کراچی میں با اثر وال مینوں کی اجارہ داری شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

علیٰ حکومتی شخصیات کے احکام کے باوجود واٹر بورڈ پانی کے بحران پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہوگیا


Staff Reporter July 18, 2015
 شہر میں پانی کا بحران خوفناک شکل اختیار کر گیا،ا- فوٹو : فائل

واٹر بورڈ کے نااہل افسران اور بااثر والو مینوں نے شہریوں کو پانی کی بوند بوند کے لیے ترسا دیا ، شہر بھر میں قائم واٹر پمپنگ اسٹیشنز کے والو مینوں کی اجارہ داری بدستور قائم ہے۔

اعلیٰ حکومتی شخصیات کے احکام کے باوجود واٹر بورڈ پانی کے بحران پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہوگیا، شہر بھر میں پانی کا بحران خوفناک شکل اختیار کر گیا، عیدالفطر کے موقع پر بھی شہری پانی کے حصول کے لیے مارے مارے پھرتے رہے ، ٹینکر مافیا نے ایک ہزار گیلن پانی کے ٹینکر کی منہ مانگی قیمت وصول کی۔

شہریوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے اور انھوں نے ایم ڈی واٹر بورڈ سمیت دیگر افسران کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ، تفصیلات کے مطابق شہر میں جاری پانی کا بحران بدستور خوفناک شکل اختیار کیا ہوا ہے ، واٹر بورڈ کے نااہل افسران اور والو مینوں کی ساز باز نے شہریوں کو پانی کی بوند بوند سے ترسا دیا،عیدالفطر کے حوالے سے جہاں ہر گھر کو پانی اشد ضرورت ہوتی ہے اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹینکر مافیا کی چاندی ہوگئی۔

شہریوں نے انتہائی مجبوری کی حالت میں کم از کم ایک ہزار گیلن کا ٹینکر ڈھائی سے 3 ہزار روپے میں خریدا ، اعلیٰ حکومتی شخصیات کے واضح احکام کے باوجود واٹر بورڈکے نااہل افسران شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے اور رہی سہی کسر پمپنگ اسٹیشنز پر تعینات بااثر اوررشوت خور والو مینوں نے پوری کر دی جہاں وہ ہفتہ وار بھاری رشوت کے عوض من پسند فلیٹوں ، ہوٹلوں ، شادی لانز ، سروس اسٹیشنز اورصنعتی و کمرشل ایریا کو پانی سپلائی کر دیتے ہیں جبکہ علاقے مکین رات بھر پانی کے پمپ چلا چلا کر کا انتظار ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔

جمعے کو بھی شہر بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم نہ ہوسکی جس کے باعث شہری نہ صرف عیدالفطر کے موقع پر پانی جیسی نعمت سے محروم رہے بلکہ پانی کے حصول کے لیے مارے مارے گھومتے رہے ، واٹر بورڈ کی نااہلی کے باعث جمعے کو بھی شہر کے مختلف علاقوں لانڈھی ، شاہ فیصل کالونی ، قائد آباد ، زمان ٹاؤن ، ابراہیم حیدری ، کورنگی ، نارتھ کراچی ، نیو کراچی ، شادمان ٹاؤن ، بفرزون ، نارتھ ناظم آباد ، ناظم آباد ، پاپوشنگر ، گول مارکیٹ ، رضویہ سوسائٹی ، گلبہار ، اورنگی ٹاؤن، قصبہ کالونی ، اتحاد ٹاؤن ، بلدیہ ٹاؤن ، موچکو ، بلوچ کالونی ، محمود آباد ، شیر شاہ ، لیاقت آباد ، جمشید کوارٹرز ، گلشن اقبال ، گلستان جوہر ، مارٹن کوارٹرز ، لائنز ایریا ، نمائش ، سولجر بازار اور گارڈن سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔

شہر میں جاری پانی کے بدترین بحران پر شہریوں کا کہنا ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب واٹر بورڈ انتظامیہ کی جانب سے یہ الزام نہ لگایا گیا ہوکہ شہر کو پانی سپلائی کرنے والے پمپنگ اسٹیشنز پر کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لاکھوں گیلن پانی فراہم نہیں ہوسکا جبکہ اس حوالے سے کے الیکٹرک کا موقف بالکل برعکس ہوتا ہے تاہم دو اداروں کی لڑائی کا خمیازہ براہ راست عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے ۔