ایران اور عالمی قوتوں کے درمیان تاریخی معاہدہ

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی پروگرام کے تنازعے کے حل کے لیے گزشتہ 23 ماہ سے صبر آزما سفارتی مشق جاری تھی


Editorial July 16, 2015
ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام پر معاہدے کے بعد پاکستان کے ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے کی تکمیل کے امکانات روشن ہوگئے، فوٹو : فائل

QUETTA: ایران کے ایٹمی پروگرام کا تنازع تیرہ سال کے تناؤ اور کشیدگی کے بعد بالآخر طے پا گیا۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایران اور امریکا سمیت چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پایا ہے جس کی رو سے ایران کا ایٹمی پروگرام محدود کر دیا گیا ہے اور وہ اب ایٹم بم نہیں بنا سکے گا۔ اس طرح اس کے بدلے میں ایرانی تیل کی فروخت پر اور دیگر اقتصادی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی' تجارت کے راستے کھل جائیں گے اور بیرون ملک منجمد اربوں ڈالر کے اثاثے واپس مل جائیں گے۔

اس معاہدے کو حتمی منظوری کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد ایران اپنی جوہری تنصیبات اقوام متحدہ کے معائنہ کے لیے کھول دے گا اور اسے اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو تمام جوہری تنصیبات تک مکمل رسائی دینا ہو گی جو 24 دنوں میں جوہری پروگرام کی نگرانی کے ساتھ ایران کی فوجی تنصیبات کے دوروں کا معائنہ بھی کر سکیں گے' یہ انسپکٹر طے کریں گے کہ ایران ایک مقررہ حد تک ہی یورینیم افزودہ کرے اور اس کا ذخیرہ رکھ سکے گا' اسے صرف پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو 65 روز کے اندر ایران پر تجارتی اور اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کر دی جائیں گی۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی پروگرام کے تنازعے کے حل کے لیے گزشتہ 23 ماہ سے صبر آزما سفارتی مشق جاری تھی جو اب ویانا میں 18 روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک خوشگوار انجام تک پہنچی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ کر کے ایران نے ایک بہتر فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی قیادت کے سامنے عراق کے صدام حسین اور لیبیا کے معمر قذافی کا انجام تھا' انھیں اس حقیقت کا بخوبی ادراک تھا کہ وہ امریکا اور اس کی اتحادی قوت نیٹو کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے اس طرح انھوں نے ایران کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔

امریکی صدر بارک اوباما نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کی ایٹمی تنصیبات تباہ بھی کر سکتے تھے لیکن اس سے مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ چھڑ جاتی۔ اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اگر ایران اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھتا ہے اور ایٹم بم تیار کر لیتا ہے تو اسرائیل اور امریکا یہ کبھی برداشت نہیں کریں گے اور اس طرح مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ شروع ہو سکتی ہے ۔ اس تناظر میں ایرانی قیادت نے صورت حال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے نہ صرف ایران کو بڑی تباہی سے بچا لیا ہے بلکہ اس کا مستقبل بھی محفوظ بنا لیا ہے۔

اب ایران کے بیرونی دنیا سے بند تجارتی راستے کھل گئے ہیں اور پوری دنیا سے اس کے تعلقات کی نئی شروعات ہوں گی ، پابندیاں اٹھنے کے بعد ایرانی معیشت پر جاری جمود ختم ہو جائے گا اور وہ بہتری کی جانب رواں ہو گی۔ پابندیوں کے باعث ایران کے بیرون ملک 100 ارب ڈالر کے اثاثے منجمد ہو گئے تھے اب اسے وہ اثاثے بھی مل جائیں گے۔ ایران کے اس تاریخی معاہدے کا امریکا' روس' برطانیہ' فرانس' اقوام متحدہ اور پاکستان نے بھی خیرمقدم کیا ہے۔

امریکی صدر بارک اوباما نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا بہترین طریقہ کار تھا' اس کے ایٹمی اسلحہ حاصل کرنے کی تمام راہیں بند کر دی گئی ہیں' معاہدے کے تحت ایران اپنی افزودہ یورینیم کے ذخائر تلف کر دے گا اور آیندہ دس سال یورینیم کی افزودگی میں کمی بھی کرے گا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم ایک نئے مقام پر پہنچے ہیں' ہم نے ہمیشہ کہا ان مذاکرات میں ہار جیت نہیں ہے یہ ایسے ہونے چاہئیں جو سب کو منظور ہوں' جوہری معاہدہ روکنے کی صیہونی سازشیں ناکام ہو گئی ہیں۔

جہاں عالمی طاقتوں نے اس جوہری معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے وہیں اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے معاہدے کو تاریخی غلطی قرار دیتے ہوئے اپنی ناراضی کا اظہار کیا' انھوں نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری مقاصد روکنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں کریں گے، ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا راستہ ملنے والا ہے' پابندیاں اٹھانے سے اسے سیکڑوں بلین ڈالرز کا فائدہ ہو گا جسے وہ پورے خطے اور پوری دنیا میں جارحیت اور دہشت گردی کے لیے استعمال کرے گا۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام پر معاہدے کے بعد پاکستان کے ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے کی تکمیل کے امکانات روشن ہوگئے جب کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت سمیت دیگر شعبوں میں تعلقات کے نئے دور کا آغاز بھی ممکن ہوسکے گا۔

ایران پر عالمی اقتصادی پابندیوں کے باعث پاکستان گیس منصوبے پر کوئی خاص پیشرفت نہ کر سکا تھا لیکن اب امکان ہے کہ ایران پر سے پابندیاں ہٹنے کے بعد اس منصوبے کی راہ میں حاصل رکاوٹیں بھی دور ہو جائیں گی۔ ایران کے اس معاہدے کو مثال بناتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو بھی باہمی تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے کیونکہ امن اور بقا کا یہی واحد راستہ ہے۔