امریکی معاشرے میں نسل پرستی کا فروغ

نسل پرستی امریکا کی نوجوان نسل کے ذہنوں میں زہر بھر رہی ہے اور اس کی وجہ سے جمہوریت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔


Editorial June 22, 2015
جنوبی کیرولینا میں سیاہ فاموں کے چرچ پر حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی معاشرے میں دوسروں کے لیے عدم برداشت بڑھ رہی ہے، فوٹو : فائل

امریکا میں گزشتہ دنوں ریاست جنوبی کیرولینا میں سیاہ فاموں کے ایک چرچ میں سفید فام نوجوان نے اندھا دھند فائرنگ کر کے 9 افراد کو ہلاک کر دیا تھا' اس واقعے نے پورے امریکا کو ہلاک کر رکھ دیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی صدر بارک اوباما نے سان فرانسسکو میں ایک تقریب میں اس حوالے سے تقریر کی جس میں انھوں نے نسل پرستی کو امریکی معاشرے پر ایک بدنما داغ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس بدنما داغ کو مٹانے کے لیے سب کو مل کر کوشش کرنا ہو گی۔ صدر اوباما نے کہا کہ حملہ آور ڈلن روف کے عزائم ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ نسل پرستی بدستور ایک داغ ہے جس سے ہمیں مل کر نمٹنا ہو گا کیونکہ نسل پرستی امریکا کی نوجوان نسل کے ذہنوں میں زہر بھر رہی ہے اور اس کی وجہ سے جمہوریت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

صدر اوباما نے ہلاک شدگان کے لواحقین کی جانب سے حملہ آور کو معاف کیے جانے کا بھی خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عقیدے کا وہ اظہار ہے جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور یہ امریکی عوام کی اچھائی کی دلیل بھی ہے۔ بارک اوباما نے ملک میں اسلحہ رکھنے کے قانون پر دوبارہ بحث شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کانگریس سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں عوامی رائے کو مدِنظر رکھتے ہوئے از سر نو قانون سازی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ہمدردی جتانا یا افسوس کرنا کافی نہیں ہمیں عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ صدر اوباما نے اسلحہ پر پابندی کے قوانین میں ترمیم کا عزم کر لیا ہے۔

چرچ پر حملے کے ملزم ڈلن روف کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وہاں حملے میں ہلاک ہونے والی ایک خاتون کی بیٹی نے حملہ آور کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ''میں تمھیں معاف کرتی ہوں'' ، تاہم ملزم نے کسی بھی قسم کے تاثرات کا اظہار نہیں کیا۔ مذہبی انتہا پسندی ہو 'نسلی یا لسانی عصبیت 'یہ جب اپنی حدود سے تجاوز کرتی ہیں تو معاشرے کے لیے تباہ کن شکل اختیار کر لیتی ہیں۔دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہوئیں 'ان کی تہہ میں جہاں معاشی مفادات کا ر فرما تھے وہاں مذہبی 'نسلی اور لسانی عصبیتیں بھی کام کر رہی تھیں۔ آج بھی دنیا بھر میں جو خانہ جنگیاں ہو رہی ہیں ان کی تہہ میں یہی جذبے کام کر رہے ہیں۔امریکا اور یورپ میں نسل پرستی کی لہر میں ایک بار پھر تیزی آرہی ہے 'اس کی وجہ یہی ہے کہ امریکا اور یورپ میں رنگ کی بنیاد پر تعصب کو ہوا دی جا رہی ہے۔

امریکا میں سیاہ فاموں کے حوالے سے سفید فاموں میں تعصب موجود ہے۔آج بھی امریکی معاشرے میں سیاہ فاموں کی وہ حیثیت نہیں ہے جو سفید فاموں کو حاصل ہے۔جنوبی کیرولینا میں سیاہ فاموں کے چرچ پر حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی معاشرے میں دوسروں کے لیے عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔سیاہ فاموں کے حوالے سے امریکا میں کئی ناخوشگوار واقعات ہو چکے ہیں۔بلاشبہ صدر اوباما کا امریکی صدر بن جانا تہذیبی ارتقاء کی معراج ہے لیکن امریکی معاشرے میں موجود تعصبات کو ختم کرنے میں خاصا عرصہ لگے گا۔