پاک بھارت مذاکرات کا عمل جلد شروع ہونا چاہیے

ہندوستان کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ وہ سپرپاور بننے کے زعم میں اپنے پڑوسی ممالک سے تعلقات کو بہتر رکھے


Editorial July 21, 2015
پاکستان، بھارت کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے والا ہے اور جب مذاکراتی عمل شروع ہوگا ، جموں وکشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔ فوٹو : فائل

ایک جانب تو اہل وطن عید کی خوشیاں منارہے تھے، تو دوسری جانب پاکستانی سرحدی علاقوں میں رہنے والے بھارتی جارحیت کا شکار تھے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کی وجہ سے واہگہ بارڈر پرعیدکے موقعے پر پاک بھارت سیکیورٹی حکام کے درمیان تحائف کا تبادلہ بھی نہ ہوسکا ۔جب کہ یہ ایک روایت رہی ہے کہ دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان قومی اورمذہبی تہواروں کے موقعے پر مٹھائیوں کا تبادلہ ہوتا ہے، جب کہ مغربی بنگال میں سرحد پر بھارت اور بنگلہ دیش کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان تحائف اور مٹھائیوں کا تبادلہ ہوا ہے ۔

پاکستان نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا ہے اور اسے اوفا سمجھوتے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ گزشتہ چنددنوںسے بھارتی فورسز کی اشتعال انگیزی قابل مذمت ہے ۔بنتی ہوئی بات کو بگاڑنے کا ہنر کوئی سیکھنا چاہے تو بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور فوج سے سیکھے، ایک جانب تو اوفا میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد کی ملاقات خوشگوار موڈ میں ہوتی ہے اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری لانے اور ڈائیلاگ کا سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا وہاں سے جوڑنے کی نوید سنائی جاتی ہے ۔

تو دونوں ممالک کے عوام پرامید نگاہوں سے اپنے حکمرانوں کی طرف دیکھتے ہیں کہ اگر خطے میں تناؤ،کشیدگی اور جنگ کے بادل چھٹ جاتے ہیں، تو امن کی خوشبو لوٹ آئے گی، پر ہوا اس کے برعکس پہلے تو بھارتی جاسوس ڈرون نے چند روز پہلے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور جسے مارگرایا گیا تو بھارت افواج نے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر اپنی توپوں کے دہانے کھول دیے، جس سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے افراد شدید جانی ومالی نقصان پہنچا، پانچ پاکستانی شہید ہوئے اور آٹھ افراد شدید زخمی ۔ پاکستان نے بھارت کے ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھوان کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے بھارت کے جاسوس طیارے کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور ورکنگ باؤنڈری پر بلااشتعال فائرنگ پر شدید احتجاج کیا۔ بھارتی قیادت کو صورت حال کی سنگینی کا ادراک کرنا چاہیے۔

کشیدگی برقرار رہتی ہے تو سرحدی جھڑپیں ہونے یا جنگ چھڑنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ۔آخر یہ سوال بار بار ذہن میں اٹھتا ہے کہ جب بھی دونوں وزرائے اعظم کے دوران ملاقات ہوتی ہے تو نہ جانے کیوں کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔کیا بھارتی اسٹبلشمنٹ اور فوج نہیں چاہتی کہ خطے میں امن ہو، یا پھر انتہا پسند جماعت حکمراں اس کے کرتا دھرتا نہیں چاہتے جو امن اور اکھنڈ بھارت کے لایعنی خواب دن میں دیکھتے ہیں،ایک طرف عالمی دباؤ پر بھارتی وزیراعظم ،پاکستانی وزیراعظم سے ملنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور دوسری طرف گولہ باری اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کے واقعات رونما ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔

یہ درست ہے کہ دونوں ممالک میں انتہاپسندانہ سوچ رکھنے والے افراد پائے جاتے ہیں، لیکن ان کو اقلیت ہی کہا جائے گا، واضح اکثریت توچاہتی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات معمول پرآجائیں ۔دشمنی اورعناد میں کسی کا فائدہ نہیں ہے، ہندوستان کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ وہ سپرپاور بننے کے زعم میں اپنے پڑوسی ممالک سے تعلقات کو بہتر رکھے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ بھارت سے تمام حل طلب امور پر گفت وشنید کی جائے اور مسئلہ کشمیر جو پاک بھارت تعلقات میں اصل رکاوٹ ہے اس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے ۔

اس ضمن میں واضح رہنا چاہیے کہ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ اور خطے میں بالعموم امن اور ہم آہنگی کا جذبہ برقرار رکھنے کے لیے یہ بات انتہائی اہمیت رکھتی ہے کہ جنگ بندی کے معاملے پر 2003 کی مفاہمت کو برقرار رکھا جائے۔ دفتر خارجہ نے گزشتہ دنوں اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں کشمیر سے متعلق بھارتی ہائی کمشنر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، اس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں،کوئی بھی یکطرفہ بیان کشمیر کی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ پاکستان، بھارت کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے والا ہے اور جب مذاکراتی عمل شروع ہوگا ، جموں وکشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔

امن وہم آہنگی پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے۔ دفترخارجہ نے جو موقف جاری کیا ہے وہ انتہائی صائب ہے۔ دراصل پڑوسی بدلے نہیں جاسکتے، بھارت کو پاکستان کے ساتھ رہنا ہے اور پاکستان کو بھارت کے ساتھ ۔ تو بجائے لڑنے جھگڑنے اور ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیاں کرنے کے مل جل کر اچھے پڑوسی کی طرح بھی رہا جاسکتا ہے ۔

دونوں ممالک میں موجود نان اسٹیٹ ایکٹرز امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ، جب بھی امن کی بات چیت آگے بڑھنے لگتی ہے' کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں مذاکرات کا عمل رک جاتا ہے۔ صورتحال کا حقیقت پسندانہ تجزیہ تو یہی بنتا ہے کہ اوفا اجلاس کی روشنی میں دونوں ممالک کے متعلقہ حکام ملاقات کا وقت طے کرکے تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت کا آغاز فوراء کریں تاکہ مایوسی کے بادل چھٹ جائیں اور امن کی ہوائیں چلنے لگ جائیں ۔