بجلی کی شدید لوڈ شیڈنگ

پہلی سحری اور افطاری میں ہی ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کی بندش کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔


Editorial June 21, 2015
بجلی کی پیداوار میں اضافے اور ٹرانسمیشن لائنیں ٹھیک کر کے ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ فوٹو: فائل

ویسے تو ہماری تمام حکومتوں کے تمام وعدے ہی ناقابل اعتبار ہوتے ہیں لیکن مصیبتوں کے مارے عوام کے پاس سرکاری وعدوں پر یقین کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار بھی تو نہیں ہوتا کہ ان وعدوں سے کچھ تو وقتی طور پر دل کو تسلی ہو جاتی ہے۔

اس مرتبہ رمضان مبارک سے قبل حکومت کی طرف سے خاصے تیقن کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا کہ اور کچھ ہو نہ ہو سحر و افطار کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ بالکل نہیں ہو گی۔ اور یہ ایک ایسی قابل یقین بات تھی جس سے روزہ رکھنے والے عوام دل سے مطمئن ہو گئے لیکن رمضان المبارک میں سحر و افطار کے دوران لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، پہلی سحری اور افطاری میں ہی ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کی بندش کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جہاں بجلی غائب رہی وہیں پانی بھی ناپید ہو گیا جو بجلی کی بندش سے بھی کہیں بڑا عذاب تھا۔ اکثر علاقوں میں شہریوں نے شدید مشکلات میں رمضان المبارک کی پہلی سحری کی۔ کئی شہروں میں ہر آدھے گھنٹے بعد 3 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے شہری چکرا کر رہ گئے۔ کراچی کے کئی علاقے سحر وافطار کے وقت اندھیرے میں ڈوبے رہے۔ مساجد میں وضو اور گھروں میں پینے کے لیے پانی تک ختم ہو گیا۔ کراچی میں خاصے عرصے سے بجلی کی صورت حال خراب ہے۔

قیامت خیز گرمی اور ماہ صیام میں بجلی کی طویل بندش نے شہریوں کو بے حال کر دیا۔ ادھر لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، راولپنڈی، میں بھی لوڈشیڈنگ جاری رہی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں صورت حال زیادہ خراب رہی۔ صوابی میں ہزاروں مشتعل مظاہرین نے واپڈا دفتر اور ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کو آگ لگا دی۔

بلوچستان بھی طویل اور غیر علانیہ لوڈشیڈنگ کا شکار رہے، باجوڑ ایجنسی میں مسلسل چوبیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نے لوگوں کی چیخیں نکلوا دیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے سحر ی کے اوقات میں لوڈشیڈنگ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت پانی و بجلی سے جواب طلب کیا ہے۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ شدید گرمی میں بجلی کی طلب بہت بڑھ گئی ہے۔ ادھر گزشتہ سات آٹھ برس میں بجلی کی پیداوار میں خاطرخوا اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن لائنوں کی صورت حال بھی خراب ہے۔ بجلی کی پیداوار میں اضافے اور ٹرانسمیشن لائنیں ٹھیک کر کے ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔