بوسنیائی مسلمانوں کے قتل عام پر دعائیہ تقریب

1995ء میں سرب فوج کی اس وحشیانہ کارروائی کو یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد بدترین قتلِ عام قرار دیا جاتا ہے۔


Editorial July 13, 2015
نسل پرستی ہو یا مذہبی انتہا پسندی دونوں ہی عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں اور دنیا کی مہذب اقوام کو ان تعصبات کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ فوٹو : فائل

سرب افواج کے ہاتھوں 8 ہزار مسلمانوں کے قتل عام کے 20 برس مکمل ہونے پر بوسنیا میں دعائیہ تقاریب منعقد کی گئیں۔ بوسنیا کے دارالحکومت سربرینیکا میں ہونے والی خصوصی دعائیہ تقریب میں معروف عالمی رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ 1995ء میں سرب فوج کی اس وحشیانہ کارروائی کو یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد بدترین قتلِ عام قرار دیا جاتا ہے۔ کئی ماہ تک لاشیں علاقے میں پڑی رہیں۔ بعد میں جرم کے شواہد مٹانے کی غرض سے سربوں نے نہایت منظم انداز سے ان انسانی باقیات کو چھوٹی چھوٹی قبروں میں پھینک دیا، جو اب تک برآمد ہو رہی ہیں۔ اس واقعے میں مارے جانے والے ایک ہزار سے زائد افراد کی باقیات اب تک مل چکی ہیں جب کہ حال ہی میں136 افراد کی ڈی این اے سے شناخت ہوئی جن کی گزشتہ روز تدفین کی گئی۔

اس موقع پر منعقدہ یادگاری تقریب میں شرکت کرنے والی معروف عالمی شخصیات میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن، ترک وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو، اردن کی ملکہ نور، کروشیا کی صدر کولنڈا گریبر، سربیا کے وزیر اعظم الیگزینڈر ویوسک، سلوانیا کے صدر بورٹ پاہور، سابق امریکی خاتون وزیر خارجہ میڈلین البرائٹ، برطانوی شہزادی اینی لیز نے شامل تھے۔ تقریب کے دوران مشتعل ہجوم نے اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے سربیا کے وزیر اعظم الیگزینڈرو ویوسک پر پتھراؤ کر دیا جس پر ان کے محافظوں نے انھیں فوری طور پر اپنے حصار میں لے لیا۔ اور تقریب سے نکال کر واپس لے گئے۔ پتھراو کے دوران ایک پتھر سرب وزیر اعظم کے سر میں لگا جس سے ان کا سر پھٹ گیا اور عینک بھی ٹوٹ گئی۔ ادھر سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں حکام نے قتلِ عام کی یاد میں تقاریب پر پابندی عائد کر دی تھی کیونکہ یہ تقریب سربوں کے انسانیت سوز ظلم کے خلاف منعقد ہونا تھی۔

سربرنیکا میں ہونے والی اس دعائیہ تقریب سے بوسنیائی مسلمانوں کی سچائی اور مظلومیت ثابت ہو گئی' تقریب میں عالمی رہنماؤں کی شرکت درحقیقت سرب نسل پرستوں کے خلاف فرد جرم ہے' اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہے کہ دعائیہ تقریب میں شرکت کرنے والی بعض انتہائی با اثر شخصیات اس وقت اقتدار میں بھی تھیں لیکن انھوں نے سرب نسل پرستوں کو روکنے کے لیے وہ کچھ نہیں کیا جو وہ کر سکتی تھیں۔سربیاکے وزیراعظم کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ دراصل بوسنیائی عوام کا سرب نسل پرستوں کے خلاف نفرت کا اظہار تھا۔ بہر حال سرب وزیراعظم کا اس دعائیہ تقریب میں شریک ہونا اس اعتبار سے اہم ہے کہ انھوں نے بوسنیا میں ہونے والے مظالم کو تسلیم کر لیا ہے ۔ان کا یہاں آنا دراصل احساس جرم کااظہار ہے۔ نسل پرستی ہو یا مذہبی انتہا پسندی دونوں ہی عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں اور دنیا کی مہذب اقوام کو ان تعصبات کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔