افغان مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے خدشات

افغان پالیسی پر سیاسی اور فوجی قیادت ایک صفحے پر ہے اور اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے


Editorial July 14, 2015
پاکستان خطے میں ہونے والی تبدیلیوں اور مفاہمتی عمل کو ناکام بنانے کی سازشوں سے بخوبی آگاہ ہے، فوٹو : فائل

افغانستان میں پائیدار قیام امن کے لیے گزشتہ دنوں مری میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمتی مذاکرات کا دور ہوا' قیام امن کے لیے جہاں پاکستان' امریکا اور چین متحرک ہو چکے ہیں وہاں اس کے ساتھ ساتھ ان خدشات کا اظہار بھی سامنے آیا کہ کچھ نادیدہ قوتیں ان امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے اپنا گھناؤنا کھیل کھیل سکتی ہیں۔

ان خدشات کو پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کے اس اظہار سے تقویت ملتی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ کچھ عناصر مری امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر کوئی چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن ہو جو پاکستان کے مفاد میں ہے مگر یہ امن عمل افغانستان کی قیادت میں ہونا چاہیے اور وہ خود اس عمل کو کنٹرول کرے جب کہ دیگر فریق ان کی مدد کریں' افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پاکستان افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا' پاکستان نے افغان امن عمل آگے بڑھانے کے لیے سیاسی فریم ورک اختیار کیا' افغان پالیسی پر سیاسی اور فوجی قیادت ایک صفحے پر ہے اور اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔

وہ عالمی قوتیں جنھوں نے اس خطے میں جنگ برپا کی اب وہ یہاں قیام امن کے لیے سرگرم ہو چکی ہیں کیونکہ مستقبل کے حوالے سے اس خطے سے وابستہ ان کے مفادات میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ایک طرف چین پاکستان اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے تو دوسری جانب امریکا بھارت کے ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی اور تجارتی معاہدے کر رہا ہے۔ امریکا' چین' روس اور بھارت کی بھی یہ بھرپور خواہش ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد امن قائم ہو کیونکہ یہاں ہونے والی خانہ جنگی ان کے تجارتی مفادات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں رونما ہونے والی کسی بھی تبدیلی کے اثرات پاکستان پر مرتب ہوتے ہیں' یہاں ہونے والی جنگ سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے لہٰذا اس کی کوشش ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد امن قائم ہو کیونکہ جب تک یہاں حالات میں بہتری نہیں آتی پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ ملتا رہے گا کیونکہ اس کے ڈانڈے افغانستان ہی سے جا ملتے ہیں۔

مری مفاہمتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم ممکنہ نادیدہ قوتوں سے نمٹنے کے لیے امن عمل کی حامی قوتیں کیا پالیسی اختیار کرتی ہیں اس کے بارے میں ابھی صورت حال واضح نہیں لیکن امن کی دشمن ان قوتوں سے نہ صرف ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے بلکہ ان کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ متحرک ہونا بھی ناگزیر ہے کیونکہ یہ قوتیں مفاہمتی عمل کو ناکام بنانے کے لیے اپنا پورا زور لگائیں گی۔افغان حکومت کی تبدیلی کے باوجود وہاں پاکستان مخالف سوچ کی حامل ایک طاقتور لابی موجود ہے جو وقتاً فوقتاً پاکستان مخالف شوشے چھوڑتے رہتی ہے۔

گزشتہ دنوں بھی بعض افغان رہنماؤں نے ایسا ہی ایک معاندانہ بیان دیا کہ ''پاکستان افغانستان سے غیر علانیہ حالت جنگ میں ہے'' ان کی یہ کوشش پاکستان اور افغانستان کے درمیان زیادہ سے زیادہ فاصلے اور دوریاں پیدا کرنا بھی ہو سکتی ہے۔ موجودہ افغان صدر اشرف غنی اگر پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور خطے میں امن چاہتے ہیں تو انھیں اس لابی سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ میجر جنرل عاصم باجوہ نے بھی اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کوئی حالت جنگ میں نہیں ہے بلکہ اس نے امن کے لیے ''آؤٹ آف دی وے'' بھی افغانستان کی مدد کی ہے۔

آئی ایس آئی اور افغان خفیہ ایجنسی کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے فوج اور انٹیلی جنس کی سطح پر تعاون کو بڑھانا ہو گا' ایم او یو ایک مثبت قدم اور دونوں ملکوں نے اس حوالے سے بہت سا ہوم ورک کیا ہے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعات بہت پرانے اور پیچیدہ ہیں اگر درست سمت کی جانب پیشرفت کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ تنازعات حل نہ ہو سکیں مگر ہاں ان میں وقت لگ سکتا ہے۔

پاکستان خطے میں ہونے والی تبدیلیوں اور مفاہمتی عمل کو ناکام بنانے کی سازشوں سے بخوبی آگاہ ہے اس لیے وہ افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات ہر سطح پر مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ اس صورت حال کے تناظر میں میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ سیاسی' سفارتی اور فوجی سطح پر اعتماد کے فقدان کو کم کرنے کا قدم اٹھایا گیا اور اس حوالے سے بے مثال پیشرفت ہوئی' افغان صدر اشرف غنی نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا' ایسا پہلے نہیں ہوتا تھا۔ وہ تمام عالمی قوتیں جو افغانستان اور پورے خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن کا قیام چاہتی ہیں انھیں مشترکہ طور پر لائحہ عمل طے کرنا چاہیے تاکہ امن عمل کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم نادیدہ قوتیں اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہو سکیں۔