شمالی وزیرستان میں جھڑپیں

پاک فوج نے جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا جو کامیابی سے جاری ہے


Editorial July 06, 2015
جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا پاکستان میں بھی دہشت گردوں پر مکمل قابو پانا ایک مشکل امر ہو گا۔ فوٹو: ایکسپریس

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب پوری شد و مد سے جاری ہے اور اس علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے پاک فوج شہادتوں اور قربانیوں کی نئی داستان رقم کررہی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق تحصیل دتہ خیل میں اتوار کو دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 12 دہشت گرد مارے گئے جب کہ چار فوجی جوان شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوئے' پاک فوج ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔ دوسری جانب شمالی وزیرستان ہی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا جس سے تین اہلکار شہید اور پانچ زخمی ہو گئے۔ بی بی سی کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس واقعہ کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

پاک فوج نے جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا جو کامیابی سے جاری ہے' فوج کے مطابق اب تک ایجنسی کا 90 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کرا لیا گیا ہے تاہم سرحدی علاقوں شوال اور دتہ خیل میں کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ شوال کی جنگلات سے ڈھکی وادی اور دتہ خیل کے علاقہ میں بعض مقامات پر دہشت گرد گروپ مزاحمت کر رہے ہیں اور حالیہ دنوں میں دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے' اس علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے فوج نے زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جس کے بعد یہاں دہشت گردوں سے جھڑپوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

شوال اور دتہ خیل کا مختصر سا علاقہ دہشت گردوں کی آخری پناہ گاہ ہے جہاں وہ مزاحمت کر رہے ہیں اگرچہ یہ علاقہ کافی دشوار گزار ہے مگر پاک فوج جس تیزی سے کامیابیاں حاصل کر رہی ہے اس سے یہ امید واثق ہے کہ جلد ہی یہ علاقہ بھی دہشت گردوں سے پاک ہوجائے گا۔ مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا شمالی وزیرستان کے سارے علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرانے کے بعد کیا یہ علاقے دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے ثابت ہوں گے اور ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات ختم ہو جائیں گے۔دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ علاقہ دہشت گردوں سے پاک تو ہو جائے گا اور دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی بھی آ جائے گی مگر یہ کسی نہ کسی صورت میں جاری رہے گی کیونکہ دہشت گرد ملک کے مختلف علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہیں' دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہے۔

اس لیے اس جنگ کو جیتنے کے لیے پوری قوم کو متحد ہو کر سیاسی اور عسکری قیادت کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہو گا۔ سیاسی اور عسکری قیادت متعدد بار اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ یہ اطلاعات منظر عام پر آچکی ہیں کہ ملک میں پنپنے والی دہشت گردی کو داخلی اور خارجی ہر دو سطح سے قوت مل رہی ہے اس لیے اس جنگ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے نہ صرف داخلی بلکہ خارجی محاذ پر بھی متحرک ہونا پڑے گا۔ اسی جانب امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں پراکسی وار کو اختتام پذیر ہوجانا چاہیے اور اس سے قطع نظر کہ خطے میں ان جنگوں کے پیچھے کون ہے۔ ایسی اطلاعات منظرعام پر آ چکی ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارتی ایجنسی را ملوث ہے۔

امریکی سفیر کی جانب سے پراکسی وار کا ذکر کافی نہیں امریکا کو آگے بڑھ کر اس پراکسی وار کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ امریکی سفیر نے آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فوج نے اس آپریشن کے لیے دہشت گردوں کو شکست دی جو کہ پاکستان کے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ افغانستان کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اتوار کو افغانستان کی طرف سے پاکستانی حدود میں میران شاہ کے علاقے میں تین مارٹر گولے فائر کیے گئے جو سیکیورٹی فورسز کے کیمپ کے قریب آ کر گرے تاہم کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔ گزشتہ دنوں بھی افغانستان کی جانب سے ایسی ہی شر انگیزی کی گئی تھی۔

امریکا کو افغانستان کی جانب سے پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لینا چاہیے کیونکہ افغانستان کی جانب سے ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوں گی۔ اشرف غنی کی حکومت آنے کے بعد یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ افغان فوج کے اندر ایک لابی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھاوا دینے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا پاکستان میں بھی دہشت گردوں پر مکمل قابو پانا ایک مشکل امر ہو گا۔