بھارت اورافغانستان زمینی حقائق تسلیم کریں

بھارت اور افغانستان شروع دن سے ہی پاکستان کے لیے مسائل کا باعث بنے چلے آ رہے ہیں


Editorial June 27, 2015
افغان حکومت کو بھی یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پاکستان کے ساتھ دیرپا اور خوشگوار تعلقات قائم رکھنا چاہتی ہے۔ فوٹو : فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں بھی دیا گیا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا بیان اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے' بھارت سے باہمی مفادات پر مبنی گہرے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم بھارت کی جانب سے کوئی مناسب رویہ سامنے نہیں آ رہا۔ افغانستان کے حوالے سے انھوں نے وضاحت کی کہ افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات میں پاکستان کاکردار صرف ایک سہولت کار کا ہے' افغان حکومت مذاکرات کا راستہ اختیار کر رہی ہے تاہم کچھ طالبان گروہ مذاکرات کے لیے تیار اور کچھ تیار نہیں ہیں ' پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

بھارت اور افغانستان شروع دن سے ہی پاکستان کے لیے مسائل کا باعث بنے چلے آ رہے ہیں۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کئی جنگیں لڑ چکا ہے جب کہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقے میں پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔ بھارت پاکستان کے ساتھ جو رویہ اپنائے ہوئے ہے اس کا ایک اظہار گزشتہ دنوں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ڈھاکا میں کیا۔

جہاں انھوں نے تسلیم کیا کہ 1971ء میں پاکستان کو دولخت کرنے میں بھارت کا اہم کردار تھا۔ انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ خود بھی مکتی باہنی کے ساتھ مل کر لڑتے رہے ہیں۔ ادھر افغانستان کا یہ حال ہے کہ اس نے قیام پاکستان کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو شہید کرنے والے شخص کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔

ان تمام تلخ حقائق کے باوجود پاکستان نے کوشش کی ہے کہ افغانستان کے ساتھ بھی تعلقات اچھے بنائے جائیں جب کہ بھارت کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات قائم کیے جائیں لیکن دونوں ملکوں کی جانب سے خاطر خواہ جواب نہیں آیا۔ گزشتہ روز دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی۔

انھوں نے واضح کیا کہ بھارت نے جامع مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ انھوں نے افغانستان کے خفیہ ادارے کی جانب سے آئی ایس آئی پرگزشتہ دنوں افغان پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کے الزام کو مسترد کر دیا۔ اس سارے معاملات کو غور سے دیکھا جائے تو یہی لگتا ہے کہ افغانستان اور بھارت کی وجہ سے پاکستان کو خاصے مسائل کا سامنا ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی افغانستان میں آپریٹ کر رہی ہے اور وہاں سے پاکستان کے خلاف کام کرنے والے گروہوں کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان کو مطلوب مولوی فضل اللہ اور دیگر لوگ افغانستان میں موجود ہیں۔

پاکستان کی یہ توقع بجا ہے کہ افغانستان کی حکومت ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرے گی لیکن اس حوالے سے افغان حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔ افغانستان کی حکومت اور اس کے ادارے وہاں ہونے والے ہر واقعہ کو پاکستان سے جوڑتے ہیں۔

یہی طرز عمل بھارتی حکومت کابھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتیں اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بھارت میں گزشتہ دنوں اس کی ریاست تری پورا میں باغیوں نے کارروائی کی تھی۔ اسی طرح نکسل باڑی بھی بھارتی سیکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ ادھر افغانستان میں افغان طالبان ایک موثر فورس ہیں ۔

افغان حکومت اور امریکی حکام طالبان سے مذاکرات کے عمل میں بھی کسی نہ کسی حوالے سے شریک ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ افغان حکام اور طالبان کی پہلی ملاقات ہماری کوششوں سے ہوئی جب کہ آیندہ ہونے والی ملاقات کی تفصیلات افغان حکام خود طے کر رہے ہیں۔ افغان طالبان سے مذاکرات کو کامیاب بنانا افغان حکومت کا کام ہے یا پھر امریکنوں کا ۔ امریکا اس کی اتحادی افواج ابھی تک افغانستان میں ہے۔

امریکا اگر چاہے تو افغانستان کے معاملات درست ہو سکتے ہیں 'اسی طرح امریکا اگر بھارت پر دبائو ڈالے تو تنازعہ کشمیر سمیت دیگر تنازع بھی حل ہو سکتے ہیں۔ اس وقت افغانستان اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں۔ بھارت بھی اگر چاہتا ہے کہ اس خطے میں امن قائم ہو تو اسے جامع مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنا چاہیے۔

پاکستان اس حوالے سے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن بھارت کا طرز عمل اس کے بالکل برعکس ہے۔ بھارت پاکستان کو زچ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔وہ کبھی بلوچستان میں مداخلت کرتا ہے اور کبھی افغانستان سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتا ہے۔ ان واقعات سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ افغانستان اور بھارت دونوں کو حالات کی نزاکت کا احساس کرناچاہیے کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ادھر پاکستان کی حکومت کو بھی کئی نئے قدم اٹھانے ہیں۔ پاکستان کو اپنی شمال مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانا چاہیے۔

وہاں جاری کھلی آمدورفت کو قانون اور ضابطے میں لایا جانا انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین موجود ہیں۔ انھیں افغانستان واپس بھیجنا بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

افغان حکومت کو اس حوالے سے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ افغان حکومت کو بھی یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پاکستان کے ساتھ دیرپا اور خوشگوار تعلقات قائم رکھنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں اسے اپنے باشندوں کو پاکستان سے واپس لانے کے لیے نیک نیتی سے اقدامات کرنے چاہئیں۔ افغانستان میں قائم نئی حکومت سے یہ توقعات ہیں کہ وہ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرے گی۔ اگر افغانستان کی حکومت اور بھارتی حکومت زمینی حقائق کو تسلیم کر لیں تو اس خطے میں امن قائم کرنا زیادہ مشکل کام نہیں۔