلیہ اور اعلیٰ حکام شاہدحامد قتل کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کریں گے۔