یونان کا بحران مزید گہرا

یورپ کے کئی ملکوں کو اعتراض ہے کہ یورپی یونین پر جرمنی اور فرانس کا غلبہ ہے۔


Editorial July 06, 2015
آئی ایم ایف ‘یورپی یونین اور دیگر مالیاتی ادارے اپنی شرائط پر جو اصلاحاتی پیکیج دیتے ہیں ‘اس کے نتیجے میں قرض لینے والا ملک مزید مشکلات میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ فوٹو : اے ایف پی

یونان میں جانی اقتصادی و مالیاتی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔اس بحران سے نکلنے کے لیے یورپی یونین اور آئی ایم ایف نے یونان کو بیل آؤٹ پیکیج کی آفر کر رکھی ہے۔اس بیل آؤٹ پیکیج کو قبول کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں یونان میں پیر کو ریفرنڈم کرایا گیا۔ یونانی ووٹرز نے یورپی یونین اور آئی ایم ایف کے اس پیکیج کو مسترد کر دیا ' 62 فیصد سے زائد ووٹرز نے بیل آؤٹ پیکیج کے خلاف ووٹ دیے۔

ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد یونان کے عوام ایتھنز کی سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے جشن منانا شروع کر دیا ۔ یونان کے وزیر دفاع نے ٹوئٹر پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ نتائج سے ثابت ہو گیا کہ یونان کسی بلیک میلنگ یا دھمکی میں نہیں آئیگا۔یونان کے وزیراعظم بیل آؤٹ پیکیج کو بلیک میلنگ اور یونان کی توہین قرار دے چکے ہیں۔ ادھر یورپین پارلیمنٹ کے صدر مارٹن شولز نے جرمن ٹی وی کو بتایا کہ اگر ریفرنڈم میں بیل آؤٹ پیکیج کی شرائط کو مسترد کر دیا گیا تو یونان کو اپنی کرنسی متعارف کرانا پڑے گی کیونکہ یونانی حکومت کو یورو کو ادائیگی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔

انھوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ یونان کس طرح تنخواہوں کی ادائیگیاں کرے گا؟ کس طرح پنشن کی ادائیگی کی جائے گی؟۔یورپی یونین ایک نئی مشکل سے دوچار ہو گئی ہے۔ یونان اگر یورپی یونین سے نکلتا ہے تو دوسرے ممالک بھی نکل سکتے ہیں۔ یورپی یونین کا پھیلاؤ بھی رک سکتا ہے۔ یورپ کے کئی ملک یورپی یونین میں شامل نہیں ہیں۔ یورپ کے کئی ملکوں کو اعتراض ہے کہ یورپی یونین پر جرمنی اور فرانس کا غلبہ ہے۔ بہر حال یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر آئی ایم ایف اور یورپی یونین کا یونان کے ساتھ تنازع ختم نہ ہوا تو اس سے یونان میں معاشی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ یونان میں بیروز گاری پہلے ہی زیادہ ہے۔

اس کی شرح یوں ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک یونانی بیروز گار ہے۔ اب یونان کا بینکنگ سسٹم تقریباً مفلوج ہے۔ کیش انتہائی کم ہو گیا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہاہے کہ یونان کی حکومت آئی ایم ایف اور یورپی یونین سے مزید بات چیت کرے گی۔ بہر حال معاملہ خواہ کچھ بھی ہو یونان کا بحران درحقیقت سرمایہ داری نظام کا بحران ہے۔ آئی ایم ایف 'یورپی یونین اور دیگر مالیاتی ادارے اپنی شرائط پر جو اصلاحاتی پیکیج دیتے ہیں 'اس کے نتیجے میں قرض لینے والا ملک مزید مشکلات میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

ادھر قرض دینے والے اداروں اور ممالک ہر صورت میں اپنے قرضے اور منافع کی واپسی چاہتے ہیں اور قرضے کی شرائط کو بھی نرم نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے چند امیر ممالک کے سوا دنیا بھر کے ملک شدید معاشی اور مالیاتی مشکلات سے دوچار ہیں۔اس بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے چین اور دیگر ملکوں نے مل کر ایشین انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بینک قائم کیا ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے اگر اپنے مفادات کے حصول میں بے حسی اور بے رحمی کے عنصر کو کم نہیں کرتے تو پوری دنیا ایک بڑے معاشی بحران کا شکارہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں کئی ممالک خانہ جنگی یا باہمی جنگ کا شکار ہو سکتے ہیں۔