ذوالفقار مرزا کی ایک اور مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور

3 مئی کو ہنگامہ، توڑ پھوڑ، دکان سے 30لاکھ لوٹنے پر سابق وزیر کے3حامیوں کا جسمانی ریمانڈ


Staff Reporter May 19, 2015
تینوں مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی ایک لاکھ روپے کے عوض 3 یوم کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرلی اور ہدایت کی ہے کہ وہ اس مدت میں متعلقہ عدالت میں پیش ہوجائیں۔

سندھ ہائیکورٹ میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی کہ درخشاں تھانے میں ان کے خلاف تھانے کا محاصرہ اور اہلکاروں کو دھمکیاں دینے کے الزام میں بدنیتی اور سیاسی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ درخواست کی سماعت سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو اور جسٹس عبدالمالک کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نے کی۔ حفاظتی ضمانت منظور کیے جانے کے بعد ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ جب میں تھانے گیا تو وہاں اسنائپر موجود تھے جس پر میں نے اپنے تحفظ کے لیے گارڈ کو ہدایات جاری کی تھیں۔

دریں اثنا انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج بشیر احمد کھوسو نے بدین میں قائم 3مقدمات سیشن عدالت منتقل کرنے سے متعلق سابق وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی درخواست پر اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کو آج (منگل کو) کیلیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ پیر کو ذوالفقار مرزا نے وکیل کے توسط سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف بدین میں ہنگامے، توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور کار سرکار میں مداخلت کے3 مقدمات درج کیے گئے۔

تینوں مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے، یہ مقدمات دہشت گردی کے ذمرے میں نہیں آتے لہٰذا مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ خارج کرکے مقدمات سیشن کورٹ منتقل کرنے کے احکام جاری کیے جائیں۔ دریں اثنا اسی عدالت نے ہنگامے، بلوہ اور لوٹ مار کے مقدمے میں ملوث سابق صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے3 حامیوں محمد خان، ہاشم اور خدا بخش کو22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پرپولیس کی تحویل میں دے دیا۔