سپر لیگ امارات کی سرد مہری پاکستان کو کھٹکنے لگی

اپنے بجائے ماسٹرز ایونٹ کو ترجیح دینے پر حکام سخت مایوس، قطر پر نظریں مرکوز


Sports Desk July 17, 2015
ویٹرنزایونٹ کیلیے آئی سی سی سے منظوری سمیت دیگرتقاضے پورے کرلیے، منتظمین فوٹو: فائل

سپر لیگ کے سلسلے میں امارات کی سرد مہری پی سی بی کو کھٹکنے لگی، یو اے ای کو اپنا دوسرا گھر سمجھنے والے بورڈ کے بجائے ماسٹرز ایونٹ کو ترجیح دینے پر حکام سخت مایوس ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پی سی بی نے طویل انتظار کے بعد بالآخر اپنی ٹی ٹوئنٹی لیگ آئندہ سال فروری میں یواے ای میں کرانے کا فیصلہ کرلیا تو ویٹرنز کی ماسٹرز لیگ آڑے آگئی۔ پاکستان سے ہی تعلق رکھنے والی ایک کاروباری شخصیت ظفر شاہ سابق کپتان وسیم اکرم، برائن لارا اور جیک کیلس سمیت ماضی کے کئی سپر اسٹارز پر مشتمل ایونٹ کا انعقاد فروری میں کرانے کیلیے امارات کرکٹ بورڈ سے معاہدہ کرچکے ہیں۔

پی سی بی کا خیال تھا کہ بطور نیوٹرل وینیو پاکستانی ٹیم کا دوسرا گھر سمجھے جانے والا یو اے ای دیرینہ تعلق کا خیال رکھے گا، حکام کو یہ بھی خوش فہمی ہوئی کہ نمائشی ویٹرنز لیگ کا شیڈول تبدیل کراکے اپنے ایونٹ کیلیے راہ ہموار کرنے میں کامیابی حاصل ہوجائیگی، مگر گذشتہ ماہ آفیشلز بات چیت کیلیے پہنچے تو ای سی بی کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ ایسٹ دستیاب ہی نہ ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بھی پی سی بی کی لیگ کا میڈیا کے ذریعے ہی علم ہوا لیکن ہم ماسٹرز لیگ سے معاہدہ کرچکے ہیں،اس صورتحال پر دلبرداشتہ پی سی بی نے اب قطر کو متبادل میزبان کے طور پر دیکھنا شروع کردیا ہے،آفیشلز سلمان سرور اور عثمان واہلہ گذشتہ دنوں مقامی حکام سے بات چیت کیلیے دوحا پہنچے تھے۔

ایک پی سی بی آفیشل کے مطابق ای سی بی نے تینوں وینیوز چپ چاپ ایم سی ایل کیلیے بک کرلیے جسے آئی سی سی کی منظوری بھی حاصل نہیں، ہمیں یہ بتانا تک ضروری نہیں سمجھا گیا، معاملات جس انداز میں چلائے جارہے ہیں ان پر سوالیہ نشان ہے،وہ ہماری لیگ کے منصوبے کو ابتدا میں ہی ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

ان حالات میں قطر ایک متبادل آپشن ہے۔ دوسری جانب ایم سی ایل کے چیئرمین ظفر شاہ کا کہنا ہے کہ ویٹرنزایونٹ کیلیے آئی سی سی سے منظوری حاصل کرنے سمیت دیگر تقاضے بھی پورے کرلیے ہیں،ابھی تک 168کھلاڑی رجسٹرڈ ہو چکے، لوگ ان اسٹارز کو ایکشن میں دیکھنا چاہتے ہیں، یاد رہے کہ پی سی بی حکام ظفرشاہ اور ان کی سی ای او بیٹی زارسے بھی ملے تھے لیکن قائل نہ کرسکے۔