آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے وفد نے ایڈوانس ٹی اے ڈی اے مانگ لیا

ادائیگیوں کی سمری ارسال کر دی گئی، دبئی میں پاکستانی سفارت خانہ وفدکے لیے کرائے پرکاریں بھی حاصل کرے گا، دستاویزات


Irshad Ansari July 17, 2015
آئی ایم ایف جائزہ مشن سے 29 جولائی سے 6 اگست تک مذاکرات جاری رہیں گے، وفدکے اراکین کا شرکت کا شیڈول بھی درج ہے فوٹو: فائل

SANAA: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 29 جولائی سے دبئی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرنیوالے وفدکیلیے ٹی اے ڈی اے کی مد میں ایڈوانس ادائیگیوںکیلیے فنڈز مانگ لیے گئے۔

اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت خزانہ کے ایکسٹرنل فنانس ونگ کی جانب سے آئی ایم ایف کے ساتھ آٹھویں اقتصادی جائزہ کیلیے29 جولائی کو دبئی جانے والے وفدکیلیے ایڈوانس ٹی اے ڈی اے کی مد میں ادائیگیوںکی سمری تیارکر کے منظوری کیلیے بھجوائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ 29 جولائی سے 6 اگست تک دبئی میں مذاکرات ہورہے ہیں۔

جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقارمسعود، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اشرف محمود، سیکریٹری پانی و بجلی یونس ڈھاگہ، ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ (ایکسٹرنل فنانس) یاسمین مسعود، اقتصادی مشیر سید اعجاز علی شاہ واسطی، ڈائریکٹر جنرل اکنامک ریفارم یونٹ خاقان حسین نجیب، جوائنٹ سیکریٹری ایکسٹرنل فنانس، سی اینڈ بی نوید علاؤ الدین، کوآرڈینیٹر بجٹ طالب حسین بلوچ، سیکشن افسر ایکسٹرنل فنانس اینڈ آئی ایف آر مس سحر بانو، ڈائریکٹر جنرل ڈیبٹ پالیسی کوآرڈینیشن آفس احتشام رشید،

جوائنٹ سیکریٹری وزارت پانی و بجلی زرغام اسحاق خان، وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل کے ڈائریکٹر گیس حسن محمود، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو طارق باجوہ، ممبر کسٹمز ایف بی آر نثار محمد خان، سیکریٹری کسٹمز بجٹ یاسین مرتضیٰ پر مشتمل وفد آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ مذاکرات کرے گا، دستاویز میں مذکورہ وفدکے اراکین کا مذاکرات میں شرکت کا شیڈول بھی درج کیا گیا ہے۔

جس میں تفصیلات بتائی گئی ہیں کہ وفد کے کون سے اراکین کس تاریخ کو مذاکرات کا حصہ بنیں گے، دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ دبئی میں قائم پاکستانی سفارت خانہ وفدکے لیے کرائے پرکار حاصل کرنے کے انتظامات کرے گا۔