ملالہ حملہہم نے شدت پسندی خود اپنے سرتھوپی ہےایازامیر

یہ بددیانتی ہے کہ ملالہ کے معاملے کواچھالاجائے اوردوسرے پرزبان نہ کھولی جائے،پراچہ


Monitoring Desk October 14, 2012
حملے کے بعدقومی سوچ سامنے آئی،حیدررضوی، فوزیہ قصوری کی ٹودی پوائنٹ میںگفتگو ، فوٹو: فائل

مسلم لیگ ن کے رہنماایاز امیر نے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی پرحملے جیسے واقعات پر علما کا ردعمل غصے والا ہے اور یہ اچھی بات ہے۔

دنیامیں بہت سی جنگیں لڑی گئی ہیں لیکن کہیں بھی اس طرح کے واقعات نہیں دیکھے گئے،دنیا میں کسی بھی معاشرے میں کسی بھی بچی کواس طرح کے تشددکا نشانہ نہیں بنایا گیا، اس پر طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کا بیان کہ اگرملالہ بچ گئی توہم پھراس پرحملہ کرینگے افسوسناک ہے۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام''ٹودی پوائنٹ ''میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ دہشت گردی ایسامعاملہ ہے جس پرسیدھی بات کرنی چاہیے ، شدت پسندی ہم نے کہیں سے لی نہیں،ہم نے خوداپنے آپ پرتھونپی ہے،پاکستان میں ایک ایسی سوچ موجودہے جو یہ سمجھتی ہے کہ صرف ملالہ پرحملے کی بات نہیں کرنی چاہیے،یہ سوچ یہ سمجھتی ہے کہ گستاخانہ فلم کے بعد پاکستان میں احتجاج کے نام پر جوہوا وہ درست تھا،سیاسی قیادت پر بھاری ذمے داری عائدہوتی ہے کہ وہ قوم کی سوچ کومنقسم ہونے سے بچائے اوران کوایک واضح سمت دے۔

جماعت اسلامی کے رہنمافرید پراچہ نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے کی ہر ذی شعورمذمت کرے گا، ہم اس کی صفائی نہیں دے رہے بلکہ ہم توکہتے ہیں کہ حملہ کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں بلکہ ہم توقصور واروں کی سخت سزاکے حق میں ہیں،بھارت اسرائیل اور امریکا کو نظرانداز کرکے یہ کہا جاتا ہے کہ مذہبی جماعتیں ذمے داری پوری نہیں کرتیں، یہ بددیانتی ہے کہ ایک معاملے کواچھالا جائے اور دوسرے پرزبان نہ کھولی جائے ۔

ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہاکہ ملالہ پرحملے کے بعدایک قومی سوچ ،قومی تشخص سامنے آیا ہے اور سارے مکتبہ فکر کے لوگ ملالہ پرحملے کی مذمت کررہے ہیں،مذہبی جماعتوںکے کبھی امریکاتوکبھی کشمیر سے مفادات جڑے تھے،کبھی ان کوکہیں سے ریال آتے تھے توکہیں سے ڈالر،نام نہادافغان جہادنے پاکستان کے کلچرکواسلحہ سے آلودہ کردیا، ہمیں اب سنجیدہ ہوناچاہیے،ورنہ حالات اوربھی خراب ہو جائیں گے۔تحریک انصاف کی رہنمافوزیہ قصوری نے کہاکہ اس وقت پاکستان میںکوئی واؔضح ڈائریکشن نہیں، حکومت کی منتشرپالیسیوںسے قوم تقسیم ہے کیونکہ لیڈرشپ خودتقسیم ہے،اس وقت ملک کو سنجیدہ قیادت کی بہت ضرورت ہے ۔