سیاسی قیادت کے فہم وفراست کا امتحان

ہم چاہتے ہیں کہ جمہوریت چلے اوراس کی جڑیں مضبوط ہوں کیونکہ جمہوریت کی قدر انھیں ہے جنہوں نے گھر سے جنازے اٹھائے


Editorial June 18, 2015
سچی بات ہے زرداری کے جو دل میں تھا جو خدشات یا واہمے تھے وہی زبان پر لے آئے مگر کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئے۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD: پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی ایک پرجوش مگر تلخ تقریر اس وقت ملک بھر میں موضوع سخن ہے،اس پر متضاد آراء سامنے آئی ہیں اور سیاسی طورپر خاصی ہلچل مچی ہوئی ہے، گزشتہ روز پیپلزپارٹی فاٹا کے منتخب عہدیداران کی تقریب حلف برداری سے پارٹی کے سربراہ صدر آصف علی زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تنگ کرنے کی کوشش کی گئی توہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے،مجھے طاقت، وزارت عظمیٰ یا صدارت سے کوئی سروکار نہیں۔ مجھے صرف اپنی پارٹی سے، قوم کی اور عوام کی خدمت سے سروکار ہے۔

کہتے ہیں باتیں چھپانے یا دل میں رکھنے سے انسان پر بوجھ بڑھ جاتا ہے، زرداری جیسے کول مائنڈڈ انسان کا جذباتی ہوکرخطاب کرنا اور اس پرکچھ لوگوں کا فوری ردعمل اور وزیراعظم نوازشریف سے ہونے والی ملاقات کی منسوخی نے گو کہ بعض شکوک وشبہات کو جنم توضرور دیا ہے کہ لیکن ہم نہیں سمجھتے کہ سابق صدر آصف علی زرداری بعض شکوئوں وشکایت کے باوجود کسی بھی قومی ادارے کے خلاف انتہا پسندانہ سوچ کے حامل ہیں ۔

کوئی اگر دل سے کہہ دے تو اس کے شکوے وشکایات کو دور کرنے کی تدبیر کرنی چاہیے نہ کہ اس پر بلاسوچے سمجھے رائے زنی کر کے سیاسی فضا مکدر کردی جائے۔ہم چاہتے ہیں کہ جمہوریت چلے اوراس کی جڑیں مضبوط ہوں کیونکہ جمہوریت کی قدر انھیں ہے جنہوں نے گھر سے جنازے اٹھائے۔ سچی بات ہے زرداری کے جو دل میں تھا جو خدشات یا واہمے تھے وہی زبان پر لے آئے مگر کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئے ۔

جس کے باعث سیاسی طور پر بھونچال کی کیفیت پیدا ہوئی، دراصل وطن عزیز میں جمہوریت کی ریل پٹڑی پر تیزرفتاری سے دوڑ رہی ہے، اس ٹرین کے مسافر جمہور ہیں ، جو پرامید ہے کہ یہ ٹرین انھیں منزل مقصود پر پہنچا کر دم لے گی ، فوج اس وقت اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نبردآزما ہے، فوج ودیگر سیکیورٹی فورسز دفاع وطن کا اہم فریضہ سرانجام دی رہی ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب ملک کے دفاع ، سلامتی اور بقا کے لیے عوام ،حکومت اور پاک فوج ایک پیج پر ہیں تو سیاسی قیادت کو ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچنا چاہیے کہ یہ وقت ایسی باتوں کا نہیں ، بلکہ یہ وقت فہم وفراست اور تدبر سے کام لینے کا ہے، وطن اور اس کی جغرافیائی حدود سلامت رہیں ، شکوے گلے تو پھر بھی دور ہوسکتے ہیں ، گھر تو آخر اپنا ہے۔