موت کا رقص ارکان اسمبلی کی مراعات میں اضافہ

عوام ایک ایسی ذہنی و قلبی اورجسمانی اذیت میں مبتلا ہیں، جس کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں


Editorial June 25, 2015
یہ اصلی چہرہ ہے ہمارے منتخب نمایندوں کا چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں۔ فوٹو:فائل

کراچی میں موت کا رقص جاری ہے، سورج آگ برسا رہا ہے، زمین تندورکی طرح تپ رہی ہے، نہ پانی ہے نہ بجلی، لوگ سیکڑوں کی تعداد میں جاں بحق ہو رہے ہیں، نجی وسرکاری اسپتالوں کے مردہ خانے لاشوں سے بھرگئے ہیں،لاشوں سے تعفن اٹھ رہا ہے کیونکہ برف دستیاب نہیں، قبرستان میں جگہ نہیں، لوگ اپنے پیاروں کی میتیں لے کر مارے مارے گھوم رہے ہیں، انھیں غسل دینے کے لیے پانی تک میسر نہیں ہورہا، شہریوں کا سکھ چین لٹ گیا ہے، ہر بستی ، ہرکوچے میں مظاہرے ہو رہے ہیں، ٹریفک جام ہے ، مساجد میں وضو کے لیے پانی دستیاب نہیں ، کے الیکٹرک اور کراچی واٹر بورڈ نے شہریوں کی زندگی اجیرن تو پہلے ہی کی ہوئی تھی اب ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے ۔

یہ کوئی افسانہ نہیں، بلکہ یہ بھیانک حقیقت ہے جس کا سامنا اہل کراچی وسندھ کو ہے۔کراچی میں شدید گرمی کی لہر میں مزید 213 افراد دم توڑگئے، اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 1200سے تجاوزکرچکی ہے جب کہ ہیٹ اسٹروک، ڈی ہائیڈریشن سے متاثرہ سیکڑوں مریض مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

عوام ایک ایسی ذہنی و قلبی اورجسمانی اذیت میں مبتلا ہیں، جس کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے بجلی کی غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کیا اور پارلیمنٹ ہائوس کے احاطے میں کراچی میں جاں بحق افرادکی غائبانہ نماز جنازہ ادا کر کے جمعے کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے رات گئے سرکاری دفاتر میں عام تعطیل اور وفاق کے خلاف یوم احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔عوام مررہے ہیں ادھر سیاست چمکائی جارہی ہے ۔کے الیکٹرک جو ایک آزاد اورخودمختار نجی ادارہ ہے۔

اس سے بازپرس کرنے کی کسی میں جرات نہیں کہ وہ چھ سو پچاس میگاواٹ اضافی بجلی وفاق سے لینے کے باوجود کراچی میں سولہ گھنٹے تک کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کیوں کر رہا ہے، سابق آمر صدر پرویزمشرف کے دور میں جب کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی مشکوک نج کاری ہوئی تو کراچی کے اسٹیک ہولڈرز مصلحتاً خاموش رہے ، اس بات کا عذاب آج ہر شہری سہہ رہا ہے ۔اووربلنگ سے اربوں کا منافع کمانے والا ادارہ فرنس آئل کی بچت کر رہا ہے ، تانبے کی جگہ سلور کے تار اور پرانے بوسیدہ ٹرانسفارمرز کو تبدیل کیے بغیر۔ وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ آصف نے ایوان کو بتایا کہ کراچی میں بجلی کی ترسیل یقینی بنانے کی ذمے داری صوبائی حکومت کی ہے۔

یہ ہماری پالیسی نہیں کہ ایک ادارے کی نجکاری کرنے کے بعد اسے دوبارہ قومی تحویل میںلیا جائے۔جب کہ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم صوبے کے عوام کوجوابدہ ہیں، لوگ مر رہے ہیں اور ہرکوئی کے الیکٹرک کو اس صورتحال سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام دے رہا ہے۔کراچی میں صورت حال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ شہر کے قبرستانوں میں گرمی سے ہلاک ہونیوالوں کی تدفین کے لیے قبر کی جگہ ملنا دشوار ہوگیا ہے،گورکن فی قبر دس ہزار سے پچاس ہزار روپے تک وصول کررہے ہیں۔عوام انگشت بدنداں ہیں کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہورہی ہیں،گلے پھاڑ کر تقریریں ہورہی ہیں ، واک آئوٹ ہورہا ہے، یوم احتجاج منایا جارہا ہے،الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے ۔

حکومت اکیلی رہ گئی ہے اور اپوزیشن جماعتیں متحد،لیکن سچ یہ ہے کہ عوام بے یارومددگار ہیں ، اور منتخب نمایندے مزے میں ۔تازہ ترین خبر یہ آئی ہے کہ قومی اور پنجاب اسمبلی نے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔وفاقی وزیرخزانہ نے فنانس بل میں جو ترامیم منظورکرائی ہیں،ان کے تحت ارکان پارلیمنٹ کی ماہانہ تنخواہ 27 ہزار سے بڑھا کر 36ہزارکر دی گئی، جب کہ ارکان کو اندرون ملک کے ساتھ ساتھ اب دنیا بھر میں پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کے ذریعے مفت سفرکی سہولت دیدی گئی ہے ، اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے ارکان کی تنخواہوں کے ایکٹ میں ترمیم کردی گئی ہے،ارکان کو سالانہ تین لاکھ روپے کے ووچرز جاری کیے جائیں گے،جن کے تحت وہ پی آئی اے یا ریلویز کے ذریعے اندرون ملک یا بیرون ملک سفرکرسکیں گے ۔

آہ! حیف ہے ایسے سیاستدانوں پر جو بظاہر تو اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے باہر صفیں بنا کرکراچی میں گرمی سے جاں بحق ہونیوالے افراد کی غائبانہ نمازجنازہ ادا کررہے ہیں اور دوسری جانب سب اپنی مراعات لینے کے لیے تمام اختلافات کو بھلا کر شیروشکر ہوجاتے ہیں ۔ یہ اصلی چہرہ ہے ہمارے منتخب نمایندوں کا چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں،جس ملک کے لاکھوں افراد کو دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو، بنیادی انسانی سہولتیں، تعلیم اورصحت دستیاب نہ ہوں، وہاں قومی خزانے کو مال مفت سمجھ کر لوٹا جارہا ہو، یہ کیسا نظام ہے۔

یہ کیسی جمہوریت ہے،جشن مرگ انبوہ والی صورت حال ہے ۔خدارا تمام ممبران قومی وصوبائی اسمبلی وسینیٹ ،وزراء وامراء ایک بار ضرور سوچیں کہ عوام نے ووٹ اس لیے نہیں دیے تھے کہ ان کے منتخب نمایندے لامحدود مراعات لیں اور عوام کے گھروں میں میتیں رکھی ہوں اور ان کو غسل دینے اور دفنانے کے لیے ان کے پاس وسائل نہ ہوں ، خدارا ایسا نہ کریں ، ایک لمحے کو سوچیں وہ قادر مطلق سب دیکھ رہا ہے ، وہی بہتر انصاف کرنے والا ہے اس کی عدالت میں امیروغریب سب نے پیش ہونا ہے، مخلوق خدا کے ناحق قتل کا بوجھ ان کی غرور وتکبر سے اکڑی گردنوں پر ہوگا۔