افغانستان میں ڈرون حملے

افغانستان کے منظر نامے میں بڑی تبدیلی داعش کی صورت میں آ رہی ہے


Editorial July 11, 2015
حالات کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں فریق ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی قابل قبول امن فارمولے پر متفق ہو جائیں تاکہ افغانستان میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہو جائے۔ فوٹو:فائل

پاکستان کے پر فضا پہاڑی مقام مری میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے پہلے دور کے ایک دن بعد ہی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا سابق ترجمان شاہد اللہ شاہد افغانستان میں ہونے والے ڈرون حملے میں مارا گیا۔ اخباری خبروں کے مطابق جمعرات کو افغان صوبہ ننگرہار میں امریکی ڈرون حملہ کیا گیا جہاں طالبان اور داعش سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند گزشتہ ایک مہینے سے آپس میں برسرپیکار ہیں۔

شاہداللہ شاہد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ صوبہ ننگرہار کے ضلع اچین میں ہونے والے ڈرون حملے کا نشانہ بنا، اس حملے میں شاہد اللہ شاہد کے ساتھ اس کے ساتھی کمانڈر گل زمان سمیت 25 دیگر عسکریت پسندوں کے مارے جانے اور داعش رہنما حافظ سعیدکے زخمی ہونے کی کی اطلاعات ہیں۔ افغان میڈیا کے ذرایع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز صوبہ ننگرہار کے دو اضلاع میں امریکی ڈرون حملے ہوئے۔ ڈرون حملوں سے 18 طالبان ضلع اچین میں جب کہ 25 ضلع ہسکا مینا میں مارے گئے۔ رواں ہفتے صوبہ ننگرہار میں امریکی ڈروں حملوں میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 120 ہو گئی۔

افغان میڈیا کے مطابق ان میں زیادہ ترپاکستان سے فرار ہونیوالے شدت پسند شامل ہیں، شاہد اللہ شاہد کا اصل نام شیخ مقبول تھا جس کا تعلق اورکزئی ایجنسی سے تھا۔ اس نے اکتوبر2014 ء میں کالعدم ٹی ٹی پی سے استعفیٰ دیکر عراق و شام میں سرگرم جنگجو تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کی اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں داعش کا منظم کرنے کا اعلان کیا تھا، یہاں داعش سے متعلق سارا کنٹرول شاہد اللہ شاہد ہی کے پاس رہا۔ شاہداللہ شاہد اور ان کے ساتھی گل زمان کی ہلاکت کو داعش کے لیے بڑا دھچکا تصور کیاجا رہا ہے۔ شاہد اللہ شاہد ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم پر حملے میں کراچی پولیس کو بھی مطلوب تھا اور اس کو 'دولت اسلامیہ عراق و شام' (یعنی داعش) کے تیسرے بڑے لیڈر کا درجہ حاصل ہو چکا تھا۔

افغانستان کے منظر نامے میں بڑی تبدیلی داعش کی صورت میں آ رہی ہے' افغانستان اورارد گرد کے دیگر ممالک میں داعش کے اثر کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات جلد از جلد کامیاب ہوں تاکہ اس سارے خطے کے ممالک مل کر داعش کے خاتمے کے لیے جدوجہد کریں۔پاکستان اور چین اس حوالے سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔اب گیند افغان حکومت اور طالبان کے کورٹ میں ہے۔ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں فریق ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی قابل قبول امن فارمولے پر متفق ہو جائیں تاکہ افغانستان میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہو جائے۔