سیکیورٹی ایجنسیا ں اور دہشت گرد گروہ

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جہاں جرائم پیشہ گروہ سرگرم ہیں وہاں دہشت گرد بھی موجود ہیں۔


Editorial July 07, 2015
چاروں صوبائی حکومتیں ‘اور ملک بھر کی سیاسی جماعتیں نسلی ‘لسانی اور فرقہ وارانہ تعصب پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں تو ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ فوٹو : فائل

اخباری اطلاعات کے مطابق ملک کے اہم شہروں میں دہشت گردوں نے وارداتیں کی ہیں جب کہ سیکیورٹی ایجنسیاں بھی ان کے خلاف مسلسل کارروائی کر رہی ہیں۔ گزشتہ روز کوئٹہ میں بم دھماکا ہوا جس میں ایک شخص جاں بحق جب کہ 19زخمی ہوئے۔ بلوچستان میں ہی پسنی میں ٹارگٹ کلنگ کے ایک واقعے میں تین مزدوروں کو قتل کر دیا گیا۔

ادھر کراچی کے ایک علاقے میں عبادت گاہ کے معاملے پر متحارب گروپوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ لاہور میں رائیونڈ میں دہشت گرد کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن ہوا جس میں افغانستان' کرغزستان اور قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جہاں جرائم پیشہ گروہ سرگرم ہیں وہاں دہشت گرد بھی موجود ہیں۔

اسی طرح لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں ۔جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے وہاں نسلی بنیادوں پر قتل و غارت کرنے والوں کا گروہ بھی آپریٹ کر رہا ہے اور فرقہ وارانہ گروہ بھی موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں سیکیورٹی ایجنسیوں کی ذمے داری بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بلوچستان کو شر پسندوں اور دہشت گردوں سے پاک کرنا ہے' دوسری جانب کراچی کو جرائم پیشہ 'بھتہ مافیا اور انتہا پسندوں سے پاک کرنا ہے۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی یہی چیلنج درپیش ہے۔

اس حوالے سے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ چاروں صوبائی حکومتیں 'اور ملک بھر کی سیاسی جماعتیں نسلی 'لسانی اور فرقہ وارانہ تعصب پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں تو ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے۔