ماہ صیام اور مہنگائی کا طوفان

معیاری اشیا کی فراہمی شاید رمضان بازاروں میں ممکن ہی نہیں صرف گرین چینل سے عوام کو معیاری اشیا دستیاب ہیں


Editorial June 26, 2015
حکمران اگر دعوے کرنے کے بجائے مہنگائی کا باعث بننے والے حقیقی کرداروں کا احتساب کریں تو یہ مسئلہ بآسانی حل ہو سکتا ہے، فوٹو : فائل

ماہ صیام کا آغاز ہوتے ہی ملک میں روزمرہ کی عام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا،پھل اور سبزیوں کی قیمتیں ایک دم بڑھ گئیں۔ایسا امسال نہیں ہوا بلکہ ہر سال ماہ صیام کا آغاز ہوتے ہی مہنگائی کا طوفان آ جاتا ہے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی دعوے اور اقدامات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

اخبارات میں شایع ہونے والی خبریں حالات کی ترجمانی کر رہی ہیں جن کے مطابق حکومت کی طرف سے لگائے گئے رمضان بازاروں میں بھی مہنگائی کے مارے عام شہریوں کو ریلیف نہیں مل سکا ایسا لگتا ہے کہ تمام سبسڈی حکمرانوں کی تشہیر پر خرچ کی جا رہی ہے، رمضان بازاروں میں اشیائے خورونوش کم اور حکمرانوں کے تشہیری بورڈز زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ معیاری اشیا کی فراہمی شاید رمضان بازاروں میں ممکن ہی نہیں صرف گرین چینل سے عوام کو معیاری اشیا دستیاب ہیں، کئی کئی گھنٹے لائنوں میں لگنے کے بعد چینی ملتی ہے۔

انتظامیہ اور وزراء و صوبائی ممبران رمضان بازاروں کا دورہ کرتے ہیں جن کی کارکردگی فوٹو سیشن کے ساتھ ساتھ سب اچھے کا راگ الاپنے سے آگے نہیں بڑھ رہی۔دنیا بھر میں جب کوئی مذہبی یا عوامی تہوار آتے ہیں تو شہریوں کی سہولت کے لیے اشیائے خورونوش کے علاوہ دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ کمی کر دی جاتی ہے مگر ہمارا باوا آدم ہی نرالا ہے ۔

یہاں جب رمضان آتا ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ کمائی اور منافع کا مہینہ سمجھتے ہوئے ہر چیز کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا جاتا ہے اور غریب آدمی اس مہینے میں رحمتوں کو سمیٹنے کے بجائے اپنا نان نفقہ پورا کرنے کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حکمران اگر دعوے کرنے کے بجائے مہنگائی کا باعث بننے والے حقیقی کرداروں کا احتساب کریں تو یہ مسئلہ بآسانی حل ہو سکتا ہے۔