یمن بحران مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے

یمن کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے


Editorial June 23, 2015
خانہ جنگی کا شکار ان مسلم ممالک کے حالات میں فی الفور بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔فوٹو فائل

PESHAWAR: یمن کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادیوں کی جانب سے یمن کے مختلف علاقوں میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں 15 افراد مارے گئے اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے یمن میں 26 مارچ سے شروع کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں اب تک 28 سو افراد مارے جا چکے ہیں' یمن میں کشیدگی کے باعث 21لاکھ افراد جو ملک کی آبادی کا تقریباً 80 فیصد ہیں کو فوری طور پر انسانی بنیادوں پر امداد اور حفاظت کی ضرورت ہے۔

یمن بحران کو شروع ہوئے تقریباً تین ماہ ہو چکے ہیں لیکن اقوام متحدہ یا کسی عالمی قوت نے آگے بڑھ کر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت خاموش رہ کر اس خطے کو خانہ جنگی کی بھینٹ چڑھا کر تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت عراق' شام' یمن اور لیبیا خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو چکے ہیں' یمن میں جہاں سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادی فضائی حملے کر رہے ہیں وہاں داخلی سطح پر بھی یہ ملک مختلف مسلح گروہوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔

عدن شہر میں حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادیوں پر راکٹ حملوںکی بھی اطلاعات ہیں جس میں چار شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ سعودی وزیر خارجہ نے ماسکو کے دورہ کے موقع پر ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یمن میں امن کو موقع دینے کے ساتھ ساتھ حوثیوں کے مراکز پر اتحادی فوج کی بمباری جاری رہے گی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کا بحران ابھی جاری رہے گا۔ دوسری جانب عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی فورسز نے داعش کے ٹھکانوں پر 18 فضائی حملے کیے جس میں داعش کی عمارات' ٹیکنیکل یونٹس' ہیوی مشین گنیں اور گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

ادھر شام میں بھی شامی اتحادی طیاروں نے بمباری کر کے داعش کے تین ٹیکنیکل یونٹس تباہ کر دیے۔ دوسری جانب عراقی دارالحکومت بغداد کے نواح میں دو مختلف بم دھماکوں میں پانچ افراد مارے گئے۔

خانہ جنگی کا شکار ان مسلم ممالک کے حالات میں فی الفور بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔اگر عراق شام اور یمن کے حالات میں بہتری نہ آئی اور معاملات یونہی آگے بڑھتے رہے تو خطرہ ہے کہ پورا مشرق وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق مستقبل کے انھی خطرات کا ادراک کرتے ہوئے سعودی عرب اور اس کے خلیجی اتحادی پریشان ہیں اور اپنے تئیں ان خطرات کو ٹالنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے عرب ممالک اور ایران کو باہمی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے کوئی مناسب راستہ تلاش کرنا ہو گا۔ اگر مذاکرات کے ذریعے ان اختلافات کو حل نہیں کیا جاتا اور سرد جنگ کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو پھر اس خطے میں معاملات حل ہونے کے بجائے مزید بگڑ سکتے ہیں۔