تصادم سے تعاون کی طرف مراجعت

کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کا حل استصواب رائے میں مضمر ہے۔


Editorial July 23, 2015
بھارتی سیاست دانوں اور مودی حکومت کو تاریخ کے اس نازک مرحلہ میں پاک بھارت تعلقات کو ہر قسم کے تصادم سے دور رکھنے کی سعی کرنی چاہیے، فوٹو : فائل

KARACHI: بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ اوفا میں وزیراعظم نوازشریف اور بھارتی ہم منصب کے درمیان ملاقات تعلقات کی بحالی کے لیے اچھی شروعات ہیں ، پاکستان اس مثبت جذبے کو برقرار رکھنے کے لیے پر عزم ہے، انھوں نے کہا کہ کشمیری پاک بھارت مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں، پاکستان استصواب رائے کے لیے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان اور بھارت تصادم سے تعاون کی جانب بڑھ سکتے ہیں، دونوں ممالک کو تنازعات دوطرفہ مذاکرات سے حل کرنے چاہئیں، وہ منگل کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں عید ملن پارٹی سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عید ملن پارٹی کا اہتمام پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے کیا گیا تھا جس میں حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق اور دیگر حریت رہنماؤں ، دہلی جامع مسجد کے امام سید بخاری، کانگریس کے لیڈر مانی شنکر آئر اور عام آدمی پارٹی کے رہنما الیاس اعظمی و دیگر نے شرکت کی۔ ظاہر ہے یہ عید کی پر مسرت تقریب تھی جس میں معزز مہمانوں کو مدعو کر کے دونوں ملکوں کے عوام تک یہ پیغام پہنچانا تھا کہ جدید صدی اور عہد کے نئے تزویراتی حقائق تصادم یا جنگ سے زیادہ تعاون اور بقائے باہمی کی ضرورت بن چکے ہیں، اسی خیال سے پاکستانی ہائی کمیشن نے عید ملن پارٹی کا اہتمام کیا۔

مگر پاک بھارت تعلقات کی تاریخی حرکیات کا یہ عجیب و دلچسپ سا قصہ ہے کہ بھارتی سرکار پاکستان کی طرف سے خیرسگالی کے اظہار کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھتی ہے جب کہ دو طرفہ جامع بات چیت کا سلسلہ بھی اگر ٹوٹا تھا تو بھارت قصور وارتھا، بھارتی میڈیا نے انڈین سیاست کو اس ناکامی پر آڑے ہاتھوں بھی لیا ، اس تقریب میں ہوا یہ کہ ایک حریت رہنما سید علی گیلانی اوفا ملاقات میں کشمیر کا ذکر نہ ہونے پر احتجاجاً عید ملن پارٹی میں شریک نہیں ہوئے جب کہ حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے بھی اوفا کانفرنس میں کشمیر کا ذکر نہ کیے جانے پر اپنی رنجش سے ہائی کمشنر کو مطلع کیا

بعد ازاں ہائی کمشنر عبدالباسط نے عید ملن پار ٹی میں شرکت پر میر واعظ عمر فاروق کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی ہائی کمشنر نے تصفیہ طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان، وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے، اب سفارتی فعالیت کا دو طرفہ تقاضہ ہے کہ آیندہ مہینوں میں جو مذاکرات ہونگے تو وہ اس یقین کے ساتھ ہوں کہ تنازعات ٹریک ٹو بیک ڈور چینل کے ذریعے ڈائیلاگ کی بحالی سے مشروط ہونگے۔پاکستانی سفارت کار نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے قریب آئیں ۔میر عمر واعظ نے بھی تقریب کے دوران زور دیا کہ کشمیر کو فوکس کیے بغیر پاک بھارت مذاکرات کبھی با ثمر ثابت نہیں ہونگے۔

یہ انداز فکر غیر حقیقت پسندانہ یا جارحانہ نہیں ، کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کا حل استصواب رائے میں مضمر ہے۔ اس سمت میں بھارت کو پیش قدمی کر کے خطے کے اس دیرینہ مسائل کا کوئی آبرومندانہ حل تلاش کرنے میں کشمیری رہنماؤں کو بات چیت میں اہم کردار دینا ہوگا۔ اپنے معتدل رویے اور زمینی حقیقتوں سے جڑی ہوئی سوچ کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے جن جذبات کا اظہار کیا ہے وہ اس تقریب کا اصل نچوڑ ہے۔

بھارت کے ممتاز اخبار انڈین ایکسپریس نے شوبھا جیت رائے کی رپورٹ شایع کی ہے جس میں تبصرہ کیا گیا کہ '' جب تقریب میں ملائی تکا اور بجرنگی بھائی جان کا ذکر چھڑجائے تو پھر کاہے کی دشمنی'' ادھر بھارت نے کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے سربراہ سید علی گیلانی کو سعودی عرب جانے کے لیے پاسپورٹ دیدیا ہے تاکہ وہ سعودی عرب جا کر اپنی بیمار بیٹی کی عیادت کرسکیں۔ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ علی گیلانی نے اپنی درخواست میں خود کو بھارتی شہری ظاہر کیا ہے اور انھیں 20 سال بعد پاسپورٹ جاری کیا گیا ہے۔

وقت آگیا ہے کہ پاک بھارت کشمیر سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے مکالمہ کی میز پر آجائیں۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پانچ روز قبل سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر اور گزشتہ روز ایک بھارتی کمانڈر جنرل کے ایچ سنگھ نے لائن آف کنٹرول پر مبینہ فائرنگ پر پاکستان کو غیر متوقع نقصان کی دھمکیاں دیں مگر پاکستانی ہائی کمیشن کی عید ملن پارٹی کے باعث سب ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔ قبل ازیں 15جولائی کو لائن آٓف کنٹرول پر بھارتی ڈرون جاسوس طیارے کا پاکستانی فوج کے ہاتھوں مار گرائے جانے کا واقعہ پیش آیا جس کی بھارت نے بوجوہ تردید کی۔

حال ہی میں ایک سروے میں 55فیصد پاکستانیوں نے افغانستان اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں بھارت کو پاکستان کا بدترین ریاستی دشمن قرار دے دیا ہے ، تنظیم میڈیا ڈور نے اپنی سوشل سائیٹ پر سوال کیا کہ خطے میں پاکستان کی داخلی و خارجی صورتحال میں سب سے زیادہ خطرہ کس ملک سے ہے؟ سوال میں بھارت، افغانستان اور بنگلہ دیش کا نام لکھا گیا تھا۔ بھارتی سیاست دانوں اور مودی حکومت کو تاریخ کے اس نازک مرحلہ میں پاک بھارت تعلقات کو ہر قسم کے تصادم سے دور رکھنے کی سعی کرنی چاہیے جب کہ دوطرفہ بات چیت سے مسائل اور تنازعات کا حل ڈھونڈنے میں پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے۔