افغان حکومت اور طالبان مذاکرات کا اگلا مرحلہ نتیجہ خیز بنائیں

مذاکرات کا اگلا دور اس ماہ کے اختتام پر افغان وزیر خارجہ اور طالبان مذاکرات کاروں کے درمیان ہو گا


Editorial July 10, 2015
فریقین بے جا قسم کی ہٹ دھرمی اور ضد کا مظاہرہ نہ کریں تو مذاکرات کا عمل خوشگوار انجام تک پہنچ سکتا ہے۔ فوٹو : فائل

لاہور: خطے میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے پاکستان نے افغان حکومت اور طالبان کو مذاکرات کے لیے ایک میز پر اکٹھا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور پاکستان کے پُرفضا پہاڑی مقام کوہ مری میں فریقین کے مابین مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ روز مکمل ہو گیا۔

ان مذاکرات میں امریکی اور چینی نمایندوں نے بھی شرکت کی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق افغان حکام نے طالبان سے فوری طور پر سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے جب کہ طالبان نے سیزفائر کے لیے افغانستان میں ''متحدہ قومی حکومت'' کے قیام اور اس میں طالبان کی شمولیت کے حوالے سے پاکستان اور چین کی جانب سے ضمانت دینے کی شرط عائد کی ہے۔

مذاکرات کا اگلا دور اس ماہ کے اختتام پر افغان وزیر خارجہ اور طالبان مذاکرات کاروں کے درمیان ہو گا جس کے لیے جگہ کا تعین بعد میں کیا جائیگا تاہم امکان ہے کہ آیندہ بات چیت اسلام آباد یا قطر میں ہو گی۔ بات چیت میں یہ بھی طے ہوا کہ مذاکرات کا عمل اس وقت تک باقاعدگی سے جاری رہے گا جب تک اس کا کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکل آتا۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ افغان عوام کی زیر قیادت امن مفاہمتی عمل میں سہولت دینا پاکستان کی کمٹمنٹ کا حصہ ہے۔ دفتر خارجہ نے ان اطلاعات سختی سے رد کر دیا کہ مذاکرات میں طالبان کے نمایندوں کو ان کی قیادت کی حمایت حاصل نہیں بلکہ کہا کہ شرکاء کو ان کے قیادتوں کا مکمل مینڈیٹ حاصل تھا جنھوں نے افغانستان اور اس خطے میں قیام امن کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

نیز فریقین نے ان رابطوں کے بارے میں مذاکرات کے مخالفین کی جانب سے کسی منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر اسے جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ایک غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے سرکاری ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ مری مذاکرات میں فریقین نے بات چیت جاری رہنے تک ایک دوسرے کے خلاف کسی بڑی کارروائی نہ کرنیکا بھی فیصلہ کیا ہے۔ تاہم دونوں نے تسلیم کیا کہ اس دوران ناراض عناصر یا اس عمل کے مخالفین کی جانب سے ایک آدھ حملے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ادھر افغانستان کی وزارت خارجہ نے کابل میں جاری ایک بیان میں ان مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قیام امن کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ اسے امید ہے کہ یہ مذاکرات پائیدار صلح کی راہ ہموار کریں گے۔ بیان میں پاکستان کی میزبانی کی بھی تعریف کی گئی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کا سیاسی دفتر اس بات کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے کہ حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے جب اور جہاں چاہیں اندرونی اور بیرونی عناصر کے ساتھ اسلامی اصولوں اور قومی مفاد میں مذاکرات کر سکتا ہے اور وہ اپنی پالیسیوں میں وقت کے مطابق تبدیلیاں لاتے رہتے ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین نے ہمیشہ افغانستان میں مصالحتی عمل کی حمایت کی ہے اور چین افغانستان میں امن کے مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ افغانستان کی حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہونا اور فریقین کا اس عمل کو جاری رکھنے کا عہد بڑا بریک تھرو ہے۔

افغانستان میں حالات ایک بار پھر تبدیل ہورہے ہیں' یہاں داعش بھی اپنے اثرات بڑھا رہی ہے جس سے افغانستان میں امن کی منزل مزید دور ہو سکتی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو افغانستان کی حکومت اور طالبان کا مذاکرات کی میز پر بیٹھنا انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ ہے' پاکستان اور چین نے بھی اس حوالے سے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد شروع ہو اور اسے فیصلہ کن بھی ثابت ہونا چاہیے' اور فریقین کو کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا چاہیے کیونکہ جتنا تاخیر ہو جائے گی' حالات مزید خراب ہوتے چلے جائیں گے۔بعض قوتیں یہ بھی چاہیں گی کہ افغانستان میں ایسی کارروائیاں تسلسل سے جاری رہیں جس کے نتیجے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان غلط فہمی پیدا ہو اور مذاکرات کے سہولت کار ممالک بھی صورت حال سے بدظن ہوں۔ ایسے امکانات سے بچنے کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ افغانستان میں سیز فائر کو یقینی بنایا جائے ۔فریقین بے جا قسم کی ہٹ دھرمی اور ضد کا مظاہرہ نہ کریں تو مذاکرات کا عمل خوشگوار انجام تک پہنچ سکتا ہے۔

افغانستان کے حالات کو زمینی حقائق کے مطابق دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح افغان حکومت اور طالبان کو بھی زمینی حقائق سامنے رکھ کر کسی نتیجے پر پہنچنا چاہیے۔ اگر کوئی فریق اپنے نظریات میں ضد 'ہٹ دھرمی اور بے لچک رہتا ہے تو اس سے مذاکرات کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوں گے۔ اس وقت امریکا 'چین اور پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ مذاکرات کا یہ عمل کامیابی سے ہمکنار ہو ۔ افغانستان میں امن قائم ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات پورے جنوبی ایشیاء اور وسط ایشیا تک جائیں گے۔