دہشت گردی کے خلاف حتمی ہدف

کرپشن کا راستہ روکنے اور دہشت گردی سے ملک کو پاک کرنے کے لیے قوم کا ایک نکاتی ایجنڈہ پر متفق ہونا ناگزیر ہے


Editorial June 21, 2015
اگر اہل سیاست و حکومت شفافیت اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں تو وہ دہشتگردی کے خاتمے کی جدوجہد میں حکومت اور فوج کا ساتھ دیں۔ فوٹو: فائل

بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ ہمارا حتمی ہدف ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنا ہے، دہشت گردوں کے ساتھ ان کے مددگاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائیگا۔ آرمی چیف نے جمعہ کو سارا دن خیبر ایجنسی میں فوجی جوانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ گزارا۔

یہ عالمی دفاعی اصول اور قومی و ملکی بقا کا لازمی تقاضہ ہے کہ جب ملکی سالمیت اور خود مختاری کو کوئی خطرہ لاحق ہو، داخلی امن و امان کی صورتحال دہشت گردی، تخریب کاری، لاقانونیت، باغی گروہوں، کالعدم تنظیموں کی سرکشی حد سے بڑھ جائے اور سیاسی بے حوصلگی، سماجی افراتفری اور معاشی عدم استحکام کے مہیب سائے قومی زندگی میں بے چینی پیدا کریں تو فوج کا فرض بنتا ہے کہ وہ وطن کے دفاع اور داخلی امن کے لیے اپنا آئینی اور قومی فریضہ انجام دینے میں تاخیر نہ کرے۔

یہ قوم کی خوش بختی ہے کہ پاکستان کو آج دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے میں نہ صرف کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں بلکہ سیاسی و عسکری قیادت نے قومی سلامتی، دفاع، اور مجرمانہ عناصر کے خلاف یک جان و یک زبان ہو کر سیاسی معاشی اور عملی اسٹرٹیجی مرتب کی، دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ مسمار کر ڈالے، ان کے کمان کی کمر توڑ دی اور تحریک طالبان پاکستان کے بے شمار کمانڈروں اور ازبک سمیت دیگر غیر ملکی جنگجوئوں کو ان کے نام نہاد عقابی نشیمنوں میں مار ڈالا۔ یہ غیر معمولی عسکری کارروائی آپریشن ضرب عضب کے نام سے جنرل راحیل شریف کے عزم مسلسل کا نتیجہ ہے ۔

جس میں پہلی بار ملکی سیاسی منظر نامہ میں سیاسی و عسکری قیادت کو قومی امور کی انجام دہی اور امن کی بحالی کے مشن میں ہم آہنگ اور دمساز دیکھا گیا۔ یہ بنیادی عسکری ڈاکٹرائن میں خوش آئند تبدیلی تھی جس نے ملکی سلامتی کے دشمنوں اور ریاست کے خلاف مورچہ بند ہونے والی بے منزل و بے خود طاقتوں کا بھرم کھول کر رکھ دیا۔ یہی وہ عناصر تھے جنھوں نے عوام کو مسلکی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے اور اپنے خود ساختہ ایجنڈے پر مجبور کرنے کی گھنائونی وارداتیں کیں۔

مگر شکر ہے کہ پاک فوج جنرل راحیل شریف کی قیادت اور حکومتی سیاسی استقامت کے باعث فاٹا میں انتہا پسندوں کو ہر محاذ ہر شکست دے رہی ہے، جب کہ سندھ ایڈمنسٹریشن میں گھسے بیوروکریٹس، وزراء اور سیاسی شخصیات کی بدعنوانیوں، جعلسازیوں اور لوٹ کھسوٹ کے خاتمہ کے لیے رینجرز اور پولیس اور سندھ نیب کی مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل راحیل پہلے افغان سرحد کے قریب جوارو نامی علاقے میں گئے اور فوجی آپریشن میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔

انھوں نے خیبر ایجنسی میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے قربانیاں دینے پر فوجی افسران اور جوانوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ جنرل راحیل شریف نے انہیں بتایا کہ خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ بہت حد تک ختم کر دیے گئے ہیں اور اب لڑائی پاک افغان سرحد کے قریب آخری کچھ علاقوں میں ہو رہی ہے۔ لہٰذا ضرورت اسی بات کی ہے کہ دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے، انھیں دوبارہ سے واپسی اور خود کو منظم کرنے کا موقع نہ ملے۔

بلاشبہ علاقہ میں بارودی سرنگوں کی بھرمار ہے، اور عسکری قیادت کے مطابق شمالی وزیرستان کے بعد خیبر ایجنسی میں بھی دہشت گرد سب سے مشکل اور دشوار علاقے کو اپنے گڑھ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، تاہم وقت یقین دلا رہا ہے کہ ایک غیر متزلزل قومی عزم، ارادے اور واضح سمت کے تعین کی بدولت پاکستان کی مسلح افواج کو وطن عزیز کو دہشت گردی سے پاک کرنے کا حتمی ہدف حاصل کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ادھر سندھ حکومت کی طرف سے یہ خوش آئند خبر آئی ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے 15 برس سے معرض التوا میں پڑی ہوئی پاک فوج کی جانب سے 9600 ایکڑ اراضی کے حصول کی درخواست منظور کر لی ہے جو شہداء کے ورثاء کے لیے مانگی گئی تھی۔

ان شہداء میں200 کا تعلق سندھ سے ہے۔ بلاشبہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں اور مددگاروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا مقصد حتمی عسکری ہدف کی تکمیل ہے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، جمہوریت دشمن اور سیاسی نظام کو بدنام کرنے والے مفاد پرست عناصر کسی کے دوست نہیں ہو سکتے، یہ سیاست، سماج، مذہب اور اداروں کو تارپیڈو کر دیتے ہیں۔ یہ جمہوریت کی پختگی کے مواقع ضایع کرتے ہیں، سازشیں کر کے انتظامی مشینری کو یرغمال بنا لیتے ہیں، اس لیے سندھ حکومت سمیت کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز اور ملکی سیاسی عمائدین کو چاہیے کہ وہ سیاسی ماحول کی گرمی کا ازالہ کریں، داخلی سیاسی کشمکش اور کشیدگی نقصان دہ ہے۔

کرپشن کا راستہ روکنے اور دہشت گردی سے ملک کو پاک کرنے کے لیے قوم کا ایک نکاتی ایجنڈہ پر متفق ہونا ناگزیر ہے اور وہ نقطہ سیاسی چھتریاں استعمال کرنے والے کرمنل ماسٹر مائنڈز اور ان کے کارندوں کو بچانے یا چھپانے سے دور رہنے کا ہے۔ دانا کہتے ہیں کہ جب ریل گاڑی فل اسپیڈ سے آ رہی ہو تو سامنے نہیں آنا چاہیے۔ اگر اہل سیاست و حکومت شفافیت اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں تو وہ دہشتگردی کے خاتمے کی جدوجہد میں حکومت اور فوج کا ساتھ دیں۔ یہ قومی بقا و سلامتی کا مسئلہ ہے۔