سیلف میڈ نہیں، اللہ میڈ

’’اس کی وجہ تکبر ہے، ہر کامیاب انسان اپنی کامیابی کو ذاتی اچیومنٹ سمجھتا ہے، یہ احساس اس کے اندرغرور اور تکبر پیدا کر دیتا ہے اور یہاں سے خرابی جنم لیتی ہے‘‘ ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، یہ ایک خاص قسم کی مسکراہٹ تھی اور یہ مسکراہٹ دنیا کے ہر صوفی، ہر نیک، عالم اور اصلی دانشور کے چہرے پر ہوتی ہے۔ دنیا کا ہر صوفی، ہر عالم اور ہر نیک شخص اپنی نیکی، اپنے علم اور اپنے تصوف کو لوگوں سے چھپا کر رکھتا ہے لیکن وہ اپنی مسکراہٹ نہیں چھپا پاتا۔ یہ مسکراہٹ اچھے لوگوں کا ٹریڈ مارک ہوتی ہے اور یہ آپ کو مدرٹریسا سے لے کر نیلسن منڈیلا، میاں محمد بخش سے شاہ حسین اور امام غزالی سے لے کر مولانا روم تک دنیا کے ہر اچھے، بڑے، نیک، عالم اور صوفی کے چہرے پر دکھائی دیتی ہے۔ میں نے ہمیشہ اچھے لوگوں کو ان کی اس مسکراہٹ سے پہچانا، میں نے ان سے ایک ایسا سوال پوچھا جو میرے دل میں ہمیشہ سے کھٹکتاچلا آ رہا ہے۔

میں نے ان سے پوچھا ’’دنیا کا ہر کامیاب انسان آخر میں تنہا کیوں ہوتا ہے‘‘ انھوں نے فوراً جواب دیا ’’اپنے تکبر اور غرور کی وجہ سے‘‘ میں ان سے تفصیل کا متقاضی تھا، وہ بولے ’’دنیا میں تکبر کی سب سے بڑی شکل سیلف میڈ ہے‘‘ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا، انھوں نے فرمایا ’’جب کوئی انسان اپنے آپ اور اپنی کامیابیوں کو سیلف میڈ کا نام دیتا ہے تو وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ، قدرت اورفطرت کی نفی کرتاہے بلکہ وہ ان تمام انسانوں کے احسانات اور مہربانیوں کو بھی روند ڈالتا ہے جنھوں نے اس کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اور یہ دنیا کا بدترین تکبر ہوتا ہے‘‘ وہ رکے، چند لمحے سوچا اور اس کے بعد بولے ’’تم فرعون اور نمرود کو دیکھ لو، یہ دونوں انتہا درجے کے ذہین، فطین اور باصلاحیت حکمران تھے، فرعون نے نعشوں کو حنوط کرنے کا طریقہ ایجاد کیا تھا.

اس نے ایک ایسی سیاہی بھی بنوائی تھی جو قیامت تک مدھم نہیں ہوتی، اس نے ایسے احرام بھی تیار کیے تھے جن کی ہیئت کو آج تک کی جدید سائنس نہیں سمجھ پائی، اس نے دنیا میں آبپاشی کا پہلا نظام بھی بنایا تھا اور فرعون کے دور میں مصر کے صحراؤں میں بھی کھیتی باڑی ہوتی تھی لیکن یہ فرعون بعدازاں عبرت کی نشانی بن گیا۔ کیوں؟‘‘ انھوں نے میری طرف دیکھا، میں نے فوراً عرض کیا ’’اپنے تکبر، اپنے غرور کی وجہ سے‘‘ انھوں نے اثبات میں سر ہلایا اور مسکرا کر بولے ’’ہاں لیکن فرعون کا تکبر سیلف میڈ لوگوں کے غرور سے چھوٹا تھا، اس نے صرف اللہ کی نفی کی تھی، وہ اللہ کے سوا اپنے تمام بزرگوں، اپنے تمام دوستوں اور اپنے تمام مہربانوں کا احسان تسلیم کرتا تھا.

وہ اپنے استادوں کو دربار میں خصوصی جگہ دیتا تھا اور وہ اپنی بیویوں کا اتنا احترام کرتا تھا کہ اس نے اپنی اہلیہ محترمہ کے کہنے پر حضرت موسیٰ  ؑکو گود لے لیا تھا‘‘ وہ رکے اور دوبارہ بولے ’’تم نمرود کو دیکھو، نمرود نے کھیتی باڑی کے جدید طریقے ایجاد کرائے تھے، اس نے دنیا میں پہلی بار زمین کو یونٹوں میں تقسیم کیا تھا، اس نے اونچی عمارتیں بنوائیں تھیں، اس نے شہروں میں فوارے لگوائے تھے، اس نے دنیا میں پہلی بار درخت کاٹنے کی سزا تجویز کی تھی اور وہ دنیا کا پہلا بادشاہ تھا جس کے ملک سے غربت اوربے روزگاری ختم ہو گئی تھی اور جس کی رعایا کاہر فرد خوشحال اور مطمئن تھا لیکن پھر یہ بادشاہ بھی اللہ کے عذاب کاشکار ہوا۔

کیوں؟‘‘ میں نے فوراً عرض کیا ’’غرور کی وجہ سے‘‘ انھوں نے اثبات میں سر ہلایا اور بولے ’’ہاں وہ اللہ کے وجود کی نفی کا مرتکب ہوا تھا اور یہ اس کا واحد جرم تھا جب کہ  عام زندگی میں وہ ایک اچھا انسان اور شاندار بادشاہ تھا، وہ مہمان نواز تھا، وہ شائستگی کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا، اس نے اپنے دربار میں دنیا جہاں کے عالم اور ماہرین جمع کر رکھے تھے، وہ بہادری اور شجاعت میں یکتا تھا، وہ اپنے دوست احباب، ماں، باپ اور عزیز رشتے داروں کا بھی احترام کرتا تھا اور وہ لوگوں کے احسانات اور مہربانیوں کو بھی یاد رکھتا تھا لیکن اس نے اللہ کی ذات کی نفی کی، خود کو خدا کہہ بیٹھا اور اللہ کی پکڑ میں آ گیا‘‘ وہ رک گئے۔

وہ چند لمحے سوچتے رہے اور اس کے بعد بولے ’’فرعون اور نمرود نے صرف اللہ کی ذات میں برابری کی تھی جب کہ  خود کو سیلف میڈ کہنے والا شخص نعوذ باللہ نہ صرف اس سے برتری کا دعویٰ کرتا ہے بلکہ وہ دنیا بھر کے ان لوگوں کے احسانات بھی فراموش کر دیتا ہے جنھوں نے اس کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا چنانچہ یہ شخص فرعون اور نمرود کے مقابلے میں بھی کئی گنا بڑے غرور اور تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے لہٰذا یہ آخر میں اللہ کی پکڑ میں آ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر تنہائی کا عذاب نازل فرما دیتا ہے‘‘ وہ رکے، انھوں نے ایک لمبا سانس لیا اور دوبارہ بولے ’’انسان مجلسی جانور ہے۔ انسان، انسان کا محتاج ہے، ہم سب اپنے جیسے لوگوں میں بیٹھنا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ گپ شپ کرنا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ اپنے جذبات شیئر کرنا چاہتے ہیں، ہمارے لیے سب سے بڑی سزا تنہائی ہوتی ہے اسی لیے قید تنہائی کو دنیا میں سب سے سنگین سزا قرار دیا گیا۔

انسان بڑے سے بڑا عذاب برداشت کر جاتاہے لیکن وہ تنہائی کی سزا نہیں بھگت سکتا۔ اللہ تعالیٰ کیونکہ ہماری رگ رگ، ہماری نس نس سے واقف ہے چنانچہ وہ خود کو سیلف میڈ قرار دینے والوں کو تنہائی کی حتمی سزا دیتا ہے۔ تم دیکھ لو، دنیا میں جس بھی شخص نے خود کو سیلف میڈ قرار دیا.

جس نے بھی اپنی اچیومنٹس کو اپنی ذاتی کوشش، جدوجہد اور محنت کا نتیجہ کہا وہ کامیابی کی آخری اسٹیج پر پہنچ کر تنہائی کا شکار ہوگیا، وہ تنہائی کی موت مرا‘‘ وہ خاموش ہو گئے، میں چند لمحے انھیں دیکھتا رہا، جب خاموشی کا وقفہ طویل ہو گیا تو میں نے عرض کیا ’’ہمیں سیلف میڈ کے بجائے کیا کہنا چاہیے‘‘ وہ فوراً بولے ’’اللہ میڈ‘‘ وہ چند لمحے مجھے دیکھتے رہے اور اس کے بعد بولے ’’کامیاب اور کامران لوگوں پر اللہ کا خصوصی کرم ہوتا ہے، اللہ ان لوگوں کو کروڑوں، اربوں لوگوں میں سے کامیابی کے لیے خصوصی طور پر چنتا ہے، انھیں وژن اور آئیڈیاز دیتا ہے، ان کو محنت کرنے کی طاقت دیتا ہے.

انھیں دوسرے انسانوں کے مقابلے میں زیادہ توانائی بخشتا ہے، ان کے آگے بڑھنے کے خصوصی مواقع پیدا کرتا ہے، ان کے لیے کامیابی کے راستے کھولتا ہے، معاشرے کے بااثر اور اہم لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت اور ہمدردی پیدا کرتاہے اور آخر میں تمام لوگوں کو حکم دیتاہے وہ ان لوگوں کو کامیاب تسلیم کریں، وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر ان کے لیے تالی بجائیں اگر یہ حقیقت ہے تو پھر یہ ساری کامیابی اللہ کی کامیابی نہ ہوئی، ہم لوگ اورہماری ساری کامیابیاں اللہ میڈ نہ ہوئیں، تم سوچو، تم بتاؤ‘‘ ۔ انھوں نے رک کر میری طرف دیکھا، میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

وہ بولے ’’اور جب کوئی کامیاب شخص اپنی کامیابی کو اللہ کا کرم اور مہربانی قرار دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں اس کے گرد رونق لگا دیتاہے، وہ لوگوں کے دلوں میں اس شخص کے لیے محبت ڈال دیتاہے یوں یہ شخص زندگی کی آخری سانس تک لوگوں کی محبت اور رونق سے لطف اٹھاتا رہتا ہے.

اللہ اس کی زندگی پر تنہائی کا سایہ نہیں پڑنے دیتا‘‘۔ میں نے ان کی طرف دیکھا اور ڈرتے ڈرتے پوچھا ’’پھر انسان کی زندگی میں اس کی کوشش اور جدوجہد کا کیا مقام ہوا‘‘ انھوں نے غور سے میری طرف دیکھا اور بولے ’’ہماری کیا مجال ہے ہم اس کی اجازت کے بغیر محنت کر سکیں یا ہم اس کی مہربانی کے بغیرجدوجہد کر سکیں، ہم میں تو اتنی مجال نہیں کہ ہم اس کی رضا مندی کے بغیر اس کانام تک لے سکیں۔

پھر ہماری محنت، ہماری جدوجہد کی کیا حیثیت ہے، یہ سب اللہ کی مہربانی کا کھیل ہے، یہ سب اللہ میڈ ہے، ہم اور ہم سب کی کامیابیاں اللہ میڈ ہیں، خدا کے بندو، اللہ کے کریڈٹ کو تسلیم کرو تاکہ تمہاری زندگیاں تنہائیوں سے بچ سکیں، تم پر غم کا سایہ نہ پڑے‘‘۔ وہ رکے اور اس کے بعد زور دے کر بولے ’’یاد رکھو، زندگی میں کبھی خود کو سیلف میڈ نہ کہو، ہمیشہ اپنے آپ کو اللہ میڈ سمجھو، اللہ تم پر بڑا کرم کرے گا‘‘۔