کراچی آپریشن جاری رکھنے کا صائب فیصلہ

کراچی میں طویل عرصے سے امن وامان کی صورتحال دگرگوںہونے کے باعث تجارتی ومعاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں


Editorial July 14, 2015
کراچی جیسے میگا سٹی میں بدترین بریک ڈاؤن کا ہونا، اور اس کے نتیجے میں پانی کی قلت ایک ایسا المیہ وسانحہ ہے، فوٹو : فائل

گزشتہ دنوں سندھ حکومت اور رینجرزکے اختیارات کے حوالے سے جو تناؤکی کیفیت پیدا ہوئی، وہ بتدریج ختم ہورہی ہے۔ پہلے سندھ حکومت نے رینجرز کے خصوصی اختیارات کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے ایک ماہ کے لیے بڑھا دیا اور اب گزشتہ روز کراچی میں سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں جو فیصلے کیے گئے ہیں، اس سے صورتحال مزید حوصلہ افزا ہوگئی ہے۔یوں اختلافات کی برف پگھلتی نظر آرہی ہے۔

اپیکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، کور کمانڈر کراچی نوید مختار،ڈی جی رینجرز سندھ بلال اکبر،چیف سیکریٹری سندھ ، آئی جی سندھ، ڈی جی ایف آئی اے سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں دہشتگردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کو مزید تیز کرنے، کالعدم تنظیموں اور دہشت گردی میں ملوث مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

یہ بھی طے پایا کہ رینجرز اختیارات کے ساتھ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرتی رہے گی اور ہر ادارہ اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرتا رہے گا۔ ادھرگزشتہ روز ہی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار سے ملاقات اہم ملاقات کی ہے' اخباری اطلاعات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے دوران ملاقات یقین دہانی کرائی کہ حکومت سندھ اور پیپلز پارٹی کراچی میں امن وامان کے قیام، دہشت گردوں اور لینڈ مافیا کے خلاف کارروائی میں بھی ہر ممکن تعاون کرے گی۔ ذرایع کے مطابق سندھ اسمبلی کے آیندہ اجلاس میں رینجرز کے خصوصی اختیارات میں اضافے کی منظوری لی جائے گی۔ سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں وہ کراچی میں قیام امن کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہیں، ابہام کے بادل چھٹ گئے ہیں، وسوسے اور خدشات نے دم توڑدیا ہے اور امید کی کرن نظر آرہی ہے۔

کراچی میں طویل عرصے سے امن وامان کی صورتحال دگرگوںہونے کے باعث تجارتی ومعاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ کئی سرمایہ دار صنعتی یونٹ بندکرکے اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرچکے ہیں، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، ہڑتالوں اور بھتہ خوری کے باعث عوام کے مصائب و آلام میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

موجودہ حکومت نے کراچی آپریشن شروع کیا تو رینجرز کی دہشتگردوں'جرائم پیشہ افراد اور بھتہ مافیا کے خلاف مسلسل اور کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں شہر میں ٹارگٹ کلنگ میں کمی واقع ہوئی اور شہری خوف وہراس کی فضا سے باہر نکل آئے۔ سندھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں سندھ میں مدارس کی سکروٹنی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں چالیس سے زائد مدارس دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

بعض مدارس کے حوالے سے ایسی اطلاعات منظر پر پہلے بھی آتی رہی ہیں' بہر حال کراچی میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کسی بھی مصلحت کو آڑے نہیں آنا چاہیے' امن دشمن خواہ کوئی بھی ہو' اس کا تعلق چاہیے کہ کسی مذہبی جماعت 'تنظیم یا مدارس سے ہو یا کسی سیاسی جماعت یا گروہ سے ہو' اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے' اس طرح ادارہ جاتی کرپشن کا خاتمہ بھی کیا جانا چاہیے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ اب حکومت اور فوج دونوں ایک پیج پر ہیں، اس مرتبہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کاجو عزم ظاہر کیا گیا ہے وہ صائب ہے۔

دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور مالی سپورٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں اس امر کی غماز ہیں کہ نیٹ ورک ٹوٹنے سے صورتحال بہتر ہوئی ہے اور مجرموں کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہوگا۔ چیف آف آرمی اسٹاف راحیل شریف آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکرچکے ہیں۔وزیراعظم پاکستان بھی اس حوالے سے واضح ہیں اور سندھ حکومت کا طرز عمل بھی اب سب کے سامنے آ گیا ہے۔

کراچی کے عوام کو امن کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ شہری سہولتوں کی' کراچی اس وقت دہشت گردی 'جرائم اور بھتہ خوری کے ہاتھوں ہی بے حال نہیں بلکہ شہری سہولتوں کے فقدان اور انتظامی بدحالی کا بھی شکار ہے۔ گزشتہ روز ایک ہفتے میں تیسری مرتبہ کے الیکٹرک کا ٹرانسمیشن سسٹم فیل ہوا، بیشتر علاقوں میں 8 سے 16 گھنٹے بجلی کی فراہمی منقطع رہی، شہری بدترین حالات میں رات بھر جاگنے پر مجبورہو گئے، جب کہ کے الیکٹرک کے انجینئرز ٹرانسمیشن لائنوں میں باربار آنے والی فنی خرابیوں پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہوئے۔

شہری مشتعل ہیں اور سڑکیں بلاک کرکے احتجاج کررہے ہیں، کراچی جیسے میگا سٹی میں بدترین بریک ڈاؤن کا ہونا، اور اس کے نتیجے میں پانی کی قلت ایک ایسا المیہ وسانحہ ہے، جس پر جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ کے الیکٹرک اور واٹربورڈ کے باعث کراچی کے عوام شدید کرب میں مبتلا ہیں، پانی کی سپلائی کے نظام میں شدید بے ضابطگی کے باعث ٹینکرمافیا کی چاندی ہوگئی ہے، پینے کا پانی دستیاب نہیں، شہری مہنگوں داموں ٹینکرز خریدنے پر مجبور ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین نے ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کو فوری طور پر کے الیکٹرک کے خلاف مظاہرے کی ہدایت کی ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ کراچی میں بجلی کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر لے کرحل کرنے کی کوشش کرے۔